Pakistan

سورینج کان دھماکہ: 34 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئیں ضلع شانگلہ کے 28 افراد بھی شامل‘امدادی سرگرمیاں جاری

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سورینج کے علاقے میں کوئلے کی کان میں جمعرات کو پیش آنے والے حادثے کے بعد کان میں پھنسے کان کنوں کی تلاش کی کارروائی جاری ہے اور پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ اب تک 34 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔سورینج بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے مشرق میں تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پہاڑی علاقہ ہے جہاں بڑی تعداد میں کوئلے کی کانیں موجود ہیں۔بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق کان میں جب دھماکہ ہوا تو اس وقت اندر کم از کم 36 کان کن موجود تھے۔مزدور رہنما پیر محمد کاکڑ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ معلوم ہوا کہ کان میں میتھین گیس بھرجانے کی وجہ سے دھماکہ ہوا تاہم سرکاری طور پر تاحال دھماکے کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔نیشنل لیبر فیڈریشن کے مرکزی عہدیدار عمر حیات نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ دھماکہ انتہائی شدید تھا جس کی وجہ سے کان کا ایک بڑا حصہ بیٹھ گیا۔عمر حیات کے مطابق ’دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ابتدائی طور پر جو دو لاشیں ملی تھیں وہ کان کے ہالیج آپریٹر اور ان کے معاون کی لاشیں تھیں جو حادثے کے مقام سے خاصے فاصلے پر موجود تھے لیکن دھماکے کے نتیجے میں مارے گئے۔‘بلوچستان کے وزیر مائنز میر شعیب نوشیروانی کا کہنا ہے کہ کوئلے کی کان بیٹھنے کے واقعے کے فوری بعد ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا اور صوبائی محکمہ برائے قدرتی آفات کا کہنا ہے کہ جمعے کی صبح تک 34 مزدوروں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔پی ڈی ایم اے کے مینیجر آپریشنز محمد فہد نے جمعے کی صبح بتایا کہ مزید دو کان کنوں کی لاشوں کو نکالنے کے لیے کارروائی جاری ہے۔جانی نقصان کے لحاظ سے یہ رواں سال بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں پیش آنے والا اب تک کا سب سے بڑا حادثہ قرار دیا جا رہا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *