Pakistan

پی ٹی آئی ممکنہ لانگ مارچ کیس کا فیصلہ محفوظ عدالت میں2022 اور 24 کے احتجاج کی ویڈیوز چلا ئی گئیں

اسلام آباد: ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو ممکنہ لانگ مارچ اور احتجاج کے خلاف کیس میں دلائل اور آئی جی خیبرپختونخوا کا بیان سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں 3 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس آصف بھی شامل تھے۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید ملک، پراسیکیوٹر جنرل منظور ججہ، آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید اور چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔چیف سیکریٹری اور آئی جی خیبرپختونخوا نے بیان حلفی عدالت میں جمع کرایا۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید ملک نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے 2022 اور 2024 کے احتجاج کی ویڈیوز چلانے سے متعلق متفرق درخواست دائر کی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے بتایا تھا کہ وہ 27 اے کے نوٹس کے تحت پیش ہوئے، حالانکہ 27 اے کا نوٹس صرف اٹارنی جنرل پاکستان کو تھا، ایڈووکیٹ جنرلز کو نہیں۔ سماعت کے دوران خیبرپختونخوا کے لانگ مارچ سے متعلق اخبار میں چھپنے والے بیانات پڑھے گئے۔ چیف جسٹس نے متفرق درخواست سے متعلق استفسار کیا تو ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ وہ کہتے ہیں لانگ مارچ بڑا پرامن ہوگا اور عدلیہ کو مضبوط کرنے کے لیے آرہے ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی قیادت کے بیانات عدالت کے سامنے پڑھیں گے، ایک بیان میں کہا گیا کہ ’’یا آزادی یا شہادت‘‘۔ انہوں نے نومبر 2024 کے احتجاج کی ویڈیوز عدالت میں چلانے کی اجازت بھی مانگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *