ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کراچی میں منعقد ہوا جس کی صدارت چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد نے کی۔ اجلاس کے بعد اعلان کیا گیا کہ ملک کے مختلف علاقوں سے ذی الحج کا چاند نظر آنے کی مصدقہ شہادتیں موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد یکم ذی الحج کل ہوگی جبکہ عیدالاضحیٰ بروز بدھ ملک بھر میں مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی۔ اجلاس میں مختلف زونل کمیٹیوں کے اراکین اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
تیونس اور ترکیہ میں اسلامی مہینے ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کی تصدیق ہو گئی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک نے پیر 18 مئی کو یکم ذوالحجہ اور بدھ 27 مئی کو عید الاضحیٰ منانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تیونس ذوالحجہ کے آغاز کا باقاعدہ اعلان کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے جہاں ہفتہ 16 مئی کو ذوالقعدہ کی 29 تاریخ قرار دی گئی تھی اور چاند کی تصدیق کی گئی۔
دوسری جانب ترکیہ نے بھی پیر 18 مئی کو یکم ذوالحجہ قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ ترکیہ میں چاند دیکھنے کے روایتی طریقے کے بجائے فلکیاتی حساب کتاب پر مبنی پہلے سے تیار کردہ اسلامی کیلنڈر کی پیروی کی جاتی ہے جس کے تحت یہ تاریخ طے کی گئی ہے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور عمان سمیت دیگر بیشتر اسلامی ممالک میں اتوار 17 مئی کی شام ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جہاں حکام اتوار کی شام چاند کی رویت کے بعد عید الاضحیٰ کی تاریخوں کا باضابطہ اعلان کریں گے۔
چین کے ایک سیکیورٹی ماہر نے خبردار کیا ہے کہ تصویر میں ’وکٹری‘ کا نشان دکھانا ہماری بائیو میٹرک معلومات کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔چین کے سیکیورٹی ایکسپرٹ لی چینگ نے گزشتہ ماہ ایک ریئلٹی شو پر ایک سلیبریٹی کی سیلفی کا استعمال کیا جس میں وہ وکٹری کا نشان بنائے ہوئے تھے اور بتایا کہ کس طرح ایسی تصاویر کسی فرد کی نجی بائیو میٹرک معلومات کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔اپنے تجزیے میں انہوں نے بتایا کہ اگر ڈیڑھ میٹر کے فاصلے سے تصاویر لی جائیں اور ان میں انگلیاں کیمرے میں واضح دِکھ رہی ہوں تو اس شخص کی انگلیوں کے نشانات حاصل کرنے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ساتھ ہی لی چینگ نے یہ بھی بتایا کہ تین میٹر کے فاصلے تک سے لی گئی تصویر میں دِکھنے والے نصف فنگر پرنٹس بھی اخذ کیے جا سکتے ہیں اور یہ کام اے آئی کرتا ہے۔پروگرام کے دوران سیکیورٹی ماہر نے فوٹو ایڈٹنگ سافٹ ویئر اور اے آئی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کم ریزولوشن کے فنگر پرنٹس (جو بظاہر دھندلے تھے) کو انتہائی صاف اور تفصیلی بنا کر ناظرین کو حیران کر دیا۔
اکثر افراد یہ سوچتے رہتے ہیں کہ نہانے کا بہترین وقت آخر کون سا ہے، صبح سویرے، دن کے آغاز میں یا رات کو سونے سے پہلے؟ اب ماہرینِ صحت نے اس سوال پر اہم تحقیقاتی روشنی ڈال دی ہے۔امریکی ماہرین کی ایک رپورٹ، جو معروف طبی ویب سائٹ ’’ویری ویل ہیلتھ‘‘ میں شائع ہوئی، کے مطابق اگر کوئی شخص سونے سے ایک یا دو گھنٹے قبل نیم گرم پانی سے غسل کرے تو اسے نہ صرف جلد نیند آتی ہے بلکہ نیند زیادہ پرسکون اور گہری بھی ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کا درجہ حرارت دن کے اوقات میں بلند رہتا ہے جبکہ رات کے وقت قدرتی طور پر کم ہونا شروع ہوتا ہے، جو دماغ کو آرام اور نیند کا اشارہ دیتا ہے۔ نیم گرم پانی سے نہانا اس قدرتی عمل کو مزید تیز کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم ٹھنڈا ہو کر بہتر نیند کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ رات کے وقت صرف دس منٹ کا نیم گرم غسل بھی جسمانی سکون، ذہنی آرام اور بہتر نیند کے معیار میں نمایاں مدد دے سکتا ہے۔دوسری جانب صبح کے وقت نہانے کے بھی اپنے فوائد ہیں۔ صبح کا غسل جسم کو تازگی بخشتا ہے، جلد کی صفائی بہتر کرتا ہے اور دن بھر کے لیے توانائی فراہم کرتا ہے۔ خاص طور پر اگر کوئی شخص صبح ورزش کرتا ہے تو نہانا مزید ضروری ہو جاتا ہے۔ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر آپ کو نیند میں دشواری، صبح کی سستی یا روزمرہ تناؤ کا سامنا رہتا ہے تو رات کے وقت نہانے کی عادت اپنانا آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے
ایران جنگ کے دوران نیتن یاہو کا متین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی آپریشن ’’ شیر کی دھاڑ‘‘ کے دوران نیتن یاہو غیراعلانیہ طور پر متحدہ عرب امارات گئے تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اس خفیہ دورے کے نتیجے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران وزیراعظم نیتن یاہو اور اماراتی قیادت کے درمیان براہِ راست ملاقات ہوئی ہے۔
ادھر امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، ایران کے خلاف جنگی تعاون اور دفاعی روابط پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نیوز رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے حکام سے اس خبر پر فوری تبصرے کی درخواست کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
اسی دوران امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل اور دیگر میڈیا رپورٹس میں انکشاف کیا گیا کہ ایران جنگ کے دوران اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان عسکری اور انٹیلی جنس تعاون غیرمعمولی حد تک بڑھ گیا تھا۔
ان میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو ’’آئرن ڈوم‘‘ دفاعی نظام اور فوجی اہلکار بھی فراہم کیے تاکہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے بھی مارچ اور اپریل میں متحدہ عرب امارات کے متعدد خفیہ دورے کیے جن میں ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں اور دفاعی تعاون پر بات چیت ہوئی۔
اسی طرح بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد نیتن یاہو اور شیخ محمد بن زاید کے درمیان ٹیلیفونک رابطے بھی ہوئے تھے، جن میں اسرائیل نے امارات کی سلامتی کے لیے مکمل حمایت کا اظہار کیا۔
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات نے 2020 میں ہونے والے ابراہام معاہدے کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کیے تھے اور اس طرح وہ والا پہلا خلیجی ملک بن گیا تھا جس نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی، سفارتی اور دفاعی تعاون کے معاہدے کیے۔
وزن میں کمی کے لیے دنیا بھر میں مقبول ہونے والی ’’انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ‘‘ یعنی ’وقفے وقفے سے فاقہ‘ کرنے کی غذائی حکمت عملی سے متعلق نئی تحقیق نے اہم انکشاف کیا ہے کہ یہ طریقہ ہر فرد کے لیے یکساں فائدہ مند نہیں، اور صرف کھانے کے اوقات محدود کرنا وزن گھٹانے یا میٹابولزم بہتر بنانے کی ضمانت نہیں۔ماہرین کے مطابق انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ کی مختلف اقسام، جیسے 16:8 ڈائٹ یا 5:2 پلان، اس بنیاد پر مقبول ہیں کہ مخصوص وقت یا دنوں میں کھانے کی مقدار محدود کی جائے۔ اسی طرح ٹائم ریسٹرکٹڈ ایٹنگ (TRE) میں روزانہ کھانے کو 10 گھنٹے یا اس سے کم دورانیے تک محدود رکھا جاتا ہے، جبکہ باقی وقت فاقہ کیا جاتا ہے۔تاہم جرمن انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن نیوٹریشن کی نئی تحقیق کے مطابق صرف کھانے کے اوقات بدلنے سے صحت میں نمایاں بہتری نہیں آتی، جب تک مجموعی کیلوریز میں کمی نہ کی جائے۔ تحقیق میں زائد الوزن یا موٹاپے کا شکار 31 خواتین کو شامل کیا گیا، جنہوں نے مختلف اوقات پر مبنی دو الگ الگ TRE شیڈولز پر عمل کیا۔ایک شیڈول میں شرکاء نے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کھانا کھایا، جبکہ دوسرے میں دوپہر 1 بجے سے رات 9 بجے تک۔ دونوں صورتوں میں دی جانے والی غذا تقریباً ایک جیسی تھی اور اس میں کیلوریز اور غذائیت کی مقدار برابر رکھی گئی۔تحقیق کے دوران خون کے نمونے، جسمانی ردعمل اور اندرونی حیاتیاتی گھڑی یعنی سرکیڈین ردھم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ اگرچہ کھانے کے اوقات جسمانی گھڑی پر اثرانداز ہوتے ہیں، مگر انسولین حساسیت، بلڈ شوگر، خون میں چربی یا سوزش کے اشاریوں میں کوئی نمایاں طبی بہتری سامنے نہیں آئی۔تحقیق کی سربراہ پروفیسر اولگا رامخ کے مطابق وزن کم کرنے یا میٹابولزم بہتر بنانے کے لیے صرف وقت نہیں بلکہ توانائی کے توازن، یعنی کیلوریز کی مجموعی مقدار، بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی مطالعات میں نظر آنے والے فوائد غالباً غیر ارادی کیلوری کمی کا نتیجہ تھے، نہ کہ صرف کھانے کا دورانیہ محدود کرنے کا۔ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہر فرد کا جسمانی نظام، جینیاتی ساخت اور روزمرہ حیاتیاتی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں، اس لیے انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ کے اثرات بھی سب پر یکساں نہیں ہو سکتے
تیز دماغ والے اس طرح کی پہیلیاں سیکنڈوں میں حل کرسکتے ہیں۔ کیا آپ کو تصویر میں دی گئی عبارت میں موجود غلطی نظر آرہی ہے؟اگر آپ بھی تیز دماغ رکھتے ہیں تو اوپر موجود تصویر میں مختلف رنگوں کی تحریر کے اندر چھپی ایک غلطی کو 10 سیکنڈ کے اندر ڈھونڈ کر بتایئے۔بظاہر یہ پہیلی بہت آسان ہے اور اس کا جواب بھی بالکل سامنے ہے لیکن یہ جتنا آسان نظر آتا ہے اتنا ہی مشکل ہے۔تیز رفتار سے تحریر اور ہندوں کو پڑھنے کے نتیجے میں بیشتر افراد اس میں موجود غلطی کو نظر انداز کرجاتے ہیں یا نظر ہی نہیں آتی۔مختلف رنگوں میں لکھے ہندسے آنکھوں کی توجہ اپنی جانب کھینچتے ہیں اور پڑھنے والا خودکار طور پر ان میں کسی غلطی کو ڈھونڈنے لگتا ہے۔کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا اور 10 سیکنڈ کے اندر کوئی غلطی تلاش نہیں کرسکے؟
اکثر لوگ لیموں استعمال کرتے ہوئے اس کے بیج ضائع کر دیتے ہیں، مگر بعض ماہرین غذائیت کے مطابق یہ بیج بھی کئی طبی فوائد رکھتے ہیں۔لیموں کے بیجوں میں اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامن سی، امینو ایسڈز، پروٹین، قدرتی چکنائی وغیرہ پائی جاتی ہے۔لیموں کے بیج جسم سے زہریلے مادے خارج کرنے، درد میں کمی، جلد کی حفاظت، مہاسوں کے علاج، اینٹی بیکٹیریل اثرات، خوشبو کے ذریعے موڈ بہتر بنانے میں معاون سمجھے جاتے ہیں۔قدرتی علاج کے بعض ماہرین کے مطابق پسے ہوئے لیموں کے بیج مخصوص طریقے سے استعمال کیے جائیں تو بچوں میں پیٹ کے کیڑوں کے خاتمے میں مدد دے سکتے ہیں۔ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ آنتوں کے مریض، قبض کے شکار افراد، بدہضمی والے افراد لیموں کے بیج استعمال کرتے وقت احتیاط برتیں، کیونکہ بعض صورتوں میں یہ نقصان دہ بھی ہو سکتے ہیں۔لیموں کی طرح اس کے بیج بھی بعض فوائد رکھتے ہیں، تاہم انہیں بطور علاج استعمال کرنے سے پہلے طبی مشورہ لینا بہتر ہے تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پیشکش امریکی محکمہ خارجہ کے انصاف پروگرام کے تحت سامنے آئی ہے جس کا مقصد ایران کے مبینہ مالیاتی نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد یہ سمجھنا ہے کہ اسلامی انقلابی گارڈ کور اپنے مختلف ذرائع سے رقوم اور وسائل کو کیسے منتقل کرتا ہے اور کن مالی چینلز کے ذریعے اپنی سرگرمیوں کو برقرار رکھتا ہے۔
واشنگٹن کے مطابق وہ ان مالیاتی اداروں، ایکسچینج ہاؤسز اور کاروباری ڈھانچوں کی نشاندہی چاہتا ہے جو اس مبینہ نیٹ ورک کو سہولت فراہم کرتے ہیں یا اس میں کسی بھی سطح پر شامل ہیں۔
امریکی حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایران کے مالیاتی ڈھانچے پر دباؤ بڑھانا اور ان نیٹ ورکس کو محدود کرنا ہے جن کے ذریعے مبینہ طور پر غیر ریاستی گروہوں اور اتحادی نیٹ ورکس کو سپورٹ فراہم کی جاتی ہے۔
خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ میں نورنگ ریلوے پھاٹک کے قریب دھماکا ہوا ہے۔
پولیس نے دھماکے کی تصدیق کی ہے جب کہ اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ دھماکے میں اب تک 7 افراد جاں بحق اور 10 سے زائد شہری زخمی ہوچکے ہیں، جاں بحق افراد میں 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
پولیس نے کہا کہ دھماکے میں جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق لکی مروت کے سرائے نورنگ بازار میں ہونے والے دھماکے میں 7 افراد جاں بحق ہوئے، جاں بحق ہونے والوں میں 2 ٹریفک پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق دھماکے میں 18 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں میں خاتون اور بچے بھی شامل ہیں، ہسپتال ذرائع کے مطابق سرائے نورنگ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔










