Blog
پشاور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: محکمہ صحت کی بھرتیاں قانونی قرار ایسی کوئی مادی بے ضابطگی موجود نہیں جو عدالتی مداخلت کی متقاضی ہو

پشاور ہائی کورٹ نے محکمہ صحت خیبرپختونخوا کے جاری بھرتی عمل کو قانونی، شفاف اور میرٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھرتیوں میں ایسی کوئی مادی بے ضابطگی موجود نہیں جو عدالتی مداخلت کی متقاضی ہو۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بھرتی کے عمل میں مداخلت سے ضروری طبی عملے کی تقرری میں تاخیر ہو سکتی ہے، جس سے عوامی مفاد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ صوبے خصوصا دور دراز علاقوں میں طبی عملے کی کمی کے پیش نظر بھرتی کا بروقت مکمل ہونا ناگزیر ہے تاکہ صحت کی سہولیات کی فراہمی متاثر نہ ہو۔پشاور ہائی کورٹ نے بھرتیوں سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے گریوینس ریڈریسل کمیٹی کو مکمل طور پر فعال بنانے کی ہدایت بھی جاری کی۔عدالت نے ہدایت کی کہ ہر امیدوار کو اپنی شکایت پر ذاتی موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے اور قانون کے مطابق تفصیلی فیصلہ جاری کیا جائے۔عدالت نے مزید حکم دیا کہ گریوینس ریڈریسل کمیٹی کے فیصلے سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جائیں، جبکہ متعلقہ امیدواروں کو ای میل اور موبائل فون کے ذریعے بھی آگاہ کیا جائے۔محکمہ صحت خیبرپختونخوا نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شفاف، میرٹ پر مبنی اور بروقت بھرتی کے عمل کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے، تاکہ عوام کو معیاری اور بلا تعطل طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے