Pakistan

بیرئیر ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت کیس، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر جرمانے بھی عائد اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے بیرئیر ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی۔ عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے اڈیالہ جیل میں فیصلہ سنایا۔ دونوں ملزمان کو دہشت گردی کی دفعہ کے تحت 10 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے، دفعہ 353 کے تحت 2 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے، جبکہ دفعہ 186 کے تحت ایک سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے دفعہ 382 کا فائدہ دیتے ہوئے سزاؤں کو یکجا کرنے کا حکم دیا، جس کے باعث دونوں ملزمان مجموعی طور پر 10 سال قید کاٹیں گے، جبکہ انفرادی سزاؤں کا مجموعہ 13 سال بنتا ہے۔ فیصلے کے بعد جیل پولیس نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو کمرہ عدالت سے تحویل میں لے لیا۔ ایمان مزاری کو خواتین بیرکس جبکہ ہادی علی چٹھہ کو مردوں کی بیرکس میں منتقل کیا گیا۔ واضح رہے کہ دونوں وکلا کے خلاف 25 اکتوبر 2024 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا، جبکہ 7 اکتوبر کو ان پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا تھا، جس کے بعد باقاعدہ ٹرائل شروع ہوا۔ استغاثہ کی جانب سے مقدمے میں مجموعی طور پر سات گواہ پیش کیے گئے تھے۔

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے بیرئیر ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی۔
عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے اڈیالہ جیل میں فیصلہ سنایا۔ دونوں ملزمان کو دہشت گردی کی دفعہ کے تحت 10 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے، دفعہ 353 کے تحت 2 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے، جبکہ دفعہ 186 کے تحت ایک سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
عدالت نے دفعہ 382 کا فائدہ دیتے ہوئے سزاؤں کو یکجا کرنے کا حکم دیا، جس کے باعث دونوں ملزمان مجموعی طور پر 10 سال قید کاٹیں گے، جبکہ انفرادی سزاؤں کا مجموعہ 13 سال بنتا ہے۔
فیصلے کے بعد جیل پولیس نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو کمرہ عدالت سے تحویل میں لے لیا۔ ایمان مزاری کو خواتین بیرکس جبکہ ہادی علی چٹھہ کو مردوں کی بیرکس میں منتقل کیا گیا۔
واضح رہے کہ دونوں وکلا کے خلاف 25 اکتوبر 2024 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا، جبکہ 7 اکتوبر کو ان پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کیا تھا، جس کے بعد باقاعدہ ٹرائل شروع ہوا۔ استغاثہ کی جانب سے مقدمے میں مجموعی طور پر سات گواہ پیش کیے گئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *