نسل پرستانہ تشدد نے اسکاٹ لینڈ کو ہلا دیا، پانچ افراد زخمی

اسکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے مبینہ واقعات کے بعد پولیس نے انسدادِ دہشت گردی یونٹ کو تحقیقات میں شامل کر لیا ہے۔ ان حملوں میں پانچ افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس اسکاٹ لینڈ کے مطابق جمعہ کی رات مختلف مقامات سے متعدد ہنگامی کالز موصول ہوئیں جن میں تشدد، دھمکیوں، ڈکیتی اور توڑ پھوڑ کے واقعات کی اطلاع دی گئی۔ ان واقعات میں پانچ افراد زخمی ہوئے جن کی عمریں 22 سے 39 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق زخمی ہونے والوں میں سے تین افراد کو اسپتال منتقل کرنا پڑا، تاہم کسی کی حالت تشویشناک نہیں ہے۔ حکام نے 36 سالہ ایک سفید فام اسکاٹش شہری کو گرفتار کر لیا ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی واقعات ایڈنبرا کے علاقے سائتھل میں ایک مسجد کے قریب پیش آئے، جہاں دو افراد پر حملہ کیا گیا۔ بعد ازاں شہر کے دیگر علاقوں میں مزید تین افراد کو نشانہ بنایا گیا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ایک شخص کو مبینہ طور پر بڑے ہتھیار کے ساتھ شہر کی سڑکوں پر گھومتے دیکھا گیا۔ بعض مسلم تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ گرفتار شخص مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگا رہا تھا۔
اسکاٹش ایسوسی ایشن آف مساجد اور اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرنے والی تنظیم “مینڈ” نے کہا ہے کہ متاثرین میں کئی مسلمان شامل ہیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ ان واقعات کو اسلاموفوبیا اور انتہا پسند دائیں بازو کی دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جائے۔

برطانوی وزیراعظم کل عہدہ چھوڑ دیں گے؟ لندن کی سیاست میں ہلچل

برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے مستقبل سے متعلق سیاسی حلقوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے جب کہ مختلف رپورٹس اور دعووں نے حکومت کے اندر ہلچل پیدا کر دی ہے۔
برطانوی اخبار آبزرور کے مطابق امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ وزیراعظم اسٹارمر پیر کے روز اپنے استعفے کا اعلان کر سکتے ہیں اور اپنے عہدے سے علیحدگی کے لیے ایک ممکنہ ٹائم لائن بھی پیش کی جا سکتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ مبینہ طور پر اس معاملے پر اپنی اہلیہ کے ساتھ چیکرز ریزڈنس میں مشاورت کر رہے تھے۔
تاہم حکومتی ذرائع نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیئر اسٹارمر اب بھی اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے پر مکمل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور وہ عہدے سے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
سیاسی دباؤ میں اضافہ اس وقت دیکھا گیا جب ان کے سیاسی حریف اینڈی برنہم نے پارلیمنٹ میں ایسی نشست حاصل کی جو مستقبل میں قیادت کے چیلنج کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
اس پیش رفت کے بعد لیبر پارٹی کے اندر اختلافات اور قیادت کے حوالے سے بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
وزیراعظم اسٹارمر نے جمعہ کے روز واضح کیا تھا کہ وہ کسی بھی قیادت کے چیلنج کا مقابلہ کریں گے اور پارٹی کو اندرونی اختلافات سے بچانے کی اپیل بھی کی۔
یاد رہے کہ 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی تاریخی کامیابی کے بعد اسٹارمر اقتدار میں آئے تھے تاہم بعد ازاں مختلف سیاسی تنازعات اور پالیسی تبدیلیوں کے باعث ان کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی ہے جس سے حکومت کو عوامی اعتماد کے چیلنج کا سامنا ہے۔

لبنان ایک بار پھر آگ کی لپیٹ میں، اسرائیل پر جنگ بندی توڑنے کا الزام

اسرائیل نے جنگ بندی تسلیم کرنے کے باوجود لبنان میں حملوں کا سلسلہ جاری رکھا جس کے جواب میں حزب اللہ نے بھی صیہونی فوجی کو نشانہ بنایا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز اعلان کی جانے والی جنگ بندی چند گھنٹے بھی برقرار نہ رہ سکی۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر نئے حملوں کا آغاز کر دیا۔ ان حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 50 سے زائد ہوچکی ہیں جن میں زیادہ تر معصوم شہری ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے رات کے وقت جنوبی لبنان میں تعینات اسرائیلی فوجیوں پر 50 سے زائد راکٹ اور دیگر گولے داغے، جس کے جواب میں حزب اللہ کے عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں صرف ان مقامات پر کی جا رہی ہیں جہاں حزب اللہ کی سرگرمیاں موجود ہیں اور مارے جانے والے افراد حزب اللہ کے کمانڈرز یا ان کے سہولت کار ہیں۔
دوسری جانب حزب اللہ نے کہا ہے کہ اس نے جمعہ کی سہ پہر سے جنگ بندی کی مکمل پابندی کی، تاہم رات کے وقت اسرائیلی فوج نے نبطیہ کے قریب علی طاہر پہاڑی پر پیش قدمی کی کوشش کی، جس پر اس کے جنگجوؤں نے گھات لگا کر حملہ کیا۔
حزب اللہ نے گزشتہ 24 گھنٹے میں دو مقامات پر اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا جس میں دو کمانڈرز مارے گئے جب کہ 15 اہلکار زخمی ہوگئے۔
ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کی لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر غیر معینہ مدت کے لیے بند کر رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی افواج سینٹ کام کا دعویٰ ہے کہ آج پورے آبنائے ہرمز کھلی رہی اور 55 آئل ٹینکرز اور تجارتی جہاز بحفاظت گزرے۔ یہ آبی گذرگاہ اب ایران کے نہیں بلکہ ہمارے کنٹرول میں ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کو امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد آج بروز اتوار بتاریخ 21 جون کو سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوگا جس میں پاکستانی وزیراعظم کی شرکت بھی متوقع ہے۔

ویک اینڈ پر نیند کا اوور ڈوز، صحت کے لیے ایک غیر متوقع مسئلہ

مصروف اور تھکا دینے والے ہفتے کے بعد اکثر لوگ ہفتہ اور اتوار کو زیادہ دیر تک سونے کو اپنی نیند پوری کرنے کا بہترین طریقہ سمجھتے ہیں، لیکن ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ یہ عادت بعض اوقات تازگی دینے کے بجائے اگلے دن مزید تھکن، سستی اور ذہنی بوجھ کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ویک اینڈ پر معمول سے کئی گھنٹے زیادہ سونا جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی، یعنی سرکیڈین ردھم، کو متاثر کر دیتا ہے۔ جب سونے اور جاگنے کے اوقات اچانک تبدیل ہو جائیں تو جسم کے لیے دوبارہ معمول کے شیڈول میں واپس آنا مشکل ہو جاتا ہے، جس کا اثر خاص طور پر پیر کے روز محسوس ہوتا ہے
نیند کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ نیند کو کسی بینک اکاؤنٹ کی طرح نہیں دیکھتا جہاں ہفتے بھر کی کمی ایک ہی دن میں پوری کی جا سکے۔ ان کے مطابق نیند کے اوقات میں غیر معمولی تبدیلی جسم کے نظام کو الجھا دیتی ہے اور نیند کے معیار کو بھی متاثر کرتی ہے۔
محققین اس کیفیت کو ’’سوشل جیٹ لیگ‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کام کے دنوں اور ویک اینڈ کے دوران سونے جاگنے کے اوقات میں نمایاں فرق آ جائے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص عام دنوں میں صبح سات بجے اٹھتا ہے لیکن اتوار کو گیارہ بجے تک سوتا رہتا ہے تو رات کو وقت پر نیند آنا مشکل ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پیر کی صبح زیادہ دیر سونے کے باوجود تازگی محسوس نہیں ہوتی۔
ماہرین کے مطابق سوشل جیٹ لیگ ذہنی دھندلاہٹ، توجہ میں کمی، سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت میں رکاوٹ اور چوکنا پن کم ہونے جیسی علامات پیدا کر سکتی ہے۔ مختلف مطالعات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ صرف مناسب نیند لینا ہی کافی نہیں بلکہ اس کا باقاعدہ اور مستقل شیڈول برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے

پیپلز پارٹی میں اہم پیش رفت، وزیراعلیٰ کے امیدوار پر بلاول بھٹو کی مہر ثبت

پاکستان پیپلزپارٹی نے گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے حوالے سے اہم فیصلہ کرتے ہوئے امجد ایڈووکیٹ کو وزیراعلیٰ نامزد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے براہِ راست رابطہ کرکے آئندہ حکومتی حکمت عملی اور عوامی حقوق کے تحفظ سے متعلق خصوصی ہدایات بھی جاری کر دیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے پارٹی کے صوبائی صدر امجد ایڈووکیٹ کو وزیراعلیٰ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے امجد ایڈووکیٹ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں حکومت سازی کے معاملات پر تفصیلی ہدایات دیں۔
گفتگو کے دوران گلگت بلتستان کے عوام کو درپیش مسائل، آئینی حقوق اور معاشی ترقی کے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے امجد ایڈووکیٹ کو ہدایت کی کہ نئی حکومت کی تشکیل کے دوران عوامی مفادات کو ترجیح دی جائے اور خطے کے آئینی و معاشی حقوق کے حصول کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

سوئٹزرلینڈ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی آمد توجہ کا مرکز

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ہونے والے تکنیکی سطح کے مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک پہنچ گئے۔
امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پردستخطوں کے تسلسل میں آج (21 جون) سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں تکنیکی سطح کے مذاکرات منعقد ہوں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر ان مذاکرات میں شرکت کریں گے، جس کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ اسلام آباد سے سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطااللہ تارڑ اور طارق فاطمی بھی شامل ہیں۔
پاکستانی وفد سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان ٹیکنیکل سطح کے مذاکرات میں بطور میزبان اور ثالث شریک ہوگا۔
قبل ازیں دفترخارجہ نے بیان میں کہا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پرعمل درآمد کے سلسلے میں امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں 21 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں منعقد ہوں گے۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ کہا گیا کہ پاکستان ثالث کی حیثیت سے اس عمل میں سہولت کاری جاری رکھے گا تاکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی مفاہمتوں کو آگے بڑھایا جا سکے اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی پیش رفت کو عملی شکل دی جا سکے۔
غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وفد کی قیادت پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف کر رہے ہیں، ان کے ہمراہ وزیر خارجہ عباس عراقچی، مرکزی بینک کے گورنر عبد الناصر ہمتی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کے بین الاقوامی امور کے نائب علی باقری بھی ہوں گے۔
ایرانی وفد میں نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی، وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی، نائب وزیر تیل حمید بورڈ سمیت ملک کے اعلیٰ اقتصادی اور سیکیورٹی حکام بھی شامل ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی ممکنہ طور پر مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ جائیں گے، صدر ٹرمپ کے مشیر کے ساتھ ساتھ داماد جیرڈ کشنر پہلے ہی سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں، امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو ویٹکوف بھی جنیوا کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔

ایران معاہدہ ناکام ہوا تو ہر گزرتے جہاز کو قیمت چکانی پڑ سکتی ہے ، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو امریکا آبنائے ہرمز پر ٹول (فیس) عائد کرنے پر غور کر سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ فی الحال آبنائے ہرمز پر کسی قسم کا ٹول نافذ نہیں کیا جائے گا، تاہم اگر ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل نہ ہوا تو امریکا اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنی خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ امریکا کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے لیے ’محافظ‘ یا ’گارڈین اینجل‘ کا کردار ادا کر رہا ہے اور خطے کے امن و سلامتی کے لیے بھاری اخراجات برداشت کرتا آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر معاہدہ ناکام ہوا تو امریکا ماضی، حال اور مستقبل کے اخراجات کے ازالے کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری تجارت پر محصولات یا ٹول عائد کرنے پر غور کر سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملانے والی اس گزرگاہ کی اہمیت عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے انتہائی زیادہ ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں اس نوعیت کا کوئی اقدام کیا جاتا ہے تو اس کے عالمی تیل کی قیمتوں، بحری تجارت اور بین الاقوامی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات پر دباؤ بڑھانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے، تاکہ دونوں فریق جلد کسی حتمی سمجھوتے تک پہنچ سکیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے مزید مذاکرات جاری ہیں اور عالمی برادری ان مذاکرات کے نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

فیس بک سے کمائی اب مزید آسان، پاکستانی صارفین کے لیے نئی سہولت

سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کو پوری دنیا میں لوگ استعمال کرتے ہیں اور کئی فری لانسرز اور کانٹینٹ کریئٹرز اس سے لاکھوں ڈالرز ماہانہ کما رہے ہیں لیکن بہت سے لوگوں کو فیس بک پر مونیٹائزیشن ٹول نہیں ملتا جس کے باعث وہ فیس بک سے کما نہیں پاتے۔
فیس بک سے کمائی کے لیے کانٹینٹ مونیٹائزیشن ایک اہم ٹول ہے جب آپ یہ ٹول ایکٹیو یا انلاک کر لیتے ہیں تو آپ کی فیس بک پر کمائی شروع ہوجاتی ہے۔ تاہم اس ٹول کو ایکٹیو کرنے کے لیے فیس بک کی جانب سے مختلف اوقات میں مختلف چیلنجز یا کرائٹیریا دیا جاتا رہا ہے جسے مکمل کرنا ضروری ہوتا ہے، مثال کے طور پر فیس بک پہلے 10 ہزار فالوورز اور 60 لاکھ منٹ کا واچ ٹائم مکمل کرنے کے بعد آپ کو کانٹینٹ مونیٹائزیشن تک رسائی دیتا تھا، تاہم اب فیس بک نے بعض اکاؤنٹس یا پیچز کے لیے یہ چیلنج یا کرائٹیریا بہت ہی آسان کر دیا۔
فیس بک کے بعض اکاؤنٹس اور پیجز پر کانٹینٹ مونیٹائزیشن ٹول کو ایکٹیو یا انلاک کرنے کے لیے ایک چیلنج دیا گیا ہے اور یہ چیلنج فیس بک کی جانب سے آج تک دیے جانے والے تمام چیلنجز یا کرائٹیریا میں سے انتہائی آسان ہے جسے بہت ہی آسانی کے ساتھ مکمل کیا جا سکتا ہے۔
فیس بک کی اس تازہ ترین اپڈیٹ کے مطابق اب اگر آپ 28 دنوں میں اپنے پیج پر 3 لاکھ ویوز کا ٹارگٹ مکمل کر لیتے ہیں تو آپ کو کانٹینٹ مونیٹائزیشن کا ٹول مل جائے گا اور آپ کی کمائی ڈالرز میں شروع ہو جائے گی اور کسی بھی پیج پر 28 دنوں میں 3 لاکھ ویوز حاصل کرنا کوئی اتنا بڑا چیلنج نہیں جسے کوئی پورا نہیں کر سکتا، تاہم اس کے لیے فیس بک کی دیگر پالیسیوں کا خیال رکھنا بھی انتہائی اہم ہے۔
واضح رہے کہ کانٹینٹ مونیٹائزیشن کے لیے چیلنج جوائن کرنے کی یہ اپڈیٹ فیس بک کے تمام پیجز یا اکاؤنٹس پر نہیں آئی۔

حجاب کے بغیر گانے پر ایرانی گلوکارہ کو 74 کوڑوں کی سزا؟

ایران کی معروف گلوکارہ پراستو احمدی اور ان کے ساتھ کام کرنے والے آٹھ افراد کو مبینہ طور پر 2024 میں نشر کیے گئے ایک آن لائن میوزک پرفارمنس کے بعد سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔پورٹس کے مطابق ایک ایرانی عدالت نے گلوکارہ اور پروڈکشن ٹیم کے ارکان کو 74 کوڑوں، دو سال تک بیرونِ ملک سفر پر پابندی اور دو سال تک فنی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روکنے کی سزا سنائی ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی اس لائیو کنسرٹ کے بعد کی گئی جس میں 29 سالہ پراستو احمدی نے دسمبر 2024 میں یوٹیوب پر نشر ہونے والی ایک پرفارمنس کے دوران حجاب کے بغیر وطن پرستانہ نغمہ ’’از خون جوانان وطن‘‘ پیش کیا تھا۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور بعد ازاں لاکھوں افراد نے اسے دیکھا۔اطلاعات کے مطابق گلوکارہ اور چند موسیقاروں کو ویڈیو نشر ہونے کے فوراً بعد مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔ بعد ازاں حکام نے ویڈیو کی اشاعت کے حوالے سے باقاعدہ قانونی کارروائی شروع کی۔عدالتی دستاویزات کا جائزہ لینے والے انسانی حقوق کے کارکنوں اور وکلا کا کہنا ہے کہ فنکاروں پر ’’عوامی اخلاقیات کے خلاف مواد‘‘ تیار اور شائع کرنے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اگرچہ ایرانی عدلیہ کے سرکاری ذرائع نے ابھی تک فیصلے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔امریکا میں قائم سینٹر فار ہیومن رائٹس اِن ایران کی نمائندہ بہار قندھاری نے کہا کہ صرف گانا گانے اور حجاب کے بغیر عوام کے سامنے آنے پر 74 کوڑوں کی سزا انسانی حقوق کی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران میں اظہارِ رائے اور فنکارانہ آزادیوں پر دباؤ بدستور برقرار ہے۔انسانی حقوق کے وکیل معین خزائلی نے بھی اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایرانی فوجداری قانون کے تحت خواتین کا گانا گانا یا موسیقی پیش کرنا بذاتِ خود جرم نہیں، اس لیے ایسی سرگرمیوں کو غیر اخلاقی مواد قرار دینا قانونی بنیادوں سے محروم دکھائی دیتا ہے۔ادھر ایرانی نژاد برطانوی اداکارہ نازنین بنیادی اور جلاوطنی اختیار کرنے والی ایرانی اداکارہ ستارہ ملکی سمیت متعدد فنکاروں نے بھی پراستو احمدی کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔ ستارہ ملکی کا کہنا تھا کہ پراستو احمدی کی پرفارمنس نے انہیں مزاحمت اور امید کا نیا حوصلہ دیا اور یہ ثابت کیا کہ ایرانی خواتین اپنے حقوق اور آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں

جرمن ٹیم کی جہاز میں بیٹھنے سے قبل مجرموں کی طرح تلاشی

فیفا ورلڈ کپ 2026 میں آئیوری کوسٹ کے خلاف اہم میچ سے قبل جرمن ٹیم کو ٹورنٹو روانگی کے دوران سخت سیکیورٹی اور امیگریشن مراحل سے گزرنا پڑا۔رپورٹس کے مطابق جرمن کھلاڑیوں کو عام مسافروں کی طرح تمام معیاری سیکیورٹی چیکس، سامان کی جانچ اور کسٹمز اسکریننگ کا سامنا کرنا پڑا۔ٹیم کے ارکان کو خصوصی رعایت نہیں دی گئی بلکہ انہیں شمالی امریکہ کے سرحدی قوانین اور ہوائی اڈے کے ضوابط کے مطابق مکمل کارروائی سے گزرنا پڑا۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جہاز رن وے کے پاس اسٹارٹ کھڑا ہے اور جرمن ٹیم کی اس میں بیٹھنے سے قبل مجرموں کی طرح تلاشی لی جارہی ہے۔اس دوران جرمنی کے تجربہ کار گول کیپر مینوئل نوئر کے تاثرات خاص طور پر توجہ کا مرکز بنے۔تصاویر اور ویڈیوز میں وہ اس طویل اور سخت جانچ کے عمل سے کچھ ناخوش اور پریشان دکھائی دیے، جس پر شائقین نے مختلف آراء کا اظہار کیا۔واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا عالمی شہرت یافتہ ایتھلیٹس اور بین الاقوامی ٹیموں کے لیے بھی اتنی ہی سخت اور وقت طلب سیکیورٹی جانچ ضروری ہے یا انہیں خصوصی سہولیات دی جانی چاہئیں۔تاہم حکام کا مؤقف ہے کہ سرحدی اور سیکیورٹی قوانین سب پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں تاکہ حفاظتی معیار برقرار رکھا جا سکے۔