Blog
طریقہ بدلنا ہوگا حکمران نوجوانوں کی توقعات سمجھیں، شاہد خاقان عباسی

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جدید دور میں بھی ملک چلانے کے لیے ماضی کے طریقے اپنائے جا رہے ہیں لیکن اب حالات بدل رہے ہیں، ملک چلانے کا طریقہ بدلنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور نئی نسل کے پاس علم اور آگے بڑھنے کے مواقع موجود ہیں۔یونیورسٹی آف لاہور میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اقتدار میں موجود لوگوں کو نوجوانوں کی توقعات اور ضروریات کو سمجھنا چاہیے، ان کے مطابق ملک کی سب سے بڑی غلطیوں میں تعلیم اور صحت کو وہ ترجیح نہ دینا شامل ہے جس کی یہ شعبے بنیادی طور پر ضرورت رکھتے ہیں۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج کی جنریشن زی کے پاس علم ہے اور دنیا مسلسل تبدیلی کے مراحل سے گزر رہی ہے، آنے والے برسوں میں عالمی صورتحال مزید تبدیل ہوگی، اس لیے حکمرانوں کو نئی نسل کی سوچ اور توقعات کو سمجھنا ہوگا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کے سوالات اور ان کے مستقبل سے وابستہ امیدوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بڑی غلطیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تعلیم اور صحت کو مطلوبہ ترجیح نہیں دی جا سکی۔انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات ملک کی بنیادی ضروریات ہیں اور ان شعبوں میں بہتری کے بغیر عوام کی زندگیوں میں پائیدار تبدیلی لانا مشکل ہوگا۔شاہد خاقان عباسی نے خطاب میں کہا کہ آج کا نوجوان سوال کرتا ہے کہ اس کے حقوق کہاں گئے، ان کے مطابق حکمرانوں کو نوجوانوں کی توقعات کا ادراک کرنا اور ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنا چاہییں۔سابق وزیراعظم نے ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ معیشت کو مضبوط کرے، تاہم آئین اور قانون کی بالادستی کے بغیر معاشی استحکام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دعوے بہت کیے جا سکتے ہیں، لیکن ان کے بقول مجموعی طور پر ملک غریب سے غریب تر ہوتا گیا۔شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ حقائق زیادہ دیر تک چھپائے نہیں جا سکتے اور بالآخر حقیقت سب کے سامنے آ جاتی ہے، آج سے سے اہم بات جہاں ملک چلانے کا طریقہ بدلنا ہوگا، وہیں حکمرانوں کو نوجوانوں کی توقعات سمجھنا ہونگی، اس نوجوان نسل کی قابلیت سے استفادہ کرنا ہوگا۔