World

قتل کیس میں جعلی گواہوں کی پیشی، وکیل کو 5 ہزار ڈالر جرمانہ چیٹ جی پی ٹی سے تیار عدالتی دستاویز میں فرضی گواہوں کا انکشاف

نیو میکسیکو: امریکی ریاست نیو میکسیکو میں ایک وکیل کو قتل کے مقدمے میں چیٹ جی پی ٹی پر اندھا اعتماد مہنگا پڑ گیا، عدالت میں فرضی گواہوں اور جعلی گواہی پر مبنی دستاویز جمع کرانے پر وکیل پر 5 ہزار ڈالر جرمانہ عائد کردیا گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق نیو میکسیکو کی سپریم کورٹ نے وکیل اسٹیفن ایرونز کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے معاملہ وکلا کے تادیبی بورڈ کو بھی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ معاملہ آسکر رینی سینڈوول کی قتل کی سزا کے خلاف اپیل سے متعلق ہے۔ عدالت کے مطابق وکیل کی جانب سے جمع کرائی گئی اپیل میں ایسے گواہوں کی گواہیاں شامل تھیں جو حقیقت میں موجود ہی نہیں تھے۔
وکیل اسٹیفن ایرونز نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے مقدمے کا خلاصہ تیار کرنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی سے مدد لی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مقدمے سے متعلق مواد اے آئیے کے حقائق اور گواہوں کی تفصیلات بھی خود سے گھڑ سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی غلطی پر افسوس کا اظہار کیا اور اسے غیر ارادی قراراحت پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی تصدیق کیے بغیر انہیں عدالت پروگرام میں فراہم کیا اور یہ سمجھا کہ انہیں قابل اعتماد خلاصہ حاصل ہوگا۔
عدالت نے وکیل پر 5 ہزار ڈالر جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ پیشہ ورانہ تادیبی کارروائی کی سفارش بھی کردی۔ واقعے نے ایک بار پھر قانونی معاملات میں اے آئی سے حاصل شدہ معلومات کی مکمل جانچ پڑتال کی ضرورت کو اجاگر کردیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *