وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کو عید الفطر کے احترام میں عارضی طور معطل کیا گیا ہے، تاہم ہمسایہ ملک کو ایک ذمہ دار ریاست کا ثبوت دینا ہوگا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مساجد، امام بارگاہیں، بازار اور معصوم بچے سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کی وجہ سے محفوظ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امتِ مسلمہ کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے لیکن اب ہمیں سب سے پہلے اپنے ملک کی فکر کرنی ہے۔وزیر مملکت نے واضح کیا کہ آپریشن صرف عید کے لیے رکا ہےلیکن یہ مستقل طورپر تب ہی ختم ہوگا جب افغانستان ان تمام شرائط کو پورا کرے گا جو پوری دنیا کا مطالبہ ہے۔طلال چوہدری نے کہا کہ افغانستان نے دوحہ معاہدے میں وعدہ کیا تھا کہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا، انہیں یہ وعدہ پورا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ سفارتی، سیاسی اور ملٹری ٹو ملٹری سطح پر طویل بات چیت ہوتی رہی ہے، جس کے بعد پاکستان نے وہ قدم اٹھایا جس سے اب تک گریز کیا جا رہا تھا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پاکستان پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ وہاں ہمارے 40 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں اور ہماری تیل کی ترسیل کا بڑا حصہ بھی وہیں سے آتا ہے۔
اسرائیلی کے بقول ایف سولہ طیارہ ایرانی حملے میں محفوظ رہاایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی مرکزی فضائی حدود میں اسرائیل کے ایف سولہ لڑاکا طیارے کو میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی صبح تین بج کر پینتالیس منٹ پر کی گئی اور جدید فضائی دفاعی نظام استعمال کیا گیا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران دو سو سے زائد دشمن فضائی اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے جن میں ڈرون کروز میزائل اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ اس کا ایک لڑاکا طیارہ ایرانی فضائی حدود میں کارروائی کے دوران فضائی دفاعی نظام کی زد میں آیا تھا لیکن پائلٹ نے بروقت خطرے کو محسوس کیا جس کے باعث طیارے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور اس نے طے شدہ ہدف کامیابی سے مکمل کیا۔خیال رہے کہ امریکا نے ایران کے جوہری مرکز نطنز کو نشانہ بنایا ہے تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سب کچھ کنٹرول میں ہے اور تابکار کا اخراج نہیں ہوا۔ادھر ایران نے کئی ہزار کلومیٹر دور امریکا اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔ جسے بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران نے دیمونا کے بعد اسرائیل کے ایک اور شہر عراد پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئی ہیںرپورٹس کے مطابق ایران نے آپریشن وعدہ صادق 4 کے 72 ویں مرحلے میں اسرائیلی شہر عراد پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حملہ غیر معمولی شدت کا تھا، بیلسٹک میزائل نے متعدد عمارتوں کو تباہ کر دیا جس کے نتیجے میں جنوبی شہر عراد میں 70 سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی بھی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔اسرائیلی حکام نے حملے کی تصدیق کر دی ہے جبکہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والے تمام افراد کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی بیلسٹک میزائل حملے میں 71 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 10 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔برطانوی میڈیا نے حملے میں 5 افراد کی ہلاکت اور 70 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔اسرائیل نے ایرانی بیلسٹک میزائل کے حملے کا شکار بننے والے شہر دیمونا اور عراد میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور تمام اسکول بند کر دیئے ہیں۔اسرائیل کی فضائیہ نے جنوبی شہر عراد میں بیلسٹک میزائل کو روکنے میں ناکامی پر باضابطہ تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے واقعے نے ملکی دفاعی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق میزائل نے عراد میں براہِ راست ہدف کو نشانہ بنایا جبکہ اسے روکنے کی دو کوششیں بھی ناکام رہیں.

ایک امریکی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باوجود بالواسطہ رابطے اب بھی جاری ہیں۔رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات تو ختم ہو چکے ہیں، تاہم قطر، مصر اور برطانیہ ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ویب سائٹ کے مطابق امریکا ایران سے یورینیم افزودگی کے پروگرام کے خاتمے کے ساتھ ساتھ پانچ سال کے لیے میزائل پروگرام محدود کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ دوسری جانب ایران جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا ہرجانہ طلب کر رہا ہے۔ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا ایران کے منجمد اثاثے واپس کر دے تو ہرجانے کے مطالبے پر پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق بالواسطہ سفارتکاری اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے کسی نہ کسی سطح پر رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
قطر کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ایک قطری ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کے باعث سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا ہے۔وزارت کے مطابق یہ حادثہ اتوار کے روز معمول کی ڈیوٹی کے دوران پیش آیا، جب ہیلی کاپٹر ملک کی سمندری حدود میں پرواز کر رہا تھا۔ حادثے کے بعد عملے کے ارکان کی تلاش کے لیے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ تکنیکی خرابی کا نتیجہ ہے اور فی الحال کسی دشمنانہ کارروائی کے شواہد سامنے نہیں آئے۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور حالیہ ہفتوں کے دوران قطر کو سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ریسکیو آپریشن جاری رکھا جائے گا۔
سعودی عرب نے اہم سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے ایران کے سفارتی عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی فوجی اتاشی اور اسسٹنٹ فوجی اتاشی سمیت سفارتخانے کے دیگر ارکان کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔سعودی عرب کا ایران کو سخت الٹی میٹم، حملے نہ رکے تو جواب کیلئے تیار رہوبیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ملکی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے پیشِ نظر کیا گیا ہے اور مملکت ہر ممکن اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔سعودی حکام نے ایران پر سخت الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی اقدامات خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور ان کے نتائج بھی نہایت سنگین ہوں گے۔حکم کے مطابق ایرانی ملٹری اتاشی، اسسٹنٹ ملٹری اتاشی اور سفارتخانے کے مزید تین اہلکاروں کو فوری طور پر سعودی عرب چھوڑنا ہوگا۔

پشاور سمیت خیبر پختون خوا کے مختلف علاقوں میں 4.4 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا کے دارالحکومت سمیت مختلف علاقوں میں شہریوں نے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے، جس کے بعد وہ خوفزدہ ہوگئے۔زلزلہ پیما مرکز نے بتایا کہ ریکڑ اسکیل پر زلزلے کی شدت 4۔4 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کا مرکز افغانستان کا صوبہ بدخشاں کا پہاڑی سلسلہ ہندوکش تھا۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی زیر زمین گہرائی 95 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔دوسری جانب ریسکیو حکام نے بتایا کہ زلزلے کے جھٹکوں سے جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم ٹیموں کو الرٹ کردیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی اور سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال نہ کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔اپنے تازہ بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا مرحلہ وار ایران کے اہم پاور پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس کا آغاز بڑے بجلی گھروں سے ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اس معاملے میں کسی تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ٹرمپ کے بیان پر ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس نوعیت کی کوئی کارروائی کی گئی تو مشرق وسطیٰ میں امریکی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔امریکی صدر نے ایک اور موقع پر میڈیا پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکا ایران کے خلاف اپنے اہداف حاصل کر چکا ہے، جبکہ بعض رپورٹس اس کے برعکس تاثر دے رہی ہیں۔یاد رہے کہ اس سے ایک روز قبل ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیاں محدود کرنے پر غور کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے ممالک کو اپنی سکیورٹی خود یقینی بنانا چاہیے

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق برطانیہ نے امریکا کو اجازت دے دی ہے کہ وہ ایرانی اہداف پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال کر سکے، خاص طور پر وہ اہداف جو آبنائے ہرمز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس سے قبل برطانیہ امریکی افواج کو صرف اُن کارروائیوں کے لیے برطانوی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے چکا تھا جن کا مقصد ایران کو ایسے میزائل فائر کرنے سے روکنا تھا جو برطانوی مفادات یا جانوں کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔تاہم جمعہ کو ہونے والے وزارتی اجلاس میں اس اجازت کے دائرہ کار کو وسیع کرنے پر اتفاق کیا گیا، جس کے تحت اب امریکی افواج برطانوی اڈوں کو آبنائے ہرمز میں جہازوں کے تحفظ کے لیے بھی استعمال کر سکیں گی۔ڈاؤننگ اسٹریٹ نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ خود ان حملوں میں براہِ راست شامل نہیں ہوگا اور حکومت کے مطابق تنازع کے حوالے سے برطانیہ کے اصولی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ترجمان کے مطابق وزرا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ برطانوی اڈے اب امریکی دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں، جن کا ہدف وہ صلاحیتیں ہوں گی جو آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔

حیدرآباد کنگز کے کپتان مارنوس لبوشین کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل سیزن 11 میں حیدرآباد ٹیم کی قیادت کرنے کیلئے بے تاب ہوں۔،اپنے ایک بیان میں مارنوس لبوشین نے حیدرآباد ٹیم کی قیادت کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل سیزن11 میں حیدرآباد ٹیم کی قیادت کرنے کے لیے بےتاب ہوں۔مارنوس لبوشین نے مزید کہا کہ حیدرآباد ٹیم کو جوائن کرنے کا منتظر ہوں، حیدرآباد کے فینز آئیں اور ہمیں سپورٹ کریں۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے تو ہوجائے ہوجمالو کا نعرہ بھی لگایا۔واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ کا یہ سیزن 26 مارچ سے 3 مئی تک کھیلا جائے گا اور پی ایس ایل کے نئے سیزن کا آفیشل اینتھم چاند رات پر ریلیز کیے جانے کا امکان ہے۔