دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں عازمینِ حج مکہ مکرمہ سے منیٰ پہنچ گئے ہیں، جس کے ساتھ ہی مناسکِ حج کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
عازمینِ حج آج کا پورا دن اور رات منیٰ کی خیمہ بستی میں قیام کریں گے اور وہاں پانچوں وقت کی نمازیں ادا کریں گے۔ منیٰ میں رات بھر قیام کے بعد، کل صبح نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد تمام عازمین میدانِ عرفات کے لیے روانہ ہوں گے۔
حج کا رکنِ اعظم ‘وقوفِ عرفات’ کل ادا کیا جائے گا جہاں عازمین مسجدِ نمرہ سے دیا جانے والا خطبہِ حج سنیں گے اور ظہر و عصر کی نمازیں قصر ملا کر ایک ساتھ ادا کریں گے۔ میدانِ عرفات میں غروبِ آفتاب تک اللہ کے حضور توبہ استغفار اور دعاؤں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
غروبِ آفتاب کے فوراً بعد عازمینِ حج عرفات سے مزدلفہ کے لیے روانہ ہوں گے۔ عازمینِ حج رات کھلے آسمان تلے مزدلفہ میں گزاریں گے، جہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں ملا کر ایک ساتھ ادا کی جائیں گی، اور جمرات (شیطانوں) کو مارنے کے لیے کنکریاں چُنی جائیں گی۔
10 ذوالحجہ کی صبح عازمینِ حج مزدلفہ سے دوبارہ منیٰ پہنچیں گے جہاں بڑے شیطان کو کنکریاں ماری جائیں گی، جس کے بعد قربانی کر کے بال کٹوائے جائیں گے اور احرام کھول دیا جائے گا۔ بعد ازاں حجاجِ کرام مکہ مکرمہ جا کر طوافِ زیارت کریں گے اور واپس منیٰ لوٹ آئیں گے۔
منیٰ میں قیام کے دوران حجاجِ کرام بقیہ دونوں دن بھی شیطانوں کو کنکریاں مارنے کا عمل (رمی) جاری رکھیں گے اور 12 ذوالحجہ کو غروبِ آفتاب سے قبل منیٰ سے روانہ ہوں گے، جس کے ساتھ ہی حج کے تمام مناسک مکمل ہو جائیں گے۔
چین میں ایک شہری کے مثانے سے 1.3 کلو وزنی پتھری نکال لی گئی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق تین سال قبل چین کے مغربی صوبے گوانگ ڈونگ کے قصبے لانگ تانگ کے ایک کسان کو پیشاب کرنے میں بار بار مشکل کا سامنا کرنا پڑرہا تھا حتیٰ کہ اسے رفع حاجت کے لیے اپنی پوزیشن بدلنی پڑتی کبھی تکلیف انتہائی بڑھ جاتی اور درد بھی ہونے لگتا۔شروع میں چن نے ان علامات کو عام پروسٹیٹ کے مسئلہ سمجھ کر نظرانداز کیا۔ وہ کھیتوں کے کام سے چھٹی نہیں لینا چاہتا تھا اور اسے لگتا تھا کہ دواؤں سے درد قابو میں رہے گا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ حالت بگڑتی گئی۔ وہ گھر سے دور جانے سے گھبرانے لگا کہ اس کو کہیں اچانک رفع حاجت محسوس نہ ہو اور اس تکلیف کی وجہ سے اس کو رات بھر کئی کئی بار اٹھنا پڑتا۔بالآخر گھر والوں کے اصرار پر وہ اسپتال جانے پر راضی ہوگیا جہاں معائنے کے بعد اس پر انکشاف ہوا کہ اس کے مثانے میں اتنی بڑی پتھری موجود تھی کہ پیشاب بمشکل ہی گزر پاتا تھا۔شعبہ یورولوجی کے ڈپٹی چیف فزیشن لِن یوان کے مطابق یہ اس کے مثانے کی پتھری 10 سینٹی میٹر چوڑی، 13 سینٹی میٹر لمبی اور تقریباً 1.3 کلوگرام وزنی تھی۔اس شخص کے درمیانی جسم کے ایکسرے میں صاف دکھائی دیا کہ یہ خوفناک پتھری مثانے کی زیادہ تر جگہ گھیر چکی تھی۔ ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ مثانے کی دیواروں پر مسلسل دباؤ کی وجہ سے یہ صورتحال اس کی جان کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوسکتی تھی
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور امن معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دینے میں سب سے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔دی واشنگٹن پوسٹ کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکا، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے رکھے اور فریقین کے درمیان اعتماد سازی کی فضا بحال کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔امریکی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے گزشتہ روز کے ایران کے دورے نے امن معاہدے کے مسودے کی تکمیل اور فریقین کے درمیان اس پر اتفاق کی فضا بھی ہموار کی۔واشنگٹن ٹائمز نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہفتے کی صبح معاہدے کے ڈرافٹ پر اہم پیش رفت ہوئی اور فریقین مسودے پر متفق ہوگئے جس کے بعد سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی اور یہ اس وقت ہوا جب فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کے دورے پر تھے۔