پشاور میں سی این جی اسٹیشنز کی بندش کے معاملے پر وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبے کو یومیہ 35 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں سی این جی اسٹیشنز اب صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک کھلے رہیں گے۔ گیس کی فراہمی کا فیصلہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس میں وفاقی وزیر علی پرویز ملک، رانا ثناءاللہ، گورنر خیبرپختونخوا اور اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد شریک ہوئے۔
اجلاس میں خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم، چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ اور ایم ڈی ایس این جی پی ایل عامر طفیل نے بھی شرکت کی۔
مزمل اسلم نے جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کوششوں کے باعث گیس کا مسئلہ حل ہوا ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت نے گیس کی بحالی کی منظوری دے دی ہے اور سی این جی اسٹیشنز کو فوری طور پر گیس کی فراہمی شروع کر دی جائے گی۔

سعودی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال حج کے موقع پر خطبہ حج دنیا بھر میں بولی جانے والی 35 بڑی زبانوں میں ترجمے کے ساتھ نشر کیا جائے گا تاکہ مختلف ممالک کے مسلمان اپنی زبان میں خطبہ سمجھ سکیں۔سعودی وزارت حج و عمرہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں عازمین حج اور ناظرین تک خطبہ حج کا پیغام آسان اور مؤثر انداز میں پہنچانا ہے۔وزارت کے مطابق خطبہ حج کو انگلش، فرنچ، انڈونیشین، ترکی، فارسی، روسی، چینی اور دیگر عالمی زبانوں سمیت کئی اہم زبانوں میں براہ راست ترجمے کے ساتھ نشر کیا جائے گا۔خاص طور پر پاکستان کے زائرین کیلئے خطبہ حج کو قومی زبان اردو کے ساتھ ساتھ علاقائی زبانوں پنجابی اور پشتو میں بھی نشر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔سعودی حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے خطبہ حج دنیا بھر میں لاکھوں افراد تک پہنچایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ مسلمان اس روحانی پیغام سے مستفید ہو سکیں۔ماہرین کے مطابق مختلف زبانوں میں خطبہ حج کی نشریات بین الاقوامی سطح پر اسلامی تعلیمات اور حج کے پیغام کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی

راولپنڈی کی اڈیالا جیل میں قیدیوں کے زیرِ استعمال موبائل فونز سامنے آنے کے بعد جیل کے سیکیورٹی انتظامات ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئے۔ ہیوی جیمرز کی موجودگی کے باوجود حوالاتی سے موبائل فون برآمد ہونے پر حساس قیدیوں کی نگرانی اور جیل سیکیورٹی پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
اڈیالا جیل راولپنڈی میں پیر اور منگل کی درمیانی شب ہونے والی چیکنگ کے دوران ایک حوالاتی کے قبضے سے موبائل فون برآمد کیا گیا۔ جیل میں موبائل فون کی موجودگی نے انتظامیہ کی کارکردگی اور سیکیورٹی نظام پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اڈیالا جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سمیت متعدد ہائی پروفائل قیدی موجود ہیں، جبکہ دہشت گردی کے مقدمات میں گرفتار ملزمان بھی اسی جیل میں قید ہیں۔ ایسی صورتحال میں قیدیوں کے پاس موبائل فونز کی دستیابی کو سیکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل میں موبائل سگنلز روکنے کے لیے ہیوی جیمرز نصب ہیں، تاہم اس کے باوجود موبائل فون کا استعمال سامنے آنا انتظامی غفلت یا سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
واقعے کے بعد جیل انتظامیہ نے مزید تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ موبائل فون جیل کے اندر کیسے پہنچا، اس حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔

پشاور کے اسلامیہ کالج میں خاتون لیکچرار سے بدتمیزی اور ہراساں کرنےکے واقعےمیں ملوث 3 طلباء کو 2 ہفتوں کیلئے معطل کردیاگیا۔انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایاگیاکہ ڈسپلنری کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق واقعے میں 3 طلباء ملوث ہیں اور تینوں طلبا پرکمیٹی کے حتمی فیصلے تک یونیورسٹی میں داخلے پرپابندی ہے۔ٹیچنگ اسٹاف ایسوسی ایشن نے بتایاکہ ڈسپلنری کمیٹی کے حتمی فیصلے تک ہڑتال ملتوی کر دی گئی ہے، 8جون تک تمام تعلیمی سرگرمیاں بحال رہیں گی۔اسلامیہ کالج پشاور کی خاتون ٹیچر گل رخ کے ساتھ کچھ طالب علموں نے کلاس ٹیسٹ کے دوران بدتمیزی کی اور ہراساں کیا جس پر انہوں نے وائس چانسلر اسلامیہ کالج کو خط لکھا۔خاتون ٹیچر نے خط میں ملوث شرپسند طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کی استدعا کی، خاتون ٹیچر نے خط میں لکھا کہ طالب علموں نے پاسنگ گریڈ نہ دینے پر سیاسی تعلقات کی دھمکیاں دیں۔خط میں ٹیچر نے الزامات عائد کیے کہ انہوں نے 12 مئی کو صبح 11 بجے بوٹنی ڈیپارٹمنٹ کے دوسرے سمسٹر کی کلاس میں ٹیسٹ لیا جس میں آدھے لڑکے کھڑے ہوگئے اور ٹیسٹ دینے سے انکار کر دیا اور دیگر طلبہ کو بھی ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا۔خط میں ٹیچر نے لکھا کہ طلبا نے ٹیسٹ کے پرچے پھاڑ کر میرے چہرے پر پھینک دیے اور اس کے بعد وہ کلاس سے باہر نکل گئے اور مجھے اور دیگر طالبات کو کمرے میں بند کر دیا۔انہوں نے بتایا کہ میں نے باقی طلبہ کے ساتھ ٹیسٹ جاری رکھا جبکہ کچھ دیر بعد وہ مزید لڑکوں کو ساتھ لے کر واپس آئے اور کلاس روم میں داخل ہو کر مجھے گھیر لیا اور دھمکیاں دیتے رہے۔خاتون ٹیچر نے خط میں کہا کہ جب میں کلاس سے باہر نکلی تو انہوں نے ڈیپارٹمنٹ کا گیٹ بند کر دیا اور مسلسل پاسنگ مارکس دینے کیلئے مجھ پر دباؤ ڈالتے رہے اور سیاسی تعلقات کی دھمکیاں بھی دیں۔خاتون ٹیچر کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے واقعے پر ٹیچنگ اسٹاف ایسوسی ایشن نے ملوث طلبہ کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو تدریسی سرگرمیوں کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق تفتیشی افسران نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت سے اجازت طلب کی کہ ملزمہ انمول عرف پنکی کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے جوڈیشل کمپلیکس میں پیش کیا جائے۔
پولیس کے مطابق ملزمہ کو چار مختلف مقدمات میں ریمانڈ کے حصول کے لیے عدالت میں پیش کرنا تھا، تاہم سٹی کورٹ میں پیشی کے دوران ممکنہ سیکیورٹی خدشات کے باعث استدعا کی گئی کہ کارروائی جوڈیشل کمپلیکس میں ہی مکمل کی جائے۔
عدالتی سطح پر اجازت کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ کو کمپلیکس میں طلب کیا گیا، جبکہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے سخت انتظامات کیے گئے اور داخلی و خارجی راستوں پر کنٹرول سخت کر دیا گیا۔
دوسری جانب جوڈیشل کمپلیکس میں صحافیوں کا داخلہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔
سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے واضح ہدایت جاری کی گئی کہ کوئی بھی صحافی کمپلیکس کے اندر داخل نہ ہو سکے۔ اس موقع پر میڈیا نمائندوں کو کوریج سے روکنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ روز بھی صحافیوں کو جوڈیشل کمپلیکس سے باہر نکال دیا گیا تھا۔ اس سے قبل ملزمہ پنکی کی پیشی کے دوران مبینہ طور پر دی جانے والی سہولیات اور مراعات کی کوریج کے بعد بعض مقتدر حلقوں نے واقعے کا نوٹس لیا تھا

سکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں آپریشن کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 22 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 17 مئی سے شمالی وزیرستان کے علاقے شیوہ میں کلیئرنس و سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 22 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا، ہلاک دہشتگردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا،ہلاک خوارج علاقے میں متعدد دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث تھے۔آئی ایس پی آر کے مطابق شواہد سے یہ بھی ثابت ہوا کہ خوارج نے مقامی آبادی کو دھمکیوں اور جبر کے ذریعے اپنے زیراثر رکھا، خوارج نے محفوظ نقل وحرکت کیلئے مقامی آبادی کو انسانی ڈھال کے طورپراستعمال کیا، معصوم شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی۔آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے، سکیورٹی فورسز نے علاقے کا مؤثر محاصرہ کررکھا ہے

پشاور شہر میں دو بینک ڈکیتی میں ملوث گروہ کو گرفتار کر لیا گیا،پہلا واقعہ جنوری میں کوہاٹ روڈ نجی بینک ڈکیتی کی کوشیش کے دوران سیکیورٹی گارڈ کو قتل کیا تھا، ، سی سی پی او میاں سعید کے مطابق دوسرا واقعہ 6 مارچ کو پیر بالا ورسک روڈ پر بینک ڈکیتی کا پیش آیا تھا بینک ڈکیتی میں ملوث تین ملزمان گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ انکے ساتھی فرار ہوگئے ، بینک ڈکیتی کو ناکام بنانے کے دوران ایڈیشنل ایس ایچ او بہادر علی شہید ہوگیا تھا، گرفتار ملزمان میں شعیب، عمر اور عماد شامل ہیں، ملزمان پولیس کو مختلف مقدمات میں مطلوب تھے فرار ملزمان کی گرفتاری کیلئے کاروائیاں جاری ہے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کی بھرپور حمایت کے ساتھ ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پْرعزم ہیں، پاکستان کی ترقی کا سفر پروپیگنڈے، جعلی خبروں یا بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ذریعے نہیں روکا جا سکتا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کوئٹہ گیریژن کا دورہ کیا، دورے کے دوران فیلڈ مارشل نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں زیرِ تربیت افسران اور فیکلٹی ممبران سے خطاب کیا۔بیان کے مطابق فیلڈ مارشل نے کالج میں تربیت کے اعلیٰ معیار، فکری صلاحیت اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور کہا کہ ادارے کے فارغ التحصیل افسران اپنی غیرمعمولی کارکردگی اور پیشہ ورانہ لگن کے باعث نمایاں مقام رکھتے ہیں

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس میں ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی۔
ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد افضل مجوکہ ثنا یوسف قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت نے کہا ہے کہ ملزم عمر حیات کو 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا، دوران سماعت عدالت میں ملزم عمر حیات کی کالز اور چیٹ کے اسکرین شاٹس پیش کیے گئے۔
مدعی کے وکیل نے ملزم کو 2 بار سزائے موت دینے کی استدعا کر دی۔
ملزم کے وکیل نے کہا ہے کہ ملزم عمرحیات نے اسٹیٹ کونسل اور ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا، 2 درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، پہلے سے سوچ کر رکھنا کہ ملزم کو سزائے موت دینا ہے، زیادتی ہوگی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ثنا یوسف قتل کیس میں ملزم عمر حیات نے صحت جرم سے انکار کر دیا تھا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ثنا یوسف قتل کیس کی سماعت میں ملزم نے کہا تھا کہ اس نے ثنا کو قتل کرنے کا کوئی اعتراف یا کوئی انکشاف نہیں کیا۔
ملزم عمر حیات نے مزید کہا تھا کہ میرا ثناء یوسف سے کوئی رابطہ نہیں تھا، اس پر جج نے استفسار کیا کہ دوران تفتیش ثناء یوسف کے فون سے کاکا کے نام سے ایک نمبر سامنے آیا تھا، موبائل فارنزک کے بعد نمبر آپ کا نکلا، اس پر کیا کہیں گے؟
اس پر ملزم عمر حیات نے کہا کہ وہ اپنے وکیل کے بغیر کوئی جواب نہیں دے سکتے ہیں

خیبر پختون خوا کے میدانی علاقوں کے تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا۔
ذرائع محکمہ تعلیم کے مطابق 22 مئی سے 31 اگست 2026 تک ہوں گی۔
اعلامیے کے مطابق میدانی علاقوں میں گرمیوں کی تعطیلات یکم جون سے 31 اگست 2026 تک ہونا تھیں۔
عید کی تعطیلات اور 22 مئی کو جمعہ ہفتہ اور اتوار کی ہفتہ وار تعطیلات کی وجہ سے چھٹیاں 22 مئی سے ہی کر دیں جائیں گی۔
خیبر پختون خوا کے میدانی اور سرد ترین پہاڑی علاقوں میں گرمیوں کی تعطیلات کا اعلامیہ پہلے سے شیڈول ہے۔
محکمہ تعلیم حکام کے مطابق خیبر پختون خوا کے سرد ترین پہاڑی علاقوں میں موسم گرما کی تعطیلات یکم جولائی سے 31 جولائی 2026 تک ہوں گی۔