Blog
نئے صوبوں کا فیصلہ پارلیمنٹ میں ہو گا، رانا ثناء اللہ ریفرنڈم کا فیصلہ بھی ہو تو اس کی اجازت پارلیمنٹ دے گی

لاہور: مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا فیصلہ پارلیمنٹ میں ہوگا،اس حوالے سے ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ بھی پارلیمنٹ نے ہی کرنا ہے، 27 ستمبرکے لانگ مارچ کے حوالے سے تحریک انصاف سے مشاورت آن دی ریکارڈ ممکن نہیں، شاید آف دی ریکارڈ مشاورت ہو رہی ہو، جو ہوگا اس کا نتیجہ سامنے آ جائے گا رپورٹس ہیں کہ مارچ میں مسلح لوگ بھی ہو سکتے ہیں۔ ماڈل ٹاؤن لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی میں ملوث عناصر بھی اس لانگ مارچ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔جن لوگوں کے ارادے پرامن نہ ہوں، انہیں روکنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فرض ہے، جماعت اسلامی کا احتجاج پرامن ہوگا اور اس نے ہمیشہ آئینی و قانونی طریقہ اختیار کیا ہے۔جتنی خواہش جماعت اسلامی کی پٹرول کی قیمت کم ہونے کی ہے، اتنی ہی خواہش وزیراعظم کی بھی ہے، حکومت سنجیدگی سے معاملے پر غور کر رہی ہے، جماعت اسلامی خود کو مشکل میں نہ ڈالے۔پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان آزاد کشمیر انتخابات کے دوران پیدا ہونے والی تلخی میں کافی کمی آئی ہے، دونوں جماعتوں کے درمیان معاملات بہتر انداز میں حل کیے جائیں گے۔نئے صوبوں کے معاملے پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے موقف پر بات چیت جاری ہے، ن لیگ پارلیمنٹ میں بحث کا حصہ لے گی اور وزیراعظم بھی اس پر بات کریں گے۔صوبے بننے یا نہ بننے کا حتمی فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے، ریفرنڈم کا فیصلہ بھی ہو تو اس کی اجازت پارلیمنٹ ہی دے گی۔