ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک ایسا بڑا مرتبان دریافت کیا ہے جس میں کم از کم 37 مختلف انسانوں کی ہڈیاں اور دانت بھرے گئے تھے۔اس خوفناک دریافت کے بعد بالآخر ’پلین آف جارز‘ کے پراسرار راز سے پردہ اٹھ گیا۔ یہ جنوب مشرقی ایشیا کا وہ سنسان اور پراسرار علاقہ جہاں پتھروں کے بے شمار بڑے مرتبان بکھرے پڑے ہیں۔ماہرین نے یہ عجیب و غریب دریافت پلین آف جارز کے ایک جنگل میں کھدائی کے دوران کی۔دانتوں پر کی گئی ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے پتا چلا کہ یہ باقیات تقریباً 890 سے 1160 عیسوی کے درمیان کی ہیں۔ یعنی وہی دور جب وائکنگ حملے دنیا میں دہشت کی علامت بنے ہوئے تھے۔یہ بڑا پتھریلا برتن (جسے محققین نے ’ڈیتھ جار‘ یا ’جار نمبر 1‘ کا نام دیا ہے) تقریباً 1.3 میٹر اونچا اور 2 میٹر چوڑا ہے۔تحقیق کے شریک مصنف اور ماہرِ آثارِ قدیمہ نکلس اسکوپل کے مطابق یہ لاؤس میں اب تک دریافت ہونے والے سب سے بڑے جارز میں سے ایک ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس کے اندر انسانی باقیات کی غیرمعمولی مقدار اسے لاؤس میں ملنے والے دیگر جارز سے بالکل منفرد بناتی ہے۔واضح رہے یہ ڈیتھ جار اپنی موٹی دیواروں، چوڑے نچلے حصے اور پیالے جیسی ساخت کی وجہ سے بھی انتہائی غیرمعمولی سمجھا جا رہا ہے

ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے سرچ ڈیٹا کے تجزیے رواں برس کے ابتدائی پانچ مہینوں میں امریکا میں سب سے زیادہ غلط لکھے جانے والے الفاظ بتا دیے گئے۔ویب سائٹ Unscramblerer.com نے رواں برس یکم جنوری سے 18 مئی تک کے گوگل سرچ ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔محققین نے ’ہاؤ ڈو یو اسپیل‘ اور ’ہاؤ ٹو اسپیل‘ کے گوگل ٹرینڈ کے سرچ ڈیٹا کو استعمال کیا اور پھر مارکیٹنگ اور ایس ای او پلیٹ فارم Ahrefs کا استعمال کیا تاکہ ہر انکوائری کی تعداد جانی جا سکے۔تجزیے میں معلوم ہوا کہ غلط املا لکھ کر سب سے زیادہ ڈھونڈا جانے والا لفظ بوگی (bougie) تھا جس کے فہرست میں بعد فیورٹ (favorite)، تھرو (through)، بزنس (business)، ٹومارو (tomorrow)،بی کاز (because)، ڈیفینیٹلی (definitely)، بیوٹی فل (beautiful)، نِیس (niece) اور سیپریٹ (separate) شامل تھے۔محققین نے امریکا کی ہر ریاست میں سب سے زیادہ غلط لکھے جانے والے لفظ کی تلاش بھی کی جس سے معلوم ہوا کہ فلوریڈا میں اسکول، کولوراڈو میں کلر، منیوسوٹا میں یوکولےلے، اوریگون میں ڈائمنڈ اور ٹیکساس میں ری سائیکل شامل تھے۔

نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ فضا میں تیرتے رنگین پلاسٹک کے باریک ذرات سورج کی روشنی کو سائنس دانوں کے اندازے سے کہیں زیادہ جذب کر سکتے ہیں، جس سے انسانوں کی پیدا کردہ گلوبل وارمنگ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔رواں ماہ سائنسی جرنل نیچر کلائمیٹ چینج میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ہوا میں موجود مائیکرو پلاسٹکس اور نینو پلاسٹکس (خاص طور پر رنگین ذرات) زمین کے درجہ حرارت میں واضح اضافہ کر سکتے ہیں۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق محققین نے دریافت کیا کہ پلاسٹک کے یہ باریک ذرات ’بلیک کاربن‘ یعنی سُوٹ سے پیدا ہونے والی گرمی کے تقریباً چھٹے حصے کے برابر اثر ڈال سکتے ہیں۔تحقیق میں رنگ ایک اہم عنصر ثابت ہوا۔ سفید ذرات زیادہ تر روشنی کو واپس بکھیر دیتا ہے جبکہ گہرے رنگ کے پلاسٹک سورج کی روشنی کو زیادہ جذب کرتے ہیں، یہاں تک کہ بے رنگ پلاسٹک کے مقابلے میں تقریباً 75 گنا زیادہ جذب کرتا ہے۔مائیکرو پلاسٹکس پہلے ہی پینے کے پانی، سمندری جانوروں، انسانی جسموں اور حتیٰ کہ اینٹارکٹیکا کی برف میں بھی دریافت ہو چکے ہیں۔اب یہ نئی تحقیق اشارہ دیتی ہے کہ مسئلہ صرف آلودگی تک محدود نہیں، بلکہ یہ ذرات زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت میں بھی حصہ ڈال رہے ہیں۔یہ ان علاقوں کے لیے خاص طور پر تشویشناک خبر ہے جو پہلے ہی شدید گرمی کی لہروں، بڑھتے بجلی کے بلوں اور موسمیاتی تباہ کاریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ کیونکہ درجہ حرارت میں معمولی سا اضافہ بھی انسانی صحت، خوراک اور پانی کے نظام، اور محفوظ رہائشی ماحول کو برقرار رکھنا مزید مشکل بنا سکتا ہے

عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے بعد گوشت کو محفوظ رکھنا ہر گھر کی بڑی ضرورت بن جاتا ہے، خصوصاً شدید گرمی، ہیٹ ویو اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دوران گوشت کے خراب ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ماہرینِ غذائیت اور فوڈ سیفٹی کے مطابق اگر چند بنیادی اصولوں پر عمل کیا جائے تو قربانی کے گوشت کو کئی دنوں بلکہ مہینوں تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے جبکہ اس کی غذائیت اور ذائقہ بھی برقرار رہتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ گوشت محفوظ کرنے سے پہلے سب سے اہم مرحلہ فریج اور فریزر کی مکمل صفائی ہے۔ اگر فریزر میں برف جمی ہو، ہوا کی روانی متاثر ہو یا صفائی مناسب نہ ہو تو کولنگ کا عمل کمزور پڑ سکتا ہے، جس سے گوشت خراب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے قربانی سے پہلے فریزر کو اچھی طرح صاف، خشک اور مناسب ٹھنڈک پر تیار رکھنا ضروری ہے۔قربانی کے فوراً بعد گوشت کو زیادہ دیر کھلی فضا یا کمرے کے درجہ حرارت پر چھوڑنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ فوڈ سیفٹی ماہرین کے مطابق گوشت کو دو گھنٹے سے زیادہ باہر نہ رکھا جائے، کیونکہ گرم موسم میں بیکٹیریا اور مائیکروب تیزی سے بڑھتے ہیں، جو گوشت کو خراب کر سکتے ہیں اور صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔گوشت کو محفوظ کرنے کے لیے بہتر ہے کہ پہلے اس سے اضافی چکنائی، خون آلود حصے اور غیر ضروری ریشے الگ کیے جائیں، پھر اسے مناسب بوٹیوں یا استعمال کے حساب سے حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ گوشت کو فریزر میں رکھنے سے پہلے تقریباً 5 سے 6 گھنٹے کے لیے ریفریجریٹر میں رکھا جائے تاکہ اس کا اندرونی درجہ حرارت بتدریج کم ہو سکے۔ اس طریقے سے گوشت کی ساخت، ذائقہ اور تازگی بہتر برقرار رہتی ہے۔پیکنگ کے دوران صاف ستھری، مضبوط اور ایئر ٹائٹ تھیلیوں یا فوڈ گریڈ پلاسٹک بیگز کا استعمال کیا جائے۔ پیکٹ بند کرنے سے پہلے اس میں موجود اضافی ہوا نکال دینا ضروری ہے تاکہ فریزنگ کے دوران فریزر برن سے بچا جا سکے۔ ہر پیکٹ پر تاریخ درج کرنا بھی مفید ہوتا ہے تاکہ گوشت کے استعمال میں ترتیب برقرار رہے۔ماہرین کے مطابق اگر بجلی کی بندش یا فریزر کی خرابی کے باعث گوشت محفوظ رکھنا مشکل ہو جائے تو روایتی متبادل طریقے اپنائے جا سکتے ہیں۔ گوشت کو اچھی طرح ابال کر محفوظ کیا جا سکتا ہے یا نمک لگا کر خشک کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ قدیم زمانے میں کیا جاتا تھا۔ یہ طریقے ہنگامی حالات میں گوشت کو خراب ہونے سے بچا سکتے ہیں۔

اگر آپ 10 مختلف افراد سے پوچھیں کہ انہوں نے گھر میں ائیر کنڈیشنر (اے سی) پر کیا درجہ حرارت سیٹ کیا ہوا ہے تو ممکنہ طور پر 10 مختلف جوابات سننے کو ملیں گے۔ہر فرد کی اپنی ترجیح ہوتی ہے مگر موسم گرما کے دوران اے سی کا ‘درست’ درجہ حرارت کیا ہوتا ہے؟تو ماہرین کے مطابق اس کا جواب بیشتر افراد کی توقعات سے مختلف ہوتا ہے۔ان کے مطابق موسم گرما کے دوران یہ مثالی نمبر 25.5 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے، جو کہ حیران کن حد تک مخصوص ہے۔مگر اس سے متعدد ادارے اتفاق کرتے ہیں جن میں سے ایک امریکی محکمہ توانائی ہے، جس نے توانائی کے استعمال سے رہنما اصول جاری کیے ہیں۔متعدد اے سی تیار کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے بھی یہی نمبر اے سی پر سیٹ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔اس کے پیچھے چھپا خیال بھی سادہ ہے، 25.5 یا 26 ڈگری کو سیٹ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بجلی کے بل میں بھی کمی آتی ہے جبکہ کمرے کو ٹھنڈا رکھنا بھی آسان ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق اے سی کے درجہ حرارت میں ایک نمبر کمی سے ہی بجلی کے خرچے میں 3 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔امریکی محکمہ توانائی کے مطابق اگر آپ روزانہ 8 گھنٹے تک 26 ڈگری پر اے سی چلاتے ہیں تو سالانہ بجلی کے بل میں 10 فیصد کمی لاسکتے ہیں۔درست درجہ حرارت کے ساتھ چند دیگر طریقوں سے بھی زیادہ بچت کی جاسکتی ہے جن میں سے ایک پنکھے کو استعمال کرنا ہے یعنی اے سی کا درجہ حرارت مزید بڑھا کر پنکھے سے مدد لیں۔پنکھے عموماً اے سی کے مقابلے میں 10 سے 20 گنا کم بجلی خرچ کرتے ہیں

حکومت کی جانب سے بجلی کے بلوں میں اصل حق دار صارفین کے لیے سبسڈی کا نیا طریقہ وضع کیا گیا ہے، جس میں بل پر کیو آر کوڈ کے ذریعے ریلیف حاصل کیا جا سکتا ہے۔اس سلسلے میں پنجاب حکومت نے 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بلوں پر ’کیو آر کوڈ‘ متعارف کروا کر سبسڈی کے حصول کا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دیا ہے۔حکومتِ پنجاب نے وفاقی سطح پر جاری ’کراس سبسڈی پروگرام 2026‘ کو موثر بنانے کے لیے بجلی کے بلوں پر کیو آر کوڈ پرنٹ کرنا شروع کیے ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد سبسڈی کے نظام میں شفافیت لانا ہے تاکہ غلط فائدہ اٹھانے والوں کے بجائے ریلیف صرف اصل حق دار اور کم آمدن والے خاندانوں تک پہنچ سکے۔پاور ڈویژن کے حکام نے بیان میں کہا ہے کہ اس نئی مہم سے ایک ہی گھر میں متعدد میٹرز کے ذریعے سبسڈی لینے کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہوگی۔یہ سہولت بنیادی طور پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین، یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں اور ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کے لیے ہے۔رجسٹریشن کے عمل کو آسان بناتے ہوئے حکومت نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے بل پر موجود کیو آر کوڈ کو اسکین کر کے آفیشل پورٹل پر جائیں۔اس پورٹل پر 14 ہندسوں کا ریفرنس نمبر اور شناختی کارڈ درج کرنے کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ (OTP) کے ذریعے تصدیقی عمل فوری مکمل کیا جا سکتا ہے۔جن شہریوں کے پاس اسمارٹ فون کی سہولت نہیں یا وہ ٹیکنالوجی سے نابلد ہیں، ان کی معاونت کے لیے ضلعی انتظامیہ اور یونین کونسل کی سطح پر خصوصی ڈیجیٹل ڈیسک اور ہیلپ کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ بل پر موجود نام اور شناختی کارڈ کی تفصیلات میں مماثلت کو یقینی بنائیں تاکہ ریلیف کے حصول میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔علاوہ ازیں صارفین کو یہ سہولت بھی دستیاب ہوگی کہ اگر وہ کوڈ اسکین نہ کر سکیں تو ڈائریکٹ حکومت کے کراس سبسڈی پروگرام رجسٹریشن کی آفیشل ویب سائٹ پر اپنی معلومات درج کرکے رجسٹرڈ ہو سکتے ہیں

اگر آپ کے اسمارٹ فون کی اسٹوریج 95 فیصد یا اس سے زائد بھر چکی ہے تو اس کے نتیجے میں ڈیوائس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ویسے تو فون کی اسٹوریج متعدد چیزوں سے بھرتی ہے۔مگر بیشتر افراد کی ایک بہت عام غلطی فون اسٹوریج بھرنے کا باعث بنتی ہے۔وہ غلطی ہے ایپس کی بھرمار اور ان کی caches کو کلیئر نہ کرنا۔یہ موجودہ عہد کے اسمارٹ فونز کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، یعنی ان میں متعدد ایپس کو انسٹال کیا جاتا ہے اور caches جمع ہوتی رہتی ہے۔یہ ایپس مسلسل اپ ڈیٹس ہوتی رہتی ہیں جس کا اکثر افراد کو علم بھی نہیں ہوتا، جبکہ بیک گراؤنڈ فائلز جمع ہوتی رہتی ہیں۔بیک گراؤنڈ فائلز اور caches کا اجتماع ہوتا رہتا ہے جو نہ صرف فون اسٹوریج کو بھرتا ہے بلکہ اس حد تک پہنچا دیتا ہے کہ ڈیوائس کی کارکردگی نمایاں حد تک متاثر ہوتی ہے۔فون میں کم اسٹوریج کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس میں عارضی فائلز کے لیے جگہ محدود ہوتی ہے، سسٹم اپ ڈیٹس اور بیک گراؤنڈ پراسیس متاثر ہوتا ہے۔سوشل میڈیا ایپس سب سے زیادہ اسٹوریج کو بھرتی ہیں کیونکہ انہیں اپنی پرفارمنس کو تیز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔مختلف پلیٹ فارمز جیسے انسٹا گرام، ٹک ٹاک اور فیس بک وغیرہ میں مواد پری لوڈ ہوتا ہے جبکہ تصاویر اور ویڈیوز کی caches جمع ہوتی ہیں۔اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایپس میں اسکرولنگ کا عمل ہموار رہے جبکہ دیگر ایپس زیادہ سے زیادہ سست ہو جاتی ہیں۔اس سے ہٹ کر پرانی گیمز، زیادہ اسٹوریج گھیرنے والی ایپس اور وہ ایپس جن کو آپ استعمال نہیں کرتے، فون اسٹوریج کو بھرنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔بدقسمتی سے اینڈرائیڈ فونز میں caches کو کلیئر کرنے کا عمل خود کرنا ہوتا ہے یا ایس ڈی کارڈ کا استعمال کرنا پڑتا ہے، اگر اس کی سہولت شامل ہو۔caches کلیئر کرنے کے لیے سیٹنگز میں ایپس کے آپشن میں انفارمیشن پیج پر کلک کریں اور وہاں اسٹوریج اور پھر کلیئر cache کے آپشن کا انتخاب کریں۔اسی طرح جن گیمز اور ایپس کو استعمال نہیں کرتے، انہیں بھی ڈیلیٹ کرنے سے فون کی اسٹوریج بڑھانے میں مدد ملتی ہے

مکتہ المکرمہ میں دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان جمع ہوئے جہاں انہوں نے خطبہ حج سُنا۔ تفصیلات کے مطابق لاکھوں کی تعداد میں عازمین حج عرفات کے میدان میں جمع ہوئے جہاں شیخ ڈاکٹر علی بن عبدالرحمٰن الحذیفی نے خطبہ حج دیا۔اللہ کی حمدوثنا اور رسول صلہ اللہ علیہ وسلم پر درودوشریف کے بعد ان کا کہنا تھا کہ اللہ نے حج کو فریضہ بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیامت کا زلزلہ انتہائی شدید ہے جبکہ آخرت کی سب سے بڑی کامیابی توحید ہے۔ جو لوگ شرک و کفر کرتے ہیں وہ ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔شیخ کا مزید کہنا تھا جو اللہ سے ڈرتا ہے، اُس کیلئے اللہ نے دُہری جنت رکھی ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اللہ نے ابراہیمؑ کو کہا حج کیلئے منادی کریں اور اللہ تعالیٰ دور دراز تک یہ آواز پہنچائیں گے۔ دور دراز سے لوگ حج کیلئے آئے ہیں تاکہ دنیا و اخرت میں وہ کامیاب ہوں۔ یہاں جھگڑا نہیں کرنا اور گناہ نہیں کرنا اور تمام چیزیں جن کا وعدہ اللہ نے کیا اُنہیں پورا کیا جائے۔ اور جو بھی شعائراللہ کا احترام کرتا ہے یہ تقویٰ کی نشانی ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر سے مختلف رنگوں کے لوگ یہاں آئے ہیں جو اللہ کی طرف سے ایک بڑا مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں میں حاجیوں پر فخر کررہا ہے جو آج جمع ہوئے اور عبادات کیں۔انہوں نے کہا عازمین حج یہاں عرفات میں قیام کریں گے پھر اگلے دن مزدلفہ جائیں گے جس کے بعد عازمین حج منی میں تشریف لے کر جائیں گے۔ اور منیٰ میں کثرت سے اللہ کا ذکر کرنا ہے۔ آپ یہاں منی میں رہتے ہوئے 11، 12 کی راتیں گزاریں گے اور اپنے گھروں کو لوٹنے سے پہلے طواف کریں گے۔انہوں نے آخر میں دعا کی کہ یا اللہ تمام عازمین کو بحفاظت اور سلامتی کے ساتھ واپس اپنے گھروں کو لوٹا اور ان کے دلوں میں حق کو جمع کردے اور ان کے حج کے تمام مناسک کو قبول فرما۔

بوہری برادری آج ملک بھر میں عیدالاضحیٰ مذہبی جوش وخروش سے منا رہی ہے۔
کراچی کے علاقے صدر کی طاہری مسجد میں نماز عیدالاضحیٰ ادا کر دی گئی جس میں بوہری برادری کے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
نمازِ عید کے بعد سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی کے لیے قربانی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
اس موقع پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ قربانی کے مراحل پُرامن انداز میں مکمل ہو سکیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ کا معاہدہ ’نہ کسی نے دیکھا ہے اور نہ ہی کسی کو معلوم ہے کہ وہ ہے کیا۔ اس پر ابھی مکمل طور پر مذاکرات بھی نہیں ہوئے۔‘
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’اگر میں ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتا ہوں تو وہ ایک اچھا اور مناسب معاہدہ ہو گا، اس طرح کا نہیں جیسا کہ اوباما نے کیا تھا، جس نے ایران کو بڑی مقدار میں رقم دی اور جوہری ہتھیار کے لیے ایک واضح اور کھلا راستہ فراہم کیا۔‘
امریکی صدر نے کہا کہ جو معاہدہ وہ کرنے جا رہے ہیں، وہ اوباما والے معاہدے کے ’بالکل برعکس‘ ہے۔ تاہم ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ معاہدہ نہ تو کسی نے دیکھا ہے نہ کسی کو اس کے بارے میں کچھ معلوم ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اس معاہدے پر تنقید کرنے والوں کی بات نہ سنی جائے، ’میں خراب معاہدے نہیں کرتا۔‘