وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے عیدالفطر کے پیش نظر اپنے طور پر اور برادر اسلامی ممالک کی درخواست پر افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن غضب اللحق میں 5 روز تک عارضی طور پر وقفہ کردیا ہے۔وفاقی وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ عیدالفطر کے پیش نظرحکومت پاکسان نے اپنے طور پر اقدام کرتے ہوئے اور برادر اسلامی ممالک سعودی عرب، قطر اور ترکی کی درخواست پر افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کو مدد فراہم کرنے والے ڈھانچے کے خلاف جاری آپریشن غضب اللحق میں عارضی طور پر وففے کے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپریشن غضب للحق میں وقفہ 18 اور 19 مارچ 2026 کی درمیانی شب سے 23 اور 24 مارچ 2026 کی درمیانی شب تک لاگو ہوگا۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان یہ وقفہ نیک نیتی اور اسلامی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کر رہا ہے تاہم سرحد پار سے کسی بھی حملے، ڈرون حملے یا دہشت گردی کے واقعے پر’آپریشن غضب للحق’ فوری دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خطے کی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے نفاذ پر جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس کو کفایت شعاری اور بچت کے اقدامات پر عملدرآمد کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق وزیرِ اعظم کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے، انٹیلی جینس بیورو تمام اقدامات پر عملدرآمد کی نگرانی رپورٹ پیش کرے گی.، ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا ضروریات کے مطابق مناسب ذخیرہ موجود ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین کو بہتر بنانے کیلئے وزیرِ پیٹرولیم مزید متحرک ہوں، حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں۔بریفنگ کے مطابق تمام صورتحال کی نگرانی کی جارہی ہے، اور پیٹرولیم مصنوعات کا ریکارڈ رکھا جارہا ہے، تاکہ کسی قسم کی بے قاعدگی کی فوری نشاندہی ہوسکے ۔بریفنگ میں کہا گیا کہ تمام کابینہ ارکان نے رضاکارانہ طور تنخواہیں نہیں لیں. سرکاری محکموں کی تیل کی کٹوتی کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ بچت کے اقدامات سے موجودہ صورتحال میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مدد ملے گی، ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے ملک میں ادویات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔بریفنگ میں کہا گیا کہ ورک فرام ہوم کے حوالے سے سرکاری ای-افس کی سہولت فراہم کرنے کے لئے خصوصی کنیکٹیویٹی کے انتظامات وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی جانب سے کیے جا چکے ہیں۔
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں اور ایران کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے بعد سے وہاں پھنسے پاکستانی شہریوں کی سڑک کے راستے واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ 28 فروری سے لے کر گذشتہ روز تک ایران سے پانچ ہزار 615 پاکستانی شہری ضلع چاغی اور گوادر کے راستے واپس پہنچ چکے ہیں۔
سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ پاکستانی شہریوں کے علاوہ دو ہزار 117 ایرانی ڈرائیورز اور 431 دیگر ممالک کے شہری بھی ایران سے پاکستان میں داخل ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ واپس آنے والوں کو گوادر اور چاغی کے انتظامیہ نے ہر ممکن سہولت فراہم کی۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ بلوچستان حکومت دونوں سرحدی گزرگاہوں پر مسافروں کو ہر ممکن معاونت کی فراہمی کے لیے متحرک ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت عالمی سطح پر کشیدگی کے پیش نظر ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا۔اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ عالمی صورتحال کے پیش نظر عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے مزید اقدامات پر بھی مشاورت جاری ہے، حکومت کے بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے پیش نظر ملک میں معاشی استحکام قائم کرنے کے لیے بر وقت بنائی گئی کمیٹی کے فیصلوں کی بدولت عوام کے لیے تیل کی مسلسل فراہمی ممکن ہوئی، قومی سطح پر کفایت شعاری اور بچت کے لیے اقدامات کا نفاذ ہو چکا ہے اور مزید پر کام جاری ہے۔وزیراعظم کی جانب سے کفایت شعاری اور بچت کے تمام نافذ العمل اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی ہدایت پہلے ہی جاری کی جا چکی۔وزیراعظم نے کہا کہ معاشی استحکام اور عوام کے لیے ریلیف حکومت کی اولین ترجیح ہے، تمام اقدامات نہ صرف فوری ریلیف بلکہ طویل مدتی معاشی استحکام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے لیے جا رہے ہیں۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی تقسیم کار کمپنیوں کو حکومت کے تعین کردہ نرخوں پر تیل کی فروخت یقینی بنانے اور اس معاملے میں شفافیت برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔
پشاور میں رمضان اور عید کے موقع پر سکیورٹی سخت کرنے کے لئے دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے ،ڈپٹی کمشنر پشاور کیپٹن (ر) ثناء اللہ خان نے نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے ،اعلامیہ کہ مطابق اسلحہ کی نمائش، ہوائی فائرنگ اور آتش بازی ،ون ویلنگ اور بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائیگا،تیز رفتاری اور خطرناک ڈرائیونگ پر بھی ضلعی انتظامیہ نے سخت کارروائی کے احکامات جاری کئے ہیں ،نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیموں اور دریاؤں میں لائف جیکٹ کے بغیر نہانے ،تفریحی پارکس میں غیر محفوظ رائیڈز چلانے ،ڈبل سائلنسر بائیکس اور اسپورٹس گاڑیوں کے استعمال پر پابندی ہوگی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188 پی پی سی کے تحت مقدمات درج کئے جائیں گے۔
خیبر پختونخوا میں پولیس کی بروقت کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گردوں کے حملے ناکام بنا دیے گئے۔ تھانہ منڈان کی حدود میں واقع پولیس چوکی فتح خیل پر رات کی تاریکی میں دہشت گردوں کے ایک گروہ نے حملے کی کوشش کی، تاہم چوکی پر تعینات پولیس جوانوں نے پیشہ ورانہ مہارت اور الرٹ پوزیشن کے باعث فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ پسپا کر دیا گزشتہ شب تقریباً 2 بجے پولیس چوکی فتح خیل کے گردونواح میں تھرمل کیمروں کے ذریعے 15 سے زائد شرپسند عناصر کی مشکوک نقل و حرکت دیکھی گئی، جہاں دہشت گرد چوکی کے سامنے جنگل میں پوزیشن لینے کی کوشش کر رہے تھے۔چوکی پر موجود پولیس پارٹی پہلے ہی ہائی الرٹ تھی، جس نے فوری طور پر دہشت گردوں پر بھرپور فائرنگ شروع کر دی۔پولیس کی اس اچانک اور شدید جوابی کارروائی سے دہشت گرد حواس باختہ ہو گئے اور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پسپائی اختیار کر کے فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔ی آئی جی بنوں ریجن نے کامیاب کارروائی پر پولیس جوانوں کی ہمت اور بلند حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس چوکی فتح خیل کے جوانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔










