17 ہزار ارب کا وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائیگا، تنخواہ اور پنشن میں اضافے کا امکان

اسلام آباد: اگلے مالی سال کا 17 ہزار ارب روپے کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔آئندہ مالی سال میں دفاع کے لیے تقریباً 3 ہزار ارب روپے اور قرض پر سود کی ادائیگی کے لیے 7 ہزار 824 ارب رپے مختص کیے جانے کا امکان ہے، پیٹرولیم لیوی کی مد میں ایک ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا پلان ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجویز ہے جب کہ ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ میں سولر پینلز، اسٹیشنری اشیاء اور اسٹاک مارکیٹ پر عائد ٹیکسوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد تک بڑھائے جانے کا امکان ہے جب کہ ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس شرحیں برقرار رکھے جانے کا امکان ہے۔آئندہ مالی سال کے دوران برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے جب کہ درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، دفاع اور وزارت داخلہ کے سوا کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا۔وفاقی حکومت نئے مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو تقریباً 50 ارب روپے تک ٹیکس ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے ماہانہ 4 لاکھ 67 ہزار روپے تک آمدن پر 29 فیصد ٹیکس لگانے، 5 لاکھ 83 ہزار روپے تک آمدن پر 32 فیصد ٹیکس شرح مقررکرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے جب کہ 5 لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد ماہانہ آمدن پر زیادہ سے زیادہ 35 فیصد ٹیکس برقرار رکھے جانے کا امکان ہے، اس کے علاوہ سالانہ 70 لاکھ روپے سے زائد آمدن والوں پر یہی شرح لاگو کرنے کی تجویز ہے، سالانہ ایک کروڑ سے زائد کمانے والوں پر عائد سرچارج ختم کیا جا سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *