غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق کویت ائیرپورٹ پر ڈرون حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں ائیرپورٹ کے فیول ٹینک میں آگ لگ گئی۔
خبرایجنسی کے مطابق آگ پر قابوپانےکی کوششیں جاری جبکہ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کےساتھ ساتھ کویت،اردن،بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کونشانہ بنایا ہے۔
پاسداران انقلاب گارڈز کے مطابق اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا جس میٖں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان کی اطلاعات ہیں۔

ایران نے اعلان کیا ہے کہ ’غیر معاندانہ‘ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کی اجازت دی جائے گی، بشرطیکہ وہ ایران کے خلاف کسی جارحانہ کارروائی میں شامل نہ ہوں اور طے شدہ سکیورٹی ضوابط پر عمل کریں۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاز متعلقہ ایرانی حکام کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے ذریعے اس اہم آبی گزرگاہ سے گزر سکتے ہیں۔ تاہم ایران نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان ضوابط کی مکمل تفصیلات کیا ہوں گی۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد اس راستے پر جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جہاں جنگ سے پہلے روزانہ اوسطاً 120 جہاز اس راستے سے گزرتے تھے، اب یہ تعداد کم ہو کر چند جہازوں تک محدود ہو گئی ہے۔ پیر کے روز صرف 5 جہازوں کی نقل و حرکت ریکارڈ کی گئی، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی آئی ہے اور اگر آبنائے ہرمز عملی طور پر بند رہی تو تیل کی قیمت 150 سے 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، اگرچہ تہران اس سے قبل ایسے دعوؤں کی تردید کر چکا ہے۔
دوسری جانب ممکنہ امن معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی مارکیٹ میں کچھ بہتری بھی دیکھی گئی ہے، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں اضافہ ہوا جبکہ برنٹ کروڈ آئل کی قیمت میں بھی وقتی کمی ریکارڈ کی گئی۔

امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات عمان میں شروع ہوگئ ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کا مقصد توانائی کی عالمی قیمتوں کو کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ خطے کے کچھ ممالک کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں اور مختلف تجاویز سامنے آئی ہیں، تاہم ان تمام تجاویز اور درخواستوں کا رخ واشنگٹن کی جانب ہونا چاہیے۔ ایران کا موقف واضح ہے کہ وہ اس جنگ کو شروع کرنے والا فریق نہیں ہے۔ایک اور بیان میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں دوست ممالک کی طرف سے پیغامات موصول ہوئے، جو ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی درخواست کر رہا ہے، لیکن ایران نے اب تک اس پر کوئی جواب نہیں دیا۔یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران مذاکرات کے سلسلے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور وہ خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم رکھنا چاہتا ہے۔
امریکا ایران جنگ رکوانے کے لیے پاکستان کی جانب سے کوششیں جاری ہیں، اس سلسلے میں ٹرمپ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو بھی ہوئی ہے۔خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ رکوانے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ دوسری جانب ترجمان وائٹ ہاؤس نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مابین ٹیلی فونک گفتگو کی تصدیق کردی ہے۔ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ حساس سفارتی بات چیت ہے۔ کیرولین لیوٹ نے بتایا کہ امریکا اس معاملے پر میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا۔دوسری جانب عرب ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر نے مذاکرات کی حمایت کردی ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد ہی ایک حتمی معاہدہ سامنے آ سکتا ہے۔ٹرمپ کے دعوے کے بعد ایرانی حکام کی جانب سے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار سامنے آیا تھا۔علاوہ ازیں عالمی میڈیا نے بھی اپنی رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں بیٹھک لگے گی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس تنازع میں پاکستان کی سفارتی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔واضح رہے کہ تہران حکومت کی جانب سے مذاکرات یا سپریم لیڈر کی حمایت سے متعلق کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔
امریکا کے شہر نیویارک کے لاگارڈیا ایئرپورٹ پر ایک مسافر طیارہ رن وے پر فائر ٹرک سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں پائلٹ اور معاون پائلٹ ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے، حکام نے ایئرپورٹ عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق نیویارک کے لاگارڈیا ایئرپورٹ پر ایک طیارہ رن وے پر موجود فائر فائٹنگ گاڑی سے ٹکرا گیا، جس کے باعث سنگین حادثہ پیش آیا۔حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں پائلٹ اور معاون پائلٹ ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر مسافروں اور عملے کے افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر 41 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے 32 کو طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔پورٹ اتھارٹی کے مطابق حادثے کے بعد لاگارڈیا ایئرپورٹ پر تمام پروازیں معطل کر دی گئیں اور ایئرپورٹ کو کم از کم دوپہر 2 بجے تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ مکمل تحقیقات کی جا سکیں۔رپورٹ کے مطابق متاثرہ طیارہ ایئر کینیڈا ایکسپریس کا تھا، جو مونٹریال سے نیویارک پہنچا تھا۔ لینڈنگ کے بعد رن وے پر چلتے ہوئے طیارہ ایک فائر ٹرک سے ٹکرا گیا، جو کسی دوسرے ہنگامی واقعے کی جانب جا رہا تھا۔حادثے کے نتیجے میں طیارے کا کاک پٹ بری طرح تباہ ہوگیا اور طیارہ رن وے پر پچھلے حصے کی طرف جھک گیا، جبکہ امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔حکام کے مطابق پرواز میں 76 افراد سوار تھے جن میں 4 عملے کے ارکان بھی شامل تھے۔ نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ٹیم روانہ کر دی ہے۔

