Pakistan

قانون کے مطابق کام کریں‘وزیراعلیٰ کی آئی جی کو وارننگ پولیس کسی غیرقانونی دباؤ کو قبول نہ کرے،سہیل آفریدی

ویب ڈیسک: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کے درمیان ملاقات میں پولیس کے رویے، منتخب نمائندوں اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ برتاؤ سمیت مختلف امور پر گفتگو ہوئی، اس دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی آئی جی کو وارننگ کے دوران دو ٹوک موقف اپنایا گیا کہ حلف اور قانون کے مطابق کام کریں۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے پولیس کے مبینہ رویے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی سے کہا کہ پولیس کو قانون اور اپنے حلف کے مطابق کام کرنا چاہیے اور کسی بھی غیرقانونی دباؤ کو قبول نہیں کرنا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے ملاقات میں کہا کہ پولیس کو غیر سیاسی اور آزاد رکھنا ان کے قائد کا خواب تھا اور وہ پولیس کی آزادی ختم نہیں کرنا چاہتے۔وزیراعلیٰ نے مبینہ طور پر آئی جی سے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے کوئی غیرقانونی حکم نہیں دیا جاتا تو پولیس کو کسی اور کا غیرقانونی حکم بھی قبول نہیں کرنا چاہیے۔ان کے مطابق پولیس افسران کو ہر قسم کے دباؤ سے آزاد ہوکر اپنے حلف اور قانون کے مطابق فرائض انجام دینے چاہئیں۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے آئی جی خیبرپختونخوا کو خبردار کیا کہ فی الحال حکومت کی جانب سے پوسٹنگ اور تبادلوں کے اختیارات واپس لیے جارہے ہیں۔سہیل آفریدی نے مبینہ طور پر کہا کہ اگر پولیس حکام کا رویہ درست نہ ہوا تو صوبائی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے ڈرافٹ میں ترامیم کے ذریعے آئی جی کے دیگر اختیارات بھی واپس لیے جاسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے ملاقات میں کہا کہ اعلیٰ افسران اپنے عہدوں سے چلے جائیں گے، تاہم پولیس کے فیصلوں اور اقدامات کے منفی اثرات عوام کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر اعلیٰ پولیس افسران دباؤ کا شکار ہوں گے تو دہشتگردی کے خلاف کام کرنے والی پوری پولیس فورس کے مورال پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔وزیراعلیٰ نے مبینہ طور پر کہا کہ ایک پیشہ ور پولیس فورس کو وقتی دباؤ کی نظر نہیں کیا جانا چاہیے اور پولیس افسران کو قانون کے مطابق آزادانہ طور پر اپنے فرائض انجام دینے چاہئیں۔یہ ملاقات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبرپختونخوا میں پولیس کے اختیارات، تقرریوں اور تبادلوں کے طریقہ کار سے متعلق مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 بھی زیر بحث ہے۔حالیہ کابینہ فیصلے کے مطابق مجوزہ قانون میں پولیس پالیسی اور آپریشنل امور کے لیے الگ بورڈز سمیت مختلف انتظامی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *