Pakistan

بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی؟سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ اعتراضات محض مفروضوں پر مبنی ہیں، سپرنٹنڈنٹ جیل

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے بشریٰ بی بی کی حراست اور قیدِ تنہائی سے متعلق رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کو جیل میں ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کے تاثر کی تردید کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں کسی بھی قیدی، بشمول بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا۔ سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا کہ جیلوں میں قیدِ تنہائی کا نظام تقریباً ختم ہو چکا ہے، اب یہ رائج نہیں اور نہ ہی عدالتیں طویل عرصے سے ایسی سزا دے رہی ہیں۔سپرنٹنڈنٹ جیل کے مطابق بشریٰ بی بی سزا یافتہ قیدی ہیں اور قانون کے مطابق اپنی سزا کاٹ رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ان کے ساتھ دیگر قیدیوں کی طرح ہی قانونی سلوک کیا جا رہا ہے اور کسی قسم کا امتیازی یا غیر مساوی برتاؤ نہیں کیا جا رہا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چونکہ بشریٰ بی بی سابق وزیراعظم کی اہلیہ ہیں، اس لیے ان کی سیکیورٹی کے پیش نظر کچھ اضافی انتظامات کیے گئے ہیں۔ عام خواتین قیدیوں کو ان کی رہائش گاہ تک رسائی نہیں دی جاتی تاکہ ان کی حفاظت اور سلامتی متاثر نہ ہو۔سپرنٹنڈنٹ جیل کے مطابق درخواست گزار کے الزام کے برعکس بشریٰ بی بی کو تمام سہولیات حاصل ہیں۔ انہیں ایسے احاطے میں رکھا گیا ہے جہاں بڑا کمرہ، الگ صحن اور علیحدہ باورچی خانہ موجود ہے، جبکہ وہ صبح لاک اپ کھلنے سے شام لاک اپ بند ہونے تک آزادانہ نقل و حرکت کر سکتی ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ رات کے مقررہ اوقات میں قواعد کے مطابق کمرہ بند کیا جاتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *