Blog
گڈ گورننس کے لیے سسٹم کو ری سیٹ کرنا پڑے گا : ڈی جی آئی ایس پی آر نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا فیصلہ ہم نے نہیں، عوام نے کرنا ہے

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش مسائل کا حل گڈ گورننس کے بغیر ممکن نہیں، اچھی حکمرانی کیلئے ری سیٹ کی ضرورت ہے تو پھر اسے ہوجانا چاہیے۔
انسداد دہشت گردی اور سکیورٹی سے متعلق پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ گڈ گورننس کے بغیر معاملات حل نہیں ہو سکتے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا فیصلہ ہم نے نہیں، عوام نے کرنا ہے، اچھی حکمرانی کے بغیر معاملات بہتر نہیں ہوسکتے، اچھی حکمرانی کیلئے ری سیٹ کی ضرورت ہے تو پھر اسے ہوجانا چاہیے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14نکات پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے اور ان پر موثر عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر مسائل حل نہیں ہو رہے تو اس کا مطلب ہے کہ گڈ گورننس کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے، عوام اگر گورننس سے مطمئن ہیں تو ٹھیک ورنہ آئین کے مطابق فیصلہ کریں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں آئین اور قانون سب کے لیے برابر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہارڈ اسٹیٹ سے مراد ایسی ریاست ہے جہاں تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق چلائے جائیں، نہ کہ یہ کہ ریاستی امور فوج چلا رہی ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست، آئین اور قانون کے ساتھ وفاداری کا مظاہرہ کرے