وفاقی حکومت نے صوبوں سے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی میں حصہ ڈالنے کا مطالبہ کردیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، اجلاس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلی اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے شرکت کی، وزیراعظم آزاد کشمیر بھی اجلاس میں شریک ہوئے، اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں توانائی کے ممکنہ بحران پر غور کیا گیا جب کہ اجلاس میں حکومت کے کفایت شعاری اقدامات اور توانائی کی بچت سے متعلق مجوزہ اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اہم معاملات زیر غور آئے جب کہ وفاقی حکومت نے صوبوں سے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی میں حصہ ڈالنے کا مطالبہ کیا۔ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا مکمل بوجھ صارفین پر منتقل کرنے پر بھی غور کیا گیا۔قبل ازیں بلاول بھٹو زرداری وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے ہمراہ وزیراعظم ہاؤس پہنچے، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ سہیل آفریدی نے نو اپریل کو راولپنڈی میں جلسہ کرنے کا اعلان کردیا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کل ہم انتظامیہ کو جلسہ کرنے کے لیے این او سی دیں گے، اگر این او سی نہ ملا جو نو اپریل کو ہر فرد اپنی اپنی جگہ جلسہ کرے گا۔خیبر پختون خواہ ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے ساتھ ان کی تین سے چار ملاقاتیں ہو چکی ہیں جن میں انہوں نے اپنا اور عوام کا مقدمہ پیش کیا، تاہم ان کے مطابق وفاقی حکومت انہیں ان کا حق نہیں دے رہی اور این ایف سی ایوارڈ میں بھی صوبے کا حصہ غیر آئینی طور پر 2018 سے اب تک تقسیم کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان ملاقاتوں کا مقصد خیبرپختونخوا کے مسائل کو اجاگر کرنا تھا لیکن حکومت عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہی ہے، جبکہ صوبائی حکومت اب تک پندرہ ارب روپے اپنے وسائل سے خرچ کر چکی ہے۔انہوں نے موقف اپنایا کہ گزشتہ سال کے تباہ کن سیلاب کے باوجود وفاق نے ایک روپیہ بھی فراہم نہیں کیا اور صوبائی بجٹ میں بھی کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عام آدمی کی آواز اٹھانا ان کی ذمہ داری ہے، جبکہ انہوں نے سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی سے بھی اختلاف کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ بطور وزیر اعلیٰ انہوں نے ہمیشہ آئینی و قانونی راستہ اپنایا مگر انہیں سمگلر اور دہشت گرد کہا گیا، حالانکہ وہ شہداء کے جنازوں میں شریک ہوئے اور سوال اٹھایا کہ ان کے شہداء کے لیے کون آیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ججز پر فیصلوں کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ دوہرا رویہ اپنایا جا رہا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ ہوگا جس کے لیے این او سی جمع کرایا جائے گا اور اگر اجازت نہ ملی تو جہاں روکا گیا وہیں احتجاج کیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا سینیٹ کی خالی نشست پر ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری کردیا گیا، پولنگ 23 اپریل کو ہوگی،نشست مراد سعید کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی، جس پر اب صوبائی اسمبلی کے ارکان نئے سینیٹر کا انتخاب کریں گےانتخابی عمل کا آغاز 3 اپریل سے ہوگا،کاغذاتِ نامزدگی 6 اپریل سے 7 اپریل پر تک جمع کروانا ہوگا ،کاغذات کی جانچ پڑتال /اسکروٹنی آخری تاریخ 10 اپریل،اپیلیں جمع کروانے کی آخری تاریخ: 13 اپریل ہوگی امیدواروں کی دستبرداری: 17 اپریل ،پولنگ 23 اپریل کو ہوگی پولنگ صوبائی اسمبلی بلڈنگ، خیبر پختونخوا میں ہوگی ۔ الیکشن کمیشن خیبر پختونخوا کے مطابق سعید گل ریٹرننگ افسر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا۔
وزیرپیٹرولیم اور وزیر خزانہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کر کے عالمی بحران اور حکومتی اقدامات کے حوالے سے آگاہ کیا۔
وزیرپیٹرولیم نے بتایا کہ آج وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سارے وزرائے اعلیٰ، فوجی قیادت اور دیگر قائدین شریک تھے جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ عالمی منڈیوں کی صورت حال کے پیش نظر سبسڈی صرف مخصوص طبقے کو دی جائے گی۔
پیٹرول 458 اور ڈیزل 520 روپے فی لیٹر کرنےکا اعلان، موٹرسائیکل والوں کو ہر ماہ 2 ہزار کی سبسڈی ملے گی
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 137 روپے 23 پیسے، ڈیزل فی لیٹر 184 روپے 49 پیسے مہنگا

رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ عوام پر منتقل کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں درآمدی لاگت کے مقابلے میں 100 روپے اور ڈیزل میں 200 روپے فی لیٹر سے زائد کا فرق موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے تاہم آئندہ چند روز میں نئی قیمتوں کا اعلان کردیا جائے گا۔

میٹرک امتحانات میں شفافیت کے دعوے دھرے رہ گئے ، پشاور میں اردومضمون کا پرچہ امتحان شروع ہونے سے قبل ہی آوٹ ہوگیا اردو مضمون کے ایم سی کیوز امتحان شروع ہونے سے پہلے منظرعام پر آگئے، گزشتہ روز اسلامیات کا پرچہ بھی آو ٹ ہوگیا تھا، تعلیمی بورڈ امتحانی نظم برقرار رکھنے میں ناکام ںطر آرہا ہے پرچوں کے مسلسل آوٹ ہونے کی وجہ سے ذہین طلبہ اور والدین مایوسی کا شکار ہوگئے ہیں۔

