Pakistan

ایسی حکومت نہیں ہوسکتی جو دہشت گردوں سے ہمدردی رکھے،، عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے غیر ملکی نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر اتفاق رائے کے لیے مذاکرات کے ذریعے متعدد کوششیں کی گئیں، ہمارا صرف ایک غیر سیاسی ایجنڈا تھا، پی ٹی آئی اپنا مارچ جاری رکھ سکتی تھی اور اپنے دیگر سیاسی مطالبات بھی پیش کر سکتی تھی، تاہم وفاقی حکومت صرف دہشت گردی کے خلاف متحدہ اور متفقہ پالیسی اختیار کرنا چاہتی تھی۔عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ملک میں ایسی حکومت نہیں ہو سکتی جو دہشت گردوں سے ہمدردی اور ان کی حمایت کرے اور ایسی پالیسی اپنائے جس سے دہشت گردوں کو اپنی کارروائیاں اور سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع ملے۔ ہم پی ٹی آئی کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور مشترکہ پالیسی کے بارے میں مذاکرات کر رہے تھے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک ملک کی دو خارجہ پالیسیاں نہیں ہو سکتیں۔ ایک طرف وفاقی حکومت افغانستان کے حوالے سے بات چیت اور سفارتی کوششیں کر رہی ہے اور مطالبہ ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کی جائیں۔ عبوری افغان حکومت قابل اعتبار اقدامات کرے تاکہ افغان سرزمین پاکستان کے اندر دہشت گردانہ حملوں کے لیے استعمال نہ ہو، جبکہ دوسری طرف صوبائی حکومت کی عبوری افغان حکومت کے بارے میں الگ پالیسی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ایک ہی ملک میں دو مختلف پالیسیاں کیسے ہو سکتی ہیں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *