Blog
پی ٹی آئی کو واضح پیغام کے پی میں علیحدہ سکیورٹی پالیسی کی کوئی گنجائش نہیں، وفاق

اسلام آباد: وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی کی قیادت کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی پالیسی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا اور خیبر پختونخوا حکومت وفاق سے الگ کوئی سکیورٹی پالیسی اختیار نہیں کر سکتی۔ باخبر ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کی قیادت کو دوٹوک الفاظ میں بتا دیا گیا ہے کہ پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرے کو وفاقی حکومت اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ بیرونی جارحیت کا نتیجہ سمجھتی ہے، جبکہ پاکستان کیخلاف حملوں کیلئے افغان سرزمین استعمال کی جا رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کا جائزہ یہ ہے کہ غیر ملکی عناصر ملک کے اندر دہشت گردی کی حمایت میں ملوث ہیں، جن میں بھارت کو ایک مرکزی کردار کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وسیع تر خطرے کے پیش نظر اسرائیل کے کردار پر بھی بات کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایسی بیرونی جارحیت کیخلاف پاکستان کا ردعمل تشکیل دینا وفاق کی ذمہ داری ہے۔ پالیسی وفاقی حکومت کی جانب سے عسکری اور دفاعی اسٹیبلشمنٹ سے مشاورت کے ساتھ وضع کی جائے گی اور صوبوں سے توقع ہے کہ وہ اس کی مکمل حمایت اور اس پر عمل درآمد کریں گے۔ پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ مذاکرات میں شامل ایک ذریعے نے کہا کہ جب ملک کو ایسے حالات کا سامنا ہو جسے بیرونی جارحیت قرار دیا جا رہا ہو تو مختلف صوبوں کیلئے مختلف سکیورٹی پالیسیاں تشکیل نہیں دی جا سکتیں۔