برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ ایران کے خلاف جاری جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، تاہم خطے میں سمندری آمدورفت کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنا آسان کام نہیں لیکن اسے جلد بحال کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔
برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک مستند اور قابلِ عمل منصوبے کی ضرورت ہے، تاہم اس پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ نیٹو کا مشن نہیں بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے کیونکہ جنگ کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔
اسٹارمر نے بتایا کہ اب تک 92 ہزار برطانوی شہری مشرق وسطیٰ سے واپس آ چکے ہیں جبکہ حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد ایران کے ساتھ کسی نہ کسی معاہدے کے لیے مذاکرات کرنا ہوں گے۔
اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ اس تنازع کے تیز ترین حل کے لیے کام کرتا رہے گا اور وقت بتائے گا کہ اس جنگ کے بارے میں برطانیہ کا مؤقف درست تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔
یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز میں فوجی کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایران سے جاری تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہونا چاہتے۔
یورپی یونین کے اجلاس کے موقع پر جرمنی کے وزیر خارجہ یوهان واڈیفل نے کہا کہ ان کا ملک موجودہ تنازع میں کسی فوجی مشن میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو اپنے اہداف اور حکمت عملی کے بارے میں اتحادیوں کو واضح معلومات فراہم کرنی چاہئیں۔ جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے بھی کہا کہ ان کا ملک فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا، تاہم وہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرے گا۔
برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی واضح کیا کہ ان کا ملک اس تنازع کو نیٹو مشن نہیں سمجھتا اور وہ وسیع جنگ میں شامل نہیں ہوگا، البتہ اتحادیوں کے ساتھ مختلف آپشنز پر بات چیت جاری ہے

امارتی حکام کے مطابق اماراتی فضائی دفاع نے بیلسٹک میزائل حملے کو ناکام بنایا ، ابوظبی کے علاقے بنی یاس میں میزائل کے ٹکڑے گرے جس کے نتیجے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق ہو گیا۔
متحدہ عرب امارات میں حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 7 ہوگئی ہے، حالیہ کشیدگی میں تین پاکستانی شہری مارے جاچکے ہیں، ایک پاکستانی دبئی میں جبکہ 2 ابوظبی میں جاں بحق ہوئے۔

آبنائے ہرمز سے گزر کر آنے والا پہلا پاکستانی بحری جہاز ایم ٹی کراچی خلیج عمان سے بحیرہ عرب میں داخل ہوگیا ہے۔اطلاعات کے مطابق یہ جہاز پاکستان کی سمندری حدود میں داخل ہو چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بحری جہاز 18 مارچ کو کراچی کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوگا۔ایم ٹی کراچی میں 8 کروڑ لیٹر خام تیل موجود ہے اور اسے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی حکام کی جانب سے خصوصی اجازت دی گئی تھی۔ذرائع کے مطابق ایم ٹی کراچی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی سمندری حدود استعمال کیں جب کہ پاکستان نیوی نے جہاز کو مکمل سمندری تحفظ فراہم کیا۔انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق ایم ٹی کراچی میں لدے ہوئے خام تیل کی ادائیگی چینی کرنسی میں کی گئی ہے۔

افغان طالبان کی جانب سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کا پردہ چاک ہوگیا، جہاں اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف ہوا ہے۔وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے کیے گئے فیکٹ چیک کے مطابق جس امید اسپتال کو افغان طالبان کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہ دراصل کیمپ فینکس (Camp Phoenix) سے کئی کلومیٹر دور واقع ہے۔وزارت اطلاعات کے مطابق اصل ہدف ایک عسکری مقام تھا جہاں دہشتگردوں کے اسلحہ اور بارود کا ذخیرہ موجود تھا، جسے گزشتہ رات درست نشانہ بنایا گیا۔تصاویر سے بھی واضح ہے کہ اصل اسپتال ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے جبکہ نشانہ بنائی گئی جگہ کنٹینرز پر مشتمل عسکری/دہشت گرد انفرا اسٹرکچر تھا۔ یہ فرق خود ہی حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر یہ واقعی منشیات کے عادی افراد کے علاج کا مرکز تھا تو پھر اسے ایک ایسے فوجی کیمپ میں کیوں قائم کیا گیا جہاں مہلک اسلحہ اور بارود ذخیرہ کیا جاتا ہو؟ یہ تضاد خود اس دعوے کی حقیقت پر سوال اٹھاتا ہے۔وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی جانب سے ڈیلیٹ ویڈیو پر سوال اٹھا دیےوزارتِ اطلاعات و نشریات نے ایک اور اہم فیکٹ چیک جاری کرتے ہوئے افغان سرکاری سوشل میڈیا ہینڈل سے ایک پوسٹ اور ویڈیو ڈیلیٹ کیے جانے پر گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔مذکورہ آفیشل اکاؤنٹ کی جانب سے سب سے پہلے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ کسی منشیات بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم بعد ازاں اس متنازع پوسٹ کو اچانک ہی ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے

وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے عیدالفطر کے پیش نظر اپنے طور پر اور برادر اسلامی ممالک کی درخواست پر افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن غضب اللحق میں 5 روز تک عارضی طور پر وقفہ کردیا ہے۔وفاقی وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ عیدالفطر کے پیش نظرحکومت پاکسان نے اپنے طور پر اقدام کرتے ہوئے اور برادر اسلامی ممالک سعودی عرب، قطر اور ترکی کی درخواست پر افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کو مدد فراہم کرنے والے ڈھانچے کے خلاف جاری آپریشن غضب اللحق میں عارضی طور پر وففے کے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپریشن غضب للحق میں وقفہ 18 اور 19 مارچ 2026 کی درمیانی شب سے 23 اور 24 مارچ 2026 کی درمیانی شب تک لاگو ہوگا۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان یہ وقفہ نیک نیتی اور اسلامی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کر رہا ہے تاہم سرحد پار سے کسی بھی حملے، ڈرون حملے یا دہشت گردی کے واقعے پر’آپریشن غضب للحق’ فوری دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

دہشت گردگروہ افغان طالبان عالمی امن اور انسانی حقوق کیلئےسنگین خطرہ بن چکےہیں،افغان طالبان رجیم افغانستان میں خواتین اوراقلیتوں کوسماجی اوراقتصادی طور پرمکمل مفلوج کرنےمیں مصروف ہے،افغان جریدے ہشت صبح کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس الائنس نے طالبان پر اقوام متحدہ کی کڑی پابندیوں کا خیرمقدم کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 22 اعلیٰ طالبان ارکان پرپابندیاں عائدکیں جسے انتہائی اہم اقدام قرار دیاجارہا ہے،پابندیوں کی فہرست میں افغان عبوری وزیراعظم محمدحسن اخوند اوروزیر خارجہ سراج الدین حقانی سمیت کئی سینئر عہدیدار شامل ہیں۔ہشت صبح کے مطابق برطانیہ نےبھی سلامتی کونسل کے فیصلے کے مطابق طالبان پر اپنی پابندیوں کی فہرست کی توثیق کرتے ہوئے اسے اپ ڈیٹ کر دیا ہے

ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں اور ایران کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے بعد سے وہاں پھنسے پاکستانی شہریوں کی سڑک کے راستے واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ 28 فروری سے لے کر گذشتہ روز تک ایران سے پانچ ہزار 615 پاکستانی شہری ضلع چاغی اور گوادر کے راستے واپس پہنچ چکے ہیں۔
سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ پاکستانی شہریوں کے علاوہ دو ہزار 117 ایرانی ڈرائیورز اور 431 دیگر ممالک کے شہری بھی ایران سے پاکستان میں داخل ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ واپس آنے والوں کو گوادر اور چاغی کے انتظامیہ نے ہر ممکن سہولت فراہم کی۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ بلوچستان حکومت دونوں سرحدی گزرگاہوں پر مسافروں کو ہر ممکن معاونت کی فراہمی کے لیے متحرک ہے۔

پاکستان نے چین سے کہا ہے کہ وہ طالبان حکومت کے ساتھ عدم رابطہ کی اپنی موجودہ پالیسی جاری رکھے گا کیونکہ کابل حکومت کالعدم ٹی ٹی پی اور افغان سرزمین سے کام کرنے والے دیگر دہشت گرد گروپوں کی موجودگی پر اپنا موقف تبدیل کرنے میں ناکام ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کیلیے پاکستان نے اپنے قریبی اتحادی بیجنگ کی تازہ ترین سفارتی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔چین نے حال ہی میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرنے کیلیے افغانستان کے لیے اپنے خصوصی ایلچی کو کابل اور اسلام آباد بھیج کر سفارتی کوششیں تیز کی ہیں۔خصوصی ایلچی اس وقت افغانستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی کوشش میں مصروف ہے۔چین کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ وانگ ژی نے افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی اور صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔چین کو امید ہے کہ دونوں فریق صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں گے اور جلد از جلد براہ راست ملاقات اورجنگ بندی کر کے تنازعات اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں گے۔بیجنگ نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مفاہمت اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فعال کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔باخبر ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ پاکستان نے بحران کو کم کرنے کے لیے چین کی مخلصانہ کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ کابل کے ساتھ معمول کی سفارتی کوششوں کی واپسی زمینی تبدیلیوں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

ایران کے خلاف جاری جنگ امریکا کے لیے مہنگی پڑنے لگی ہے اور اب تک اس جنگ پر 12 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ امریکی حکام نے حملوں میں مزید شدت لانے کا عندیہ دے دیا ہے۔وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر کیون ہیسیٹ نے امریکی ٹی وی پروگرام فیس دی نیشن میں انکشاف کیا کہ امریکا نے 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں اب تک تقریباً 12 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔پروگرام کی میزبان مارگریٹ برینن نے نشاندہی کی کہ جنگ کے پہلے ہی ہفتے میں صرف ہتھیاروں پر 5 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے تھے تاہم کیون ہیسٹ اس سوال کا واضح جواب نہ دے سکے۔یل پر پہلی مرتبہ ‘سجیل میزائل’ کے حملےدوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر بمباری میں جلد ہی ڈرامائی اضافہ ہونے والا ہے، جس سے جنگ کے اخراجات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