مائیگرین، جسے عام طور پر آدھے سر کا درد یا دردِ شقیقہ کہا جاتا ہے، وقفے وقفے سے شدید سر درد کی شکل میں بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق بروقت تشخیص نہ ہونے سے متاثرہ افراد مناسب علاج سے محروم رہ جاتے ہیں، اس لیے علامات ظاہر ہوتے ہی ڈاکٹر سے رجوع ضروری ہے۔
ماہرین نے گھریلو حل کے طور پر آئس کیوب کا طریقہ بتایا ہے۔ صبح اٹھنے کے بعد دو آئس کیوبز کانوں کے پیچھے چند لمحوں کے لیے رکھنے سے درد میں فوری سکون مل سکتا ہے۔ سر کے پچھلے حصے یعنی گدی پر آئس کیوب رکھنے سے بھی مائیگرین میں فوری آرام ممکن ہے، اور بعض اوقات دوا کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مائیگرین کے پیچھے جینیاتی عوامل، غذائی عادات، شدید تھکاوٹ، ذہنی دباؤ اور موسمی تبدیلیاں بھی کردار ادا کر سکتی ہیں، اور خواتین میں یہ مسئلہ زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ بعض غذاؤں جیسے پنیر، چاکلیٹ اور کیفین والے مشروبات سے درد بڑھ سکتا ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ دی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات رواں ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔اسرائیلی میڈیا کے دعوے کے مطابق بات چیت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندے آمنے سامنے بیٹھ سکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ ملاقات خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہو سکتی ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران کی نمائندگی محمد باقر قالیباف سمیت دیگر اعلیٰ حکام کر سکتے ہیں، جبکہ امریکی وفد میں اسٹیو وٹکوف، جیراڈ کشنر اور نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت متوقع بتائی جا رہی ہے۔ایک امریکی صحافی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ ترکی، پاکستان اور مصر پسِ پردہ سفارتی رابطوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں تاکہ کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ذرائع کے مطابق مصر اور پاکستان کے اعلیٰ حکام نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں جبکہ بات چیت کا محور جنگ کے خاتمے اور دیگر متنازع امور کا حل بتایا جا رہا ہے۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اشارہ دے چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امکان ہے کہ جلد کوئی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔

سعودی وزارت حج و عمرہ نے عمرہ زائرین کو 18 اپریل تک سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دے دیا۔
اس حوالے سے سعودی وزارت حج و عمرہ کا کہنا ہے کہ تمام عمرہ ویزا ہولڈر 18 اپریل تک مملکت سے چلے جائیں۔
وزارت حج و عمرہ نے کہا کہ عمرہ زائرین ویزے کی میعاد ختم ہونے سے قبل وطن روانہ ہو جائیں۔
سعودی وزارت حج و عمرہ کا کہنا ہے کہ خلاف ورزی کے مرتکب افراد پر قید و جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
ایران نے آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ پر واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس صورتحال کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو ٹھہرا دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں جو رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں، وہ دراصل اس تنازع کا نتیجہ ہیں جس کا آغاز امریکا اور اسرائیل نے کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اس صورتحال کا مورد الزام ٹھہرانا حقائق کے منافی ہے۔
عباس عراقچی نے امریکا اور اسرائیل کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی قسم کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی ذمہ داری بھی انہی قوتوں پر عائد ہوتی ہے جو کشیدگی کو ہوا دے رہی ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بھی اسی مؤقف کو دہرایا گیا اور کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطرناک حالات کے براہِ راست ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولا نہ گیا تو سخت ردعمل سامنے آسکتا ہے۔

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے دنیا کی پہلی کانسیپٹ کوانٹم بیٹری کو تیار کیا ہے۔کوانٹم بیٹریز کا تصور 2013 میں سامنے آیا تھا جب یہ خیال پیش کیا گیا کہ کوانٹم مشینیں توانائی کو ذخیرہ کرسکتی ہیں اور روایتی بیٹریز کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہیں۔اب محققین نے ایک پروٹوٹائپ کوانٹم یٹری تیار کی ہے جو ایک لیزر کے ذریعے وائرلیس چارج ہوتی ہے اور ان کا ماننا ہے کہ یہ مکمل فعال کوانٹم بیٹریز کی جانب سے اہم پیشرفت ہے۔آسٹریلیا کی نیشنل سائنس ایجنسی کے محققین نے اسے تیار کیا اور محقق ڈاکٹر جیمز کواش نے بتایا کہ یہ دنیا کی پہلی پروٹوٹائپ کوانٹم بیٹری ہے، جسے آپ چارج کرسکتے ہیں، توانائی ذخیرہ کرسکتے ہیں اور ڈس چارج کرسکتے ہیں۔روایتی بیٹریز کا حجم جتنا زیادہ ہوتا ہے، انہیں چارج ہونے میں اتنا زیادہ وقت لگتا ہے، جبکہ کوانٹم بیٹری فوری چارج ہوسکتی ہے۔محققین کے مطابق آپ کے موبائل فون کو چارج ہونے میں 30 منٹ لگتے ہیں جبکہ الیکٹرک گاڑی پوری رات چارج ہوتی ہے جبکہ کوانٹم بیٹریز کو آپ کو منٹوں میں چارج کرسکیں گے اور اس لیے یہ زیادہ مؤثر ثابت ہوں گی۔