نسل پرستانہ تشدد نے اسکاٹ لینڈ کو ہلا دیا، پانچ افراد زخمی
اسکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے مبینہ واقعات کے بعد پولیس نے انسدادِ دہشت گردی یونٹ کو تحقیقات میں شامل کر لیا ہے۔ ان حملوں میں پانچ افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس اسکاٹ لینڈ کے مطابق جمعہ کی رات مختلف مقامات سے متعدد ہنگامی کالز موصول ہوئیں جن میں تشدد، دھمکیوں، ڈکیتی اور توڑ پھوڑ کے واقعات کی اطلاع دی گئی۔ ان واقعات میں پانچ افراد زخمی ہوئے جن کی عمریں 22 سے 39 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق زخمی ہونے والوں میں سے تین افراد کو اسپتال منتقل کرنا پڑا، تاہم کسی کی حالت تشویشناک نہیں ہے۔ حکام نے 36 سالہ ایک سفید فام اسکاٹش شہری کو گرفتار کر لیا ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی واقعات ایڈنبرا کے علاقے سائتھل میں ایک مسجد کے قریب پیش آئے، جہاں دو افراد پر حملہ کیا گیا۔ بعد ازاں شہر کے دیگر علاقوں میں مزید تین افراد کو نشانہ بنایا گیا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ایک شخص کو مبینہ طور پر بڑے ہتھیار کے ساتھ شہر کی سڑکوں پر گھومتے دیکھا گیا۔ بعض مسلم تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ گرفتار شخص مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگا رہا تھا۔
اسکاٹش ایسوسی ایشن آف مساجد اور اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرنے والی تنظیم “مینڈ” نے کہا ہے کہ متاثرین میں کئی مسلمان شامل ہیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ ان واقعات کو اسلاموفوبیا اور انتہا پسند دائیں بازو کی دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جائے۔