واشنگٹن: امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے کمسنوں سے جنسی تعلقات کے مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ اپنے مبینہ تعلقات کی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد پروپیگنڈہ قرار دیا ہے۔اپنے بیان میں میلانیا ٹرمپ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ان کی ایپسٹین کے ساتھ جعلی تصاویر گردش کر رہی ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے خلاف یہ مہم غلط معلومات پھیلانے کی کوشش ہے۔میلانیا ٹرمپ نے اس موقع پر ایپسٹین کیس سے متاثرہ خواتین کے لیے انصاف کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کو اپنی کہانیاں بیان کرنے کا پورا موقع ملنا چاہیے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اب تک منظرعام پر نہیں آئے ہیں تاہم ایک بار پھر ان کا ایک تحریری بیان سرکاری ٹی وی پر پڑھ کر سنایا گیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں لیکن اپنے حقوق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔انھوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور جنگ میں شہید ہونے والے دیگر ایرانیوں کا بدلہ لینے کے لیے پُرعزم ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران مزاحمتی محاذ کو ایک متحد قوت تصور کرتا ہے جس میں اس کے علاقائی اتحادی بھی شامل ہیں۔سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کے انتظام کو نئے مرحلے میں داخل کرے گا تاہم اس حکمت عملی کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران اس جنگ میں ہونے والے ہر شہید کے خون کا حساب لے گا اور زخمیوں کے لیے مکمل معاوضہ حاصل کرے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ اس جنگ میں فاتح ایران ہی ہے۔ جس نے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے۔واضح رہے کہ 28 فروری کو اسرائیلی حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا ہے تاہم وہ اب تک منظرعام پر نہیں آئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ قریب ہو سکتا ہے اور پیش رفت مثبت سمت میں جاری ہے جبکہ اسرائیل بھی اپنے حملے کم کر دے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ قریب ہو سکتا ہے اور پیش رفت مثبت سمت میں جاری ہے۔امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے حوالے سے بہت پُرامید ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ سفارتی کوششیں جلد نتائج دیں گی۔ان کے مطابق خطے میں کشیدگی میں کمی متوقع ہے اور اسرائیل بھی اپنے حملے کم کرے گا۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت مذاکرات میں معقول رویہ اختیار کیے ہوئے ہے تاہم اگر معاہدہ نہ ہوا تو صورتحال بہت تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ بینجمن نیتن یاہو نے حالیہ ٹیلیفونک گفتگو میں لبنان پر حملوں میں کمی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے اور دونوں جانب سنجیدگی دکھائی جا رہی ہے، جو ممکنہ امن معاہدے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک اہم پیش رفت ہوگی۔

اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے اعلیٰ حکام آج وفاقی دارالحکومت پہنچیں گے۔ذرائع کے مطابق آج بات چیت کے پہلے دور میں دونوں ممالک کے وفود شرکت کریں گے اور کل صبح ہونے والی ملاقات کا ایجنڈا طے کریں گے۔حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات ایک محفوظ، خفیہ مقام پر میڈیا کی رسائی سے دور منعقد ہوں گے،امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان بھی مسترد نہیں کیا گیا۔مذاکرات میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحق ڈار شریک ہوںگے ، ان مذاکرات کو خطے میں امن کے لیے ایک بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس قیادت کریں گے،وفد میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا۔اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور خطے میں امن قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، موجودہ شدید کشیدگی اور جھڑپیں تقریبا 20 دن سے جاری ہیں۔دونوں ممالک نے جنگ بندی کے لیے مطالبات رکھے تھے جسے پاکستان نے سعودی عرب ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے آسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ایک ڈرافٹ کی شکل میں تیار کر کے امریکہ اور ایران کے حوالے کیا جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے فریقین کو اسلام آنے کی دعوت دے دی جس کا امریکہ اور ایران نے خیر مقدم کیااور پوری دنیا میں پاکستان کو بڑی پزیرائی ملی۔امریکہ کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ 15 نکاتی تجویز کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہو رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق ان تجاویز میں اہم خدشات پر بھی بات ہوگی جن میں ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ،خطے میں مسلح جدوجہد کی حمایت بند، بیلسٹک میزائلوں کی اپ گریڈیشن پر پابندیاں، سمندری راستوں کی سلامتی، خاص طور پر آبنائے ہرمز کو کھولنا اور وسیع تر علاقائی استحکام شامل ہیں۔ایران کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ وہ 10 نکاتی فریم ورک پیش کر رہا ہے جس میں مستقبل کی فوجی کارروائی کے خلاف مضبوط ضمانتوں کا حصول، خطے میں امریکی فوجی موجودگی، مداخلت میں کمی، آبنائے ہرمز کے حوالے سے نئے انتظامات، اور ایک جامع علاقائی کشیدگی میں کمی کا طریقہ کار، امریکی پابندیوں کا خاتمہ ، تیل کی برآمدات میں آسانی شامل ہے،پاکستان نے مذاکرات کے لیے میزبانی اور ثالثی فراہم کی ہے جس پر پاکستان کو عالمی سطح پر ایک امن ساز اور مثبت ثالث کے طور پردیکھا جا رہا ہے۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ تازہ اسرائیلی حملوں کے بعد جنگ بندی ٹوٹنے کے قریب تھی تاہم پاکستان نے سفارتی سطح پر مداخلت کی اور تہران کو صبر و تحمل سے کام لینے اور جوابی کارروائی سے گریز کرنے کے لیے قائل کیا جواس تنازع کو دوبارہ بھڑکا سکتی تھی،ان بیک ڈور رابطوں نے عالمی بحران میں پاکستان کی حیثیت کو ایک اہم سفارتی کھلاڑی کے طور پرشہرت کی بلندی تک پہنچا دیا ہے۔حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان کا کردارشہرت حاصل کرنیکی کوشش نہیں بلکہ دو ایسے مخالفین کے درمیان بامعنی مکالمے کی سہولتکاری ہے جو دہائیوں سے دشمنی میں جکڑے ہوئے ہیں

تہران: ایران نے امریکا کو مذاکرات سے قبل واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کسی بھی صورت جنگ بندی معاہدے سے الگ نہیں ہوگا اور اسے معاہدے کا لازمی حصہ تسلیم کیا جانا چاہیے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بغیر نام لیے امریکا کو خبردار کیا کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے اتحادی، خصوصاً لبنان اور دیگر مزاحمتی محاذ، جنگ بندی کے بنیادی فریق ہیں اور انہیں کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔باقر قالیباف نے کہا کہ یہ مؤقف ایران کی پیش کردہ 10 نکاتی تجاویز کا پہلا اور اہم ترین نکتہ ہے۔

اسرائیلی حکام نے 40 روز تک بند رہنے کے بعد مسجد الاقصیٰ کو نمازیوں کے لیے دوبارہ کھول دیا ہے، جس کے بعد بڑی تعداد میں فلسطینی مسلمان عبادت کے لیے مسجد پہنچ گئے
میڈیا رپورٹس کے مطابق مسجد الاقصیٰ کو صبح سویرے کھولا گیا، جہاں سیکیورٹی پابندیوں میں نرمی کے بعد نمازیوں کو داخلے کی اجازت دی گئی۔ مسجد کھلتے ہی عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے اس مقدس مقام کا رخ کیا اور نماز ادا کی۔
اسرائیلی حکام کی جانب سے یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں دیگر مقدس مقامات کو بھی دوبارہ کھول دیا گیا ہے، جس سے مذہبی سرگرمیوں کی بحالی شروع ہو گئی ہے
اسرائیل نے ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مسجد الاقصیٰ سمیت کئی مقدس مقامات کو بند کر دیا تھا۔ اب 40 دن بعد ان مقامات کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے
ماہرین کے مطابق اس اقدام سے علاقے میں وقتی طور پر مذہبی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی، تاہم مجموعی صورتحال اب بھی حساس ہے

سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں ایک دن کے وقفے کے بعد آج بڑی کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج جمعرات کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 95ڈالر کی بڑی کمی ریکارڈ ہوئی، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4ہزار 723ڈالر فی اونس کی سطح پر آگئی ہے۔
عالمی مارکیٹ کے زیر اثر مقامی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت بھی 9ہزار 500روپے کی کمی سے 4لاکھ 94ہزار 662روپے جب کہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 8ہزار 145روپے گھٹ کر 4لاکھ 24ہزار 092روپے کی سطح پر آگئی ہے۔
اسی طرح مقامی سطح پر فی تولہ چاندی کی قیمت 300 روپے کی کمی سے 7ہزار 884 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 257روپے کی کمی سے 6ہزار 759روپے کی سطح پر آگئی ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ اگر لبنان کے معاملے پر معاہدہ متاثر ہوتا ہے تو یہ ایران کا اپنا فیصلہ ہوگا کیونکہ لبنان کبھی بھی سیزفائر معاہدے کا حصہ نہیں رہا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اس ہفتے شروع ہو رہے ہیں اور یہ عمل پاکستان کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زمینی حقیقت یہی ہے کہ دونوں ممالک بات چیت کر رہے ہیں۔
جے ڈی وینس کے مطابق ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجاویز پیش کی گئی ہیں جو تین مختلف مواقع پر دی گئیں تاہم حالیہ نکات زیادہ واضح ہیں اور انہیں امریکی اور پاکستانی مذاکرات کاروں نے بہتر طور پر سمجھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا ہے اور اس وقت جنگ بندی قائم ہے جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔امریکی نائب صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے کسی بھی معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور اب توجہ مذاکرات پر مرکوز ہے۔لبنان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے کبھی بھی لبنان کو سیزفائر میں شامل کرنے پر اتفاق نہیں کیا اور اس معاملے پر ایران کو غلط فہمی ہے۔ ان کے مطابق لبنان کا مسئلہ الگ ہے اور اسے جلد حل کر لیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی نظام کے اندر کچھ عناصر ایسے ہیں جو مذاکرات کے حق میں نہیں اور اسی لیے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے تاہم امریکا ایک مضبوط پوزیشن میں ہے اور بات چیت کا عمل جاری رکھے گا۔جے ڈی وینس نے یہ بھی عندیہ دیا کہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کا معاملہ بھی مذاکرات کا حصہ بن سکتا ہے جبکہ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ بندی ایرانی قوم کی فتح ہے تاہم ہم ابھی بھی حالت جنگ میں ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ ہم نےدشمن کواپنی شرائط پرجنگ بندی قبول کرنےپرمجبورکیا۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے امریکی صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود کو ناقابلِ اعتماد ثابت کیا۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے بعد پاکستان میں فضائی آپریشن کی بحالی کا عمل شروع ہوگیا ہے، جبکہ کئی ممالک کی جانب سے فضائی حدود کی بندش بھی ختم کر دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت ملک کے دیگر ایئرپورٹس سے خلیجی ممالک کے لیے پروازوں کی آمد و رفت دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔ مقامی اور غیر ملکی ایئر لائنز نے فلائٹ آپریشن کی مکمل بحالی کے لیے نئے شیڈول کی تیاری بھی شروع کر دی ہے۔
لاہور سے دبئی، ابو ظہبی، شارجہ، بحرین، کویت، دوحہ، جدہ اور دمام کے لیے 9 پروازیں روانہ ہوئیں، جبکہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 8 پروازیں خلیجی ممالک کے لیے روانہ کی گئیں۔
اسی طرح جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی سے 18، پشاور سے 6 اور ملتان ایئرپورٹ سے 4 پروازیں روانہ ہوئیں۔
ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق پروازوں کی مکمل بحالی میں ابھی کچھ وقت درکار ہے کیونکہ کئی ممالک کی جانب سے تاحال فضائی حدود کی جزوی بندش برقرار ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث گزشتہ 40 روز کے دوران پاکستان سے 3 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں، جس سے فضائی آپریشن شدید متاثر ہوا۔