رپورٹ کے مطابق مشرقی وسطیٰ میں جاری جنگ اور امریکا کی آبنائے ہرمز کھولنے میں ناکامی کے بعد خام تیل کی قیمت 9 فیصد تک بڑھ گئی ۔عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل 93 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا جبکہ امریکی خام تیل 88 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ پڑوسی ممالک کیخلاف کوئی حملہ یا میزائل حملے نہیں کیے جائیں گے۔ایک بیان میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ گزشتہ دنوں ہونے والے حملوں پر پڑوسی ممالک سے معذرت خواہ ہیں،ہمارا دوسرے ممالک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ عبوری لیڈر شپ کونسل نے پڑوسی ممالک کیخلاف کوئی حملہ یا میزائل حملہ نہ کرنےکی منظوری دے دی ہے، پڑوسی ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل حملے نہیں کیے جائیں گے، جب تک ان ممالک کی سرزمین سے ایران پر حملہ نہ کیا جائے۔مسعود پزشکیان کا کہنا تھا ایران، امریکا اسرائیل کےسامنے سرینڈرنہیں کرےگا، دشمن کو ایرانی عوام کے ہتھیار ڈالنے کی خواہش کو قبر میں لےجاناپڑےگا۔
اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران اور اصفہان شہر میں حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔دوسری جانب ترجمان ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ان تمام اڈوں کو نشانہ بنایا جہاں سے ایران پر حملے شروع ہوئے تھے، ہماری پوری کوشش تھی کہ پڑوسی مسلم ممالک کوکوئی نقصان نہ پہنچے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایران پرحملےکے لیے فضائی حدود فراہم نہ کرنے والے ممالک پر حملہ نہیں کیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جمعہ کی درمیانی شب کے بعد سے ہفتہ کی صبح تک ایران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کی پانچ لہریں بھیجی گئی ہیں۔ ان حملوں کے باعث لاکھوں اسرائیلی شہری رات بھر پناہ گاہوں میں چھپنے پر مجبور ہوگئے۔
اطلاعات کے مطابق محدود تعداد میں میزائل داغے گئے جس کے باعث وسطی اسرائیل کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کے تازہ بیلسٹک میزائل حملوں میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ تمام میزائل فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیے اور کسی مقام پر براہِ راست گرنے کی اطلاع نہیں ہے۔
خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے دوران جنگ آٹھویں روز بھی شدت اختیار کرگئی۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق رات گئے تہران کے مختلف علاقوں پر وسیع پیمانے پر حملے کیے گئے، جن کے بعد شہر میں سائرن گونجتے رہے اور سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی۔
ادھر امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائیوں کے دوران ایران کے 43 بحری جہازوں کو نقصان پہنچایا گیا یا انہیں تباہ کردیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں خطے میں جاری فوجی آپریشنز کے دوران کی گئیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے امریکی دعووں کی مکمل تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، تاہم خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ حملوں کے بعد خلیجی خطہ مزید عدم استحکام کی طرف بڑھ سکتا ہے