ادھر ایک اور امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ ایران کو اعلیٰ سطح کی سفارتکاری قرار دیتے ہوئے لکھا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔نیویارک ٹائمز کے مطابق بھی پاکستانی قیادت نے خطے میں ممکنہ بڑی جنگ کو روکنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بیک ڈور ڈپلومیسی کا سہارا لیا۔گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی تصدیق کرچکے ہیں کہ وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مسلسل رابطے میں تھے۔مارکو روبیو نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان سے ایک اہم اور اعلیٰ شخصیت ایران کا دورہ کرنے والی ہے۔خیال رہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دورہ ایران مکمل کرچکے ہیں اور اس کے بعد ہی امریکی صدر نے اپنی نیشنل سیکیورٹی ٹیم کو وائٹ ہاؤس طلب کیا ہے۔اس میٹنگ کے دوران صدر ٹرمپ پاکستان، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور مصر سمیت مختلف ممالک کے رہنماؤں سے بھی کانفرنس کال پر رابطے کریں گے
چین کے شمالی صوبے شانشی میں کوئلے کی کان میں ہونے والے ہولناک گیس دھماکے میں کم از کم 90 افراد ہلاک جبکہ 9 تاحال لاپتا ہیں۔ یہ گزشتہ 17 برسوں میں چین کا سب سے بڑا کان کنی حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔
چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکا جمعے کی شام 7 بج کر 29 منٹ پر ’’لیوشین یو‘‘ کوئلہ کان میں ہوا، اس وقت کان کے اندر 247 مزدور موجود تھے۔
ریسکیو اہلکاروں نے بیشتر مزدوروں کو ہفتے کی صبح تک باہر نکال لیا، تاہم 90 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 9 مزدوروں کی تلاش جاری ہے۔ امدادی کارروائیوں کے لیے 345 اہلکار تعینات کیے گئے۔
سرکاری ٹی وی سی سی ٹی وی کی جانب سے جاری ویڈیو میں ہیلمٹ پہنے ریسکیو اہلکاروں کو اسٹریچر اٹھائے دیکھا گیا جبکہ پس منظر میں ایمبولینسیں بھی موجود تھیں۔
چینی صدر شی جن پنگ نے زخمیوں کے علاج کے لیے ’’ہر ممکن کوشش‘‘ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام ادارے اس حادثے سے سبق سیکھیں اور کام کی جگہوں پر حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں تاکہ مستقبل میں ایسے بڑے سانحات سے بچا جا سکے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق دھماکے میں ملوث کمپنی کے ایک ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ کان میں کاربن مونو آکسائیڈ گیس کی خطرناک حد تک موجودگی کے باعث کئی مزدور پھنس گئے تھے، جن میں بعض کی حالت تشویشناک تھی۔ بعد ازاں ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
شانشی صوبہ چین میں کوئلہ کان کنی کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ گزشتہ برسوں میں چین میں کانوں کی حفاظت کے اقدامات بہتر ہوئے ہیں، تاہم ناقص حفاظتی انتظامات اور کمزور نگرانی کے باعث ایسے حادثات اب بھی پیش آتے رہتے ہیں۔
اس سے قبل 2023 میں چین کے علاقے اندرونی منگولیا میں ایک اوپن پٹ کوئلہ کان گرنے سے 53 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صوبہ اِتوری کی حکومت نے روایتی تدفین اور مردوں کے آخری دیدار پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ ۔ یہ سخت فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب مقامی لوگوں اور پولیس کے درمیان ایک لاش کو حاصل کرنے کے معاملے پر شدید جھڑپیں ہوئیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق صوبہ اتوری کے قصبے ’روامپارا‘ میں ایک مقامی فٹ بالر ’ایلی منونگو وانگو‘ کی موت کے بعد، اس کے اہلخانہ نے یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ یہ موت ایبولا کی وجہ سے ہوئی ہے اور انہوں نے انتظامیہ کی طرف سے مروجہ حفاظتی تدفین کو مسترد کرتے ہوئے لاش زبردستی حاصل کرنے کی کوشش کی، جس پر پولیس اور عوام میں تصادم ہو گیا۔
طبی ماہرین کے مطابق، ایبولا کے مریض کی موت کے بعد اس کی لاش میں وائرس انتہائی متحرک اور متعدی ہوتا ہے، جس کی وجہ سے جو شخص بھی لاش کو اٹھانے، غسل دینے یا منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اسے وائرس لگنے کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
امریکی میڈیا چینلز بشمول ’سی بی ایس‘ اور ’ایکسیوس‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے موجودہ ملکی حالات اور ہنگامی صورتحال کے پیش نظر رواں ہفتے کے آخر میں ہونے والی اپنے بیٹے کی شادی کی تقریب میں بھی شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔میں بھی شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ خبریں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ کو رکوانے اور ایک پائیدار امن معاہدہ طے کرانے کے لیے سفارتی کوششیں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں اور پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر مذاکرات کے لیے تہران میں موجود ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مصروفیت اور وائٹ ہاؤس میں موجودگی کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا ہے۔
اپنے بیٹے کی شادی میں نہ جانے کی وجہ بتاتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ”حکومت سے متعلقہ حالات اور اپنے ملک امریکا کے لیے میری محبت کے باعث میں اس تقریب میں شریک نہیں ہو پا رہا، اور اس اہم ترین وقت کے دوران میرے لیے واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے اندر ہی موجود رہنا انتہائی ضروری ہے۔“
اس بیان کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس نے صدر کے دیگر پروگرام بھی منسوخ کر دیے جس کے تحت اب وہ نیو جرسی میں واقع اپنے گالف ریزورٹ بھی نہیں جائیں گے۔
نیویارک کے ایک دورے سے واپسی پر صدر ٹرمپ نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دینے سے بھی گریز کیا جو کہ ان کا معمول کا طریقہ کار نہیں ہے۔
دوسری جانب امریکی دفاعی اور انٹیلی جنس اداروں میں اس وقت شدید ہلچل مچ چکی ہے۔
‘سی بی ایس نیوز‘ نے اپنی رپورٹ میں گمنام ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام اور اہلکاروں نے ممکنہ حملوں کی تیاریوں اور ہائی الرٹ کے باعث اپنی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں اور انہیں وائٹ ہاؤس سے کسی بھی وقت حتمی حکم ملنے کا امکان ہے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو آگاہ کیا ہے کہ امریکا کے ضرورت سے زیادہ مطالبات امن مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز کے مطابق عباس عراقچی نے سیکرٹری جنرل سے ٹیلیفونک گفتگو میں مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ماضی میں ٹوٹے ہوئے وعدوں، متضاد پالیسیوں اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے سفارت کاری کو نقصان پہنچا چکا ہے، تاہم اس کے باوجود ایران پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں سنجیدگی سے حصہ لے رہا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کسی بھی ملک کی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال کو مسترد کرتے ہوئے خطے میں استحکام کے لیے سفارتی عمل جاری رکھنے پر زور دیا۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچ گئے ہیں اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مسلسل رابطے میں ہیں اور پاکستانی کی ثالثی میں ایران سے معاہدہ طے پانے کی امید ہے۔
عیدالاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی ملک بھر میں مویشی منڈیوں کی رونقیں بڑھ گئی ہیں اور لوگ قربانی کے جانور خریدنے میں مصروف ہیں۔ ماہرینِ ویٹرنری کے مطابق اس موسم میں جانوروں کی مناسب دیکھ بھال، صفائی اور بیماریوں سے بچاؤ نہ صرف جانور کی صحت بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی بے حد ضروری ہوتا ہے۔ خاص طور پر منہ اور کھر کی بیماری، لمپی اسکن ڈیزیز اور دیگر وبائی امراض کے خدشات کے باعث احتیاطی تدابیر اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ قربانی کے جانور خریدتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ جانور چست، متحرک اور صحت مند ہو۔ بیمار جانور عموماً سست، کمزور، بے چین اور خوراک کم کھانے والے ہوتے ہیں جبکہ ان کے منہ، ناک یا آنکھوں سے رطوبت بھی خارج ہوسکتی ہے۔ منہ اور کھر کی بیماری یعنی فُٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو گائے، بکری، بھیڑ اور بھینس جیسے دو کھروں والے جانوروں میں تیزی سے پھیلتی ہے۔ اس بیماری میں جانور کے منہ میں چھالے، بخار اور کھروں میں زخم بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے جانور چلنے اور کھانے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔ویٹرنری ماہرین کے مطابق متاثرہ جانور کو فوری طور پر دوسرے جانوروں سے الگ کرنا چاہیے تاکہ بیماری مزید نہ پھیلے۔ جانوروں کے باڑے، پانی کے برتن اور جگہ کی صفائی کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے جبکہ نئی خریداری کے بعد جانور کو چند دن الگ رکھنا بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ برائے حیوانی صحت کے مطابق بیماری پر قابو پانے کے لیے ویکسینیشن، نقل و حرکت پر کنٹرول اور بائیو سیکیورٹی اقدامات انتہائی مؤثر ہوتے ہیں۔اسی طرح لمپی اسکن ڈیزیز بھی حالیہ برسوں میں پاکستان سمیت کئی ممالک میں مویشیوں کے لیے خطرہ بنی رہی ہے۔ اس بیماری میں جانور کی جلد پر گلٹیاں اور زخم نمودار ہوتے ہیں جبکہ بخار اور کمزوری بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مکھیاں، مچھر اور دیگر کیڑے اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے جانوروں کے اردگرد صفائی، اسپرے اور جراثیم کش ادویات کا استعمال ضروری ہے۔ویٹرنری ڈاکٹرز شہریوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ جانوروں کو سخت دھوپ میں زیادہ دیر کھڑا نہ رکھا جائے، انہیں صاف پانی، سبز چارہ اور متوازن خوراک دی جائے۔ باسی یا آلودہ چارہ جانور کی صحت خراب کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ جانوروں کو غیر ضروری طور پر ہجوم میں لے جانے سے بھی گریز کیا جائے کیونکہ وبائی بیماریاں تیزی سے منتقل ہوسکتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی جانور میں بخار، منہ سے رال بہنا، کھانے سے انکار، جلد پر گلٹیاں یا چلنے میں دشواری جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ویٹرنری ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔ بروقت تشخیص اور احتیاطی اقدامات نہ صرف قیمتی جانوروں کو بچا سکتے ہیں بلکہ عیدالاضحیٰ کے دوران بیماریوں کے پھیلاؤ کو بھی روکنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے جواب کا چند روز تک انتظار کرے گا اور کسی حتمی معاہدے تک تہران کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ایران سے واضح اور قابلِ قبول ردعمل چاہتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی حکام کی جن ایرانی شخصیات سے بات چیت جاری ہے وہ معقول انداز میں معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا کہ ایران معاہدے کے لیے سنجیدہ دکھائی دیتا ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا دوبارہ سخت اقدام اٹھا سکتا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران اس وقت شدید معاشی دباؤ اور اندرونی بے چینی کا سامنا کر رہا ہے۔
گرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی بازار آموں کی خوشبو سے مہک اٹھتے ہیں۔ آم پھلوں کا بادشاہ ہے اور گرمی کی آمد کے ساتھ ہی سب کو آموں کا انتظار بھی رہتا ہے۔لیکن یہی آم آپ کی صحت کے لیے نقصان دہ بھی ہوسکتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آموں کو مصنوعی طریقے سے پکانے کےلیے ممنوعہ کیمیکل کیلشیم کاربائیڈ استعمال کیا جاتا ہے، جو انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ماہرین کے مطابق کیلشیم کاربائیڈ نمی کے ساتھ تعامل کرکے ایسیٹائیلین گیس پیدا کرتا ہے، جو پھلوں کو جلد پکاتا ہے، تاہم اس میں آرسینک اور فاسفورس جیسے زہریلے مادے شامل ہو سکتے ہیں جو معدے، سانس اور اعصابی نظام پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔فوڈ اتھارٹی نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ آم خریدتے وقت غیر معمولی چمک، تیز رنگت یا کیمیکل جیسی بو سے محتاط رہیں۔