خیبر پختون خوا میں ہونے والی بارشوں کے باعث گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے اب تک 25 افراد جاں بحق جبکہ 77 افراد زخمی ہوگئے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے 25 مارچ سے اب تک ہونے والی بارشوں کے باعث صوبہ کے مختلف اضلاع میں جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق افراد میں 18 بچے، 2 مرد اور 5 خواتین جبکہ زخمیوں میں 33 مرد، 9 خواتین اور 35 بچے شامل ہیں۔ بارشوں کے باعث اب تک کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 88 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 71 گھروں کو جزوی جبکہ 17 گھر مکمل طور پر منہدم ہوئے۔
یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع بنوں، ایبٹ آباد، کوہاٹ ، پشاور، نوشہرہ، باجوڑ، لکی مروت ،کرم، ہنھگو، شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ، دیر اپر ،باجوڑ، بٹگرام اور شمالی وزیرستان اور ٹانک میں پیش آئے۔
پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پی ڈی ایم اے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد امدادی سامان فراہم کرنے کی ہدایت کر دی جبکہ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بنوں کی انتظامیہ کو جاں بحق افراد کے لواحقین کو امداد جلد از جلد فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
ہی ڈی ایم اے کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ صوبہ کے مختلف اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جبکہ یہ بارشوں کا نیا سلسلہ یکم اپریل سے 4 اپریل تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
عوام سےاپیل کی جاتی ہے کے بلا وجہ سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام بنانے کے لیے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 8 دہشت گرد ہلاک کردیے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یکم اپریل 2026ء کو شمالی وزیرستان کے علاقے میں پاک افغان سرحد کے ساتھ بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت دیکھی گئی۔
سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے خارجیوں کے اس گروہ کو نشانہ بنایا۔ درست اور مہارت سے کی گئی اس کارروائی کے نتیجے میں بھارتی حمایت یافتہ فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 8 خارجی دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
کارروائی کے دوران ہلاک دہشتگردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
اس جھڑپ سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ افغان طالبان حکومت اپنی سرحدی ذمہ داریوں کو مؤثر طریقے سے نبھانے میں ناکام رہی ہے۔ افغان طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں مزید خارجی دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے جبکہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظور کردہ مہم عزم استحکام کے تحت دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے شمالی وزیرِ ستان میں پاک افغان سرحدی علاقے میں فتنۃ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پذیرائی کی ہے۔
انہوں نے کامیاب کارروائی میں 8 خارجیوں کو جہنم رسید کرنے پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مجھ سمیت پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے غیر متزلزل عزم میں افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

پاکستان نے ایشیائی ترقیاتی بینک سے 56 ارب روپے سے زائد نیا قرض لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 20 کروڑ ڈالر کے مساوی رقم ریونیو نظام کو ڈیجیٹل بنانے پر خرچ کرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق 56 ارب روپے سے زائد قرض لینے کا مقصد ٹیکس اور کسٹمز نظام میں شفافیت اور بہتری لانا ہے، پوائنٹ آف سیل سسٹم اور ڈیجیٹل انوائسنگ کو فروغ دینا پلان میں شامل ہے۔ٹیکس وصولی میں اضافے کے لیے ریونیو سسٹم میں خامیاں دور کی جائیں گی، ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے کارکردگی بہتر بنانا اور تجارتی عمل کو آسان اور شفاف بنانا بھی اہداف میں شامل ہے، معیشت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جائے گا، خودکار اور جدید ریونیو سسٹم کے قیام کی طرف بھی پیشرفت ہوگی۔حکام کے مطابق ایف بی آر نظام کو جدید بنانا منصوبے کا حصہ ہے۔

: ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 11 میں ملتان سلطانز نے صاحبزادہ فرحان کی شاندار سنچری کی بدولت حیدرآباد کنگز مین کو 6 وکٹوں سے شکست دے دی۔
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلےگئے میچ میں حیدرآباد کنگز مین نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔
ملتان سلطانز کے خلاف میچ کیلئے حیدرآباد کنگز مین کی ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئیں۔ حماد اعظم کی جگہ شرجیل خان اور عاکف کی جگہ محمد علی کو شامل کیا گیا۔ حیدرآباد کنگز مین نے مقررہ 20 اوورز میں معاذ صداقت اور شرجیل خان کی جارحہ بیٹنگ کی بدولت 5 وکٹوں پر 225 رنز اسکور کیے۔
معاذ صداقت 26 گیندوں پر 62 اور شرجیل خان 51 رنز بناکر ناقابل شکست رہے۔اس کے علاوہ صائم ایوب نے 27، عثمان خان نے 25، عرفان خان نے 22 رنز اسکور کیے۔
ملتان سلطانز کی جانب سے محمد وسیم نے 2 ، محمدنواز ، ایشٹن ٹرنر اور پیٹر سیڈل نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ جواب میں ملتان سلطانز نے صاحبزادہ فرحان کی ناقابل شکست سنچری کی بدولت 226 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف 19 ویں اوورمیں 4 وکٹوں کےنقصان پر حاصل کرلیا۔
صاحبزادہ فرحان 57 گیندوں پر 106رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے جبکہ اسٹیو اسمتھ نے46 اور شان مسعود نے 29 رنز بنائے۔ عرفات منہاس 26 رنز بناکر ناقابل شکست رہے۔
یہ ایونٹ میں حیدرآباد کی مسلسل تیسری شکست ہے جبکہ ملتان نے اب تک اپنے دونوں میچز میں کامیابی حاصل