تلے ہوئی کھانوں کا بڑے پیمانے پر لطف اٹھایا جاتا ہے خاص طور پر فرنچ فرائز۔ لیکن ان میں چکنائی کی زیادہ مقدار صحت کے مسائل جیسے موٹاپے اور ہائی بلڈ پریشر سے منسلک ہوتی ہے۔یونیورسٹی آف الینوائے کے محققین نے پایا ہے کہ مائیکرو ویو فرائینگ فرنچ فرائز بنانے کے روایتی طریقے سے زیادہ بہتر ہوسکتی ہے۔ سائنسدانوں کے نتائج بتاتے ہیں کہ روایتی فرائیز کو مائیکرو ویو ہیٹنگ کے ذریعے فرائی کرنے سے تیل کے جذب کو کم کیا جا سکتا ہے جبکہ انہیں کرسپی ساخت کو بھی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔یہ طریقہ کھانا پکانے کے اوقات کو بھی کم کر سکتا ہے جس سے یہ بڑے پیمانے پر خوراک کی پیداوار کے لیے پرکشش ہو جاتا ہے۔ماہرین نے بتایا کہ صارفین صحت مند غذا چاہتے ہیں لیکن خریداری کے وقت ان کی خواہش اکثر غلبہ پا لیتی ہے۔ تیل کی زیادہ مقدار ذائقے میں اضافہ کرتی ہے لیکن اس میں بہت زیادہ توانائی اور کیلوریز بھی ہوتی ہیں۔

ایک ایسے زمانے میں جب وقت دیکھنے کے لیے اسمارٹ فونز اور ڈیجیٹل اسکرینز ہر جگہ موجود ہیں، نوجوان نسل یعنی جین زی روایتی کلائی پر باندھنے والی گھڑیوں کی طرف تیزی سے مائل ہورہی ہے۔ حیران کن طور پر وہی گھڑیاں جنہیں کبھی پرانا اور غیر ضروری سمجھا جانے لگا تھا، آج کے نوجوانوں کے لیے ایک خاص کشش اور جذباتی اہمیت اختیار کرچکی ہیں۔امریکا کی ریاست یوٹاہ سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ یوٹیوبر ایون فرائی اس رجحان کی واضح مثال ہیں، جن کے پاس 35 سے زائد قیمتی گھڑیاں موجود ہیں۔ ان کے کلیکشن میں سب سے نمایاں ’ٹیگ ہیور کیریرا‘ ہے، جسے انہوں نے ہالی ووڈ اداکار ریان گوسلنگ سے متاثر ہو کر خریدا۔ ایون کے مطابق گھڑیاں محض وقت بتانے کا ذریعہ نہیں بلکہ یادوں اور تاریخ کو اپنے اندر سموئے ہوتی ہیں۔مارکیٹ رپورٹس بھی اس رجحان کی تصدیق کرتی ہیں۔ لگژری گھڑیوں کے ری سیل پلیٹ فارم ’بیزل‘ کے مطابق ان کی فروخت کا تقریباً ایک تہائی حصہ 30 سال سے کم عمر خریداروں پر مشتمل ہے، جو نہ صرف گھڑیاں خرید رہے ہیں بلکہ مہنگی گھڑیوں پر زیادہ خرچ بھی کر رہے ہیں۔اسی طرح ’کرونو 24‘ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کلاسک ڈریس واچز کی خریداری میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ماہرین کے مطابق چونکہ جین زی مکمل طور پر ڈیجیٹل ماحول میں پلی بڑھی ہے، اس لیے اس میں ایسی چیزوں کی خواہش زیادہ ہے جو حقیقی ہوں، جنہیں چھوا جا سکے اور جو وقت کے ساتھ قائم رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان اکثر ایسی گھڑیاں تلاش کرتے ہیں جو ماضی کی یادوں سے جڑی ہوں، جیسے وہ ڈیزائن جو ان کی دادی یا نانی استعمال کیا کرتی تھیں۔دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اب گھڑیوں میں مردانہ اور زنانہ کی تفریق بھی دھندلا رہی ہے۔ نوجوان لڑکے بھی باریک اور نفیس ڈیزائن کی گھڑیاں پہننے لگے ہیں، جس کا رجحان معروف شخصیات کے انداز سے مزید مضبوط ہوا ہے۔ بڑے ایوارڈ شوز میں جب اداکار منفرد گھڑیاں پہن کر نظر آتے ہیں تو ان ڈیزائنز کی مانگ میں فوری اضافہ دیکھا جاتا ہے۔مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ آج کی نسل کے لیے گھڑی کا مقصد صرف وقت دیکھنا نہیں رہا۔ کچھ نوجوان ایسی گھڑیاں بھی خرید لیتے ہیں جو چلتی بھی نہیں، کیونکہ وہ انہیں فیشن ایکسیسریز یا زیور کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض کم عمر صارفین یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں سوئیوں والی گھڑی سے وقت پڑھنا نہیں آتا، مگر اس کے باوجود وہ اسے پہننا پسند کرتے ہیں۔یہ بدلتا ہوا رجحان اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی کلاسک اور مکینیکل چیزوں کی اہمیت ختم نہیں ہوئی بلکہ وہ ایک نئے انداز میں دوبارہ مقبول ہو رہی ہیں، جہاں گھڑی صرف وقت نہیں بلکہ شخصیت، یاد اور انداز کی نمائندگی بن چکی ہے۔

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 11 میں لاہور قلندرز نے ملتان سلطانز کو 20 رنز سے شکست دے دی۔
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے بارش سے متاثرہ میچ میں ملتان سلطانز نے 186 کا تعاقب کرتے ہوئے 13 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 165 رنز اسکور کیے۔
سلطانزکی جانب سے کپتان ایشٹن ٹرنر 52 رنز ناٹ آؤٹ بنا کر نمایاں رہے۔ شان مسعود 44، عرفات منہاس 25، صاحبزادہ فرحان 24، اسٹیون اسمتھ 9 اور جوش فلیپی 1 کے اسکور پر آؤٹ ہوئے۔
قلندز کی جانب سے مستفیض الرحمان نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔ شاہین شاہ آفریدی، عبید شاہ اور سکندر رضا نے 1، 1 کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
اس سے قبل ملتان سلطانز کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے لاہور قلندرز نے 13 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 185 رنز اسکور کیے۔
قلندرز کی جانب سے محمد نعیم دھواں دار 60 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ پرویز حسین ایمان 45، عبداللہ شفیق 33، آصف علی 8 اور روبِن ہرمن 3 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
سکندر رضا 13 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
ملتان سلطانز کی جانب سے محمد اسماعیل نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔ پیٹر سڈل اور فیصل اکرم نے 1، 1 کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

ماہرینِ صحت نے ایک سادہ مگر مؤثر عادت کی نشاندہی کی ہے جو روزمرہ زندگی میں شامل کر کے بڑی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق کھانے کے بعد محض 10 سے 15 منٹ کی ہلکی چہل قدمی جسم پر مثبت اور دیرپا اثرات مرتب کرتی ہے، جو نہ صرف ہاضمے بلکہ مجموعی صحت کو بھی بہتر بناتی ہے۔تحقیقی نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ کھانے کے فوراً بعد تھوڑی دیر چلنے سے معدہ اور آنتوں کی کارکردگی تیز ہو جاتی ہے، جس سے کھانا جلد ہضم ہوتا ہے اور بدہضمی یا بھاری پن کی شکایت کم ہو جاتی ہے۔اسی کے ساتھ یہ معمول خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ چہل قدمی کے دوران پٹھے گلوکوز کو توانائی کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جس سے شوگر لیول اچانک بڑھنے سے بچ جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ مکمل ورزش کا نعم البدل نہیں، لیکن روزانہ کی بنیاد پر مختصر واک وزن کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ اضافی کیلوریز جلانے کے ساتھ ساتھ غیر ضروری کھانے کی عادت کو بھی کم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ہلکی پھلکی چہل قدمی ذہنی سکون میں اضافہ کرتی ہے کیونکہ اس سے خوشی کے ہارمونز خارج ہوتے ہیں جو تناؤ کو کم کرتے ہیں اور توجہ بہتر بناتے ہیں۔دل کی صحت کے حوالے سے بھی یہ عادت نہایت مفید قرار دی گئی ہے۔ چہل قدمی خون کی روانی کو بہتر بناتی ہے، بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے اور دل کے امراض کے خطرات کو کم کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ نیند کے معیار کو بھی بہتر بناتی ہے، خاص طور پر اگر شام کے وقت ہلکی سرگرمی اپنائی جائے۔ماہرین کے مطابق کھانے کے بعد 30 سے 60 منٹ کے اندر ہلکی یا درمیانی رفتار سے واک کرنا بہترین نتائج دیتا ہے۔ اگر فوری طور پر چلنا ممکن نہ ہو تو چند منٹ انتظار کے بعد چہل قدمی شروع کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھانے کے بعد فوراً لیٹنے یا موبائل میں مصروف ہونے کے بجائے یہ چھوٹی سی عادت اپنانا طویل مدت میں صحت کے لیے نہایت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 80 روپے لیوی کی مد میں کمی کا اعلان کر دیا اور پیٹرول کی نئی قیمت فی لیٹر 378 روپے مقرر کردی ہے
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا کہ خلیج میں جنگ کے باعث پورے خطے میں تیل کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں اور تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے نے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور یہ ایسی تلخ حقیقت ہے کہ غریب کا چولھا مدھم ہو رہا ہے، کسان کے لیے بے پناہ مشکلات پیدا ہوچکی ہیں اورعام آدمی کے لیے نئے چیلنجز ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آج عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے اور مہنگائی جس نے دنیا کی طاقت ور معیشتوں کی بھی کمر توڑ دی ہے یقیناً پاکستان بھی اس سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے، اسی لیے پچھلے تین ہفتوں میں عوام پر ہر روز تیل کی قیمتوں میں اضافےکا بوجھ ڈالنا میں نے قطعاً مناسب نہیں سمجھا۔
انہوں نے کہا کہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ پاکستان میں ایک عام آدمی کس طرح زندگی بسر کرتا ہے، عوام کے بے پناہ مسائل ہیں اس لیے ان تین ہفتوں میں قومی وسائل سے 129 ارب روپے خرچ کرکے آپ تک اس قیامت خیز طوفان کو پہنچنے نہیں دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم سب اللہ سے دست بدعا ہیں کہ جنگ جلد سے جلد بند اور امن قائم ہوجائے، اس کے لیے پاکستان کی حکومت نے، میں نے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے انتہائی خلوص نیت کے ساتھ جب سے جنگ کا آغاز ہوا ہے، امن قائم کرنے کے لیے دن رات کاوشیں کر رہے ہیں اور اس وقت تک اپنا یہ فرض نبھاتے رہیں گے جب تک آگ کے شعلے بجھ نہیں جاتے۔
انہوں نے کہا کہ کل قومی مشاورت کے حوالے سے وزیرخزانہ اور وزیر پیٹرولیم نے آئندہ کے لیے اعلانات کیے، اس کے پیچھے بھرپور مشاورت ہوئی، صدر پاکستان کا مشکور ہوں جنہوں نے پوری قومی قیادت کو ایوان صدر میں دعوت دی جہاں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم، گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اور دیگر زعما موجود تھے اور اس کے اگلے دن وزیراعظم ہاؤس میں بھرپور مشاورت ہوئی اور کل بھی بھرپور اجتماع میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ تشریف فرما تھے، آزاد کشمیر کے وزیراعظم، گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اور وفاقی وزرا سب موجود تھے، لہٰذا بڑی عرق ریزی کے بعد جامع پروگرام کا اعلان کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں بعض ممالک میں میلوں لمبی قطاریں لگیں اور لوگوں کو بےپناہ تکلیف ہوئی لیکن پاکستان میں ہم نے اجتماعی کاوشوں اور بروقت فیصلوں کے ذریعے ان تمام معاملات کو دوررکھا، اب کل کے اعلانات کے مطابق موٹر بائیک کو ایک لیٹر کے اوپر100 روپے کی سبسڈی دی جائے گی، ہم نے فیصلہ کیا کہ جو گڈز اور پبلک ٹرانسپورٹ میں مال بردار گاڑیوں کو سپورٹ دینے کے لیے ایک ماہ تک 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے سبسڈی دی جائے گی، چھوٹے ٹرکوں کو 70 ہزار روپے، بڑے ٹرکوں کو 80 ہزار روپے، پبلک ٹرانسپورٹ بسوں کو ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جائے گی تاکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور کرایوں کا بوجھ آپ پر نہ پڑے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے چھوٹے کسانوں کے لیے 1500 روپے فی ایکڑ امداد مہیا کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، اسی طرح پاکستان ریلوے کے حوالے سے فیصلہ کیا کہ اکانومی کلاس کے ڈبوں میں مسافروں کے لیے کرایہ نہیں بڑھایا جائے گا، اس حوالے سے وزارت ریلوے کو واضح ہدایات جاری کردی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کل کیے گئے تمام اعلانات تمام قومی جذبات سے بھرے اقدامات کے لیے صوبائی وزرائے اعلیٰ مریم نواز، مراد علی شاہ، سہیل آفریدی، میرسرفراز بگٹی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس قومی مقصد کے لیے اپنے وسائل مہیا کرنے کے لیے بلاتاخیر وعدے کیے اور یہی وقت کی آواز ہے اور یہ وہ موقع ہے جس وقت اس تاریخ کے بہت بڑے چیلنج کا مقابلہ صرف اور صرف قومی یک جہتی اتفاق اور اتحاد کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے تمام شہروں کے اندر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا بڑا اعلان کر دیا۔وزیراعظم شہباز شریف کے قومی بچت اور کفایت شعاری کے جامع پروگرام پر پنجاب میں وسیع عمل درآمد کا آغاز ہوگیا۔ وزیراعلیٰ نے تاریخی عالمی بحران میں پنجاب کے عوام کے ریلیف کے لیے بڑے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا۔فیصلے کے مطابق اورنج لائن ٹرین، میٹرو بس سروس، اسپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس میں سفر کے دوران شہریوں کو ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا۔اس کے ساتھ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے زراعت، خوراک اور کسان کے تحفظ کے لیے نقد رقم دینے کا بھی فیصلہ کیا۔ انہوں نے کاشت کاروں کو فی ایکڑ فی لیٹر ڈیزل پر 100 روپے سبسڈی کا اعلان بھی کر دیا۔موٹر سائیکل سواروں کو سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے تحت ہر رجسٹرڈ بائیک والے شہری کو 20 لیٹر پر 100 روپے سبسڈی ملے گی

پیٹرولیم مصنوعات میں بڑے اضافے کے بعد آئل ٹینکر کنٹریکٹر ایسوسی ایشن نے کرائے بڑھانے کیلئے ہڑتال کی دھمکی دے دی۔آئل ٹینکر کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کے صدر عبداللہ آفریدی نے کہا ہے کہ کل کسی بھی آئل ٹینکر کو لوڈ نہیں کیا جائے گا، موجودہ کرایوں میں کام کرنا ممکن نہیں، شدید مالی نقصان کا خدشہ ہے، نقصان سے بہتر ہے گاڑیاں کھڑی رکھیں۔عبداللہ آفریدی نے کہا کہ آئل ٹینکرز کی ہڑتال کے باعث خیبرپختونخوا، پنجاب سمیت دیگر علاقوں میں سپلائی متاثر ہونے کا امکان ہے، ایک ہفتے سے حکام سے رابطے جاری ہیں، وزیر پیٹرولیم علی پرویز سے متعدد بار رابطہ اور خطوط ارسال کرچکے ہیں، مذاکرات کی درخواست کی مگر کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی۔آئل ٹینکر کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کے صدر نے مزید کہا کہ پائپ لائن کوٹے میں تبدیلی سے ٹینکر مالکان متاثر ہورہے ہیں، جب تک کرایہ نہیں بڑھایا جاتا، ٹینکرز نہیں چلیں گے، مطالبات منظور نہ ہوئے تو ملک گیر ہڑتال اور احتجاج کا اعلان کیا جائے گا، ٹینکر مالکان سے اپیل گاڑیاں بند رکھیں اور احتجاج میں حصہ لیں۔

وزارت خزانہ کے ذرائع نے کہا ہے کہ تمام شرائط پوری کیے جانے کے بعد اب پاکستان کے لیے آئی ایم ایف فنڈ کی منظوری میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے ایکسٹنڈڈ فنڈ فسیلیٹی پروگرام کے تحت پاکستان کے تیسرے اقتصادی جائزہ پر ہونے والے اسٹاف لیول معاہدے اور ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی منظوری دینے کے لیے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس آئندہ ماہ( مئی )کے پہلے ہفتے منعقد ہوگا۔اس حوالے سے وزارت خزانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کی تمام شرائط پوری کردی ہیں اور آئی ایم ایف کو دوست ممالک کے قرض کے رول اوور کی یقین دہانی کرا دی گئی ہے، اس لیے اب آئی ایم ایف سے قرضے کی اگلی قسط کے اجرا کی منظوری کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ذرائع نے بتایا کہ توقع ہے کہ آئندہ ماہ ہونے والے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں ای ایف ایف کے تحت قرضے کی اگلی قسط اور کلائمیٹ فنانسنگ کے آر ایس ایف پروگرام کی 21 کروڑ ڈالر کی اگلی قسط بھی ملے گی۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو پیٹرولیم پر ٹارگٹڈ سبسڈی سے متعلق اعتماد میں لیا گیا ہے۔ اسی طرح تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ صارفین کو منتقل کرنے سے پہلے آئی ایم ایف سے مشاورت کی گئی ہے۔ٹارگٹڈ سبسڈی کی رقم رواں مالی سال کے بجٹ سے خرچ ہوگی اور مشکل حالات کے لیے 300 ارب کے ہنگامی فنڈز بھی دستیاب ہیں۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای کے ڈیپازٹس طویل مدت کے لیے روول اوور کرنے پر بات چیت جاری ہے اور توقع ہے کہ یو اے ای پاکستان کے ذمہ قرضہ جلد رول اوور کر دے گا۔ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کو دوست ممالک کے قرض کے رول اوور کی یقین دہانی کرا دی گئی ہے جبکہ اس وقت اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں سعودی عرب کے 5 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس ہیں، چین کے 4 ارب ڈالر اور یو اے ای کے 3 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس ہیں۔یو اے ای کے 2 ارب ڈالر رواں ماہ اور ایک ارب ڈالر کی واپسی جولائی میں ہونا ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔ تمام ادائیگیاں بروقت ہوں گی۔

اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں 6.3 زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق اسلام آباد، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے باعث عوام خوفزدہ ہوگئے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر شدت 6.3 ریکارڈ کی گئی جبکہ زیر زمین گہرائی 190 کلومیٹر اور مرکز کوہ ہندوکش افغانستان میں تھا۔
زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد، چترال، پشاور، سوات، شانگلہ، چترال اور لاہور سمیت مختلف مقامات پر محسوس ہوئے۔
آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے تمام افسران کو اپنے علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لینے کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ کسی علاقے میں کوئی واقعہ پیش آیا ہو تو فوری مدد کی جائے۔ تمام افسران اپنے علاقوں کی رپورٹ فوری بھجوائیں۔
اُدھر پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے بتایا کہ پنجاب میں زلزلے کے باعث کوئی جانی یا مالی نقصان رپورٹ نہیں ہوا، لاہور، میانوالی، جھنگ، فیصل آباد، راولپنڈی، پوٹھوہار ریجن سرگودھا اور دیگر اضلاع میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ پی ٹی ایم اے کا صوبائی کنٹرول روم اور پنجاب کے ضلعی ایمرجنسی سینٹر فعال ہیں، نقصانات کی اطلاع ہیلپ لائن 1129 پر دی جاسکتی ہے۔

حکومت نے پیٹرول پر لیوی میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا جس کے بعد پیٹرول پر لیوی بڑھ کر 160.61 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، اس سے پہلے پیٹرولیم لیوی 106 روپے فی لیٹر تھی۔ہائی اوکٹین پر لیوی 305 روپے 37 پیسے فی لیٹر اور مٹی کے تیل پر لیوی 20 روپے 36 پیسے فی لیٹر کردی گئی، لائٹ ڈیزل پر 15 روپے 84 پیسے اور فرنس آئل پر لیوی 77 روپے فی میٹرک ٹن کردی گئی۔ رواں مالی سال پیٹرولیم لیوی کا ہدف ایک ہزار 468 ارب روپے مقرر ہے، لیوی کی شرح بلند ہونے سے نان ٹیکس ریونیو میں مزید اضافہ متوقع ہے۔واضح رہے کہ حکومت نے گزشتہ روز پیٹرول 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت اضافے کے بعد 520 روپے 35 پیسے ہوگئی۔مٹی کے تیل اور جیٹ فیول کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے، اوگرا کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق مٹی کا تیل بھی 34 روپے 8 پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا ہے۔ اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 467روپے 48 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔جیٹ فیول کی قیمت میں مزید 40 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا جس کے بعد نئی قیمت 517 روپے 17 پیسے فی لیٹر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے