خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ میں نورنگ ریلوے پھاٹک کے قریب دھماکا ہوا ہے۔
پولیس نے دھماکے کی تصدیق کی ہے جب کہ اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ دھماکے میں اب تک 7 افراد جاں بحق اور 10 سے زائد شہری زخمی ہوچکے ہیں، جاں بحق افراد میں 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
پولیس نے کہا کہ دھماکے میں جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق لکی مروت کے سرائے نورنگ بازار میں ہونے والے دھماکے میں 7 افراد جاں بحق ہوئے، جاں بحق ہونے والوں میں 2 ٹریفک پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق دھماکے میں 18 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں میں خاتون اور بچے بھی شامل ہیں، ہسپتال ذرائع کے مطابق سرائے نورنگ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

کرپٹو کرنسی میں بڑھتے ہوئے فراڈ اور اسکیمز سے متعلق تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور بلاک چین کے نام پر شہریوں کو لوٹا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق فراڈیے پہلے سوشل میڈیا یا آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے صارفین کا اعتماد حاصل کرتے ہیں اور پھر انہیں منافع بخش سرمایہ کاری اسکیموں کا لالچ دے کر بڑی رقوم لگوانے پر آمادہ کرتے ہیں۔ بعد ازاں جعلی ایپس یا ویب سائٹس کے ذریعے صارفین کی رقم ہتھیا لی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی چونکہ غیر مرکزی اور ڈیجیٹل نظام پر مبنی ہوتی ہے، اس لیے اس میں سرمایہ کاری کے دوران احتیاط نہ برتی جائے تو نقصان کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کرپٹو مارکیٹ میں سب سے زیادہ فراڈ جعلی منصوبوں اور ’’میم کوائنز‘‘ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ایسے منصوبے ابتدا میں لوگوں کو غیر معمولی منافع کے خواب دکھاتے ہیں، سوشل میڈیا پر تشہیر کی جاتی ہے اور سرمایہ کاروں کو جلد امیر بننے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔
ماہرین نے کہا کہ جب بڑی تعداد میں لوگ سرمایہ لگا دیتے ہیں تو بعض منصوبہ ساز اچانک رقم لے کر غائب ہوجاتے ہیں، انہوں نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی آن لائن سرمایہ کاری سے قبل مکمل تحقیق کریں، غیر معروف پلیٹ فارمز سے گریز کریں اور غیر حقیقی منافع کے دعووں پر ہرگز یقین نہ کریں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے دی گئی تازہ تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دے دیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ میں نے ایران کے نام نہاد نمائندوں کی جانب سے حالیہ تجاویز دیکھی ہیں یہ مجھے پسند نہیں آئیں اور یہ تجاویز مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران کا جواب واشنگٹن کے لیے قابل قبول نہیں اور موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔
واضح رہے کہ تہران نے اپنی جوابی تجاویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچائی تھیں۔

میانمار میں کان کنوں نے ایک بڑا یاقوت دریافت کیا ہے جس کا وزن 11 ہزار قیراط (تقریباً 2.2 کلوگرام) ہے۔ یہ ملک میں اب تک دریافت ہونے والا وزن کے لحاظ سے دوسرا سب سے بڑا یاقوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ نایاب پتھر اپریل کے وسط میں موگوک کے علاقے کے قریب ملا، جو قیمتی پتھروں کی کان کنی کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ 1996 میں اس سے بھی بڑا یاقوت دریافت ہوا تھا مگر یہ نیا یاقوت اپنی غیرمعمولی چمک، گہرے رنگ اور شفافیت کی وجہ سے کہیں زیادہ قیمتی سمجھا جا رہا ہے۔
میانمار سے دنیا کے تقریباً 90 فی صد یاقوت نکلتے ہیں اور جواہرات کی تجارت ملک کی معیشت کے لیے ایک بڑا ذریعہ آمدن ہے۔
تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی جیولرز سے اپیل کی ہے کہ وہ میانمار کے قیمتی پتھر خریدنے سے گریز کریں، کیونکہ ان کے مطابق یہ صنعت برسوں سے فوجی حکومتوں اور مختلف مسلح گروہوں کی مالی معاونت کرتی رہی ہے۔ یہ حیران کن دریافت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب میانمار خانہ جنگی اور شدید بدامنی کی لپیٹ میں ہے، جبکہ جواہرات کی کان کنی والے کئی علاقے فوج اور مسلح گروہوں کے درمیان مسلسل کشمکش کا میدان بنے ہوئے ہیں۔

امریکا کے ڈینور ائرپورٹ پر ایک افسوسناک حادثے میں مسافر طیارہ ٹیک آف کے دوران رن وے پر موجود ایک شخص سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگیا۔
ائیرپورٹ حکام کے مطابق فرنٹیئر ایئر لائنز کی پرواز 4345 رات کوتقریباً 11 بج کر 19 منٹ پر روانگی کے لیے رن وے پر دوڑ رہی تھی کہ اسی دوران ایک شخص طیارے کی زد میں آگیا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک اہلکار نے بتایا کہ متاثرہ شخص جزوی طور پر طیارے کے انجن میں بھی چلا گیا تھا، جس کے باعث انجن میں آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کے فوراً بعد ایئرپورٹ حکام نے کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پالیا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ائیرپورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص ائیرپورٹ کے اطراف نصب حفاظتی باڑ عبور کرکے اندر داخل ہوا تھا۔ حکام کے مطابق باڑ پار کرنے کے تقریباً دو منٹ بعد ہی وہ طیارے سے ٹکرا گیا۔
ایئرلائن کے مطابق طیارہ لاس اینجلس کے لیے روانہ ہو رہا تھا۔ اس میں 224 مسافر اور عملے کے 7 افراد سوار تھے۔ حادثے میں کم از کم ایک مسافر معمولی زخمی بھی ہوا۔
واقعے کے بعد ائیرپورٹ سیکیورٹی اور حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ حکام نے حادثے کی تحقیقات شروع کردی ہیں تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ مذکورہ شخص کس طرح رن وے تک پہنچا۔

پشاور اور ملحقہ علاقوں میں تیز آندھی کے ساتھ گرج چمک کی بارش ہوئی جس کے باعث آسمان پر گہرے بادل چھا گئے اور دن میں رات کا سماں بن گیا۔ محکمہ موسمیات نے آج سے آئندہ تین دن تک تیز آندھی اور بارشوں کی پیشگوئی کی تھی۔ اسی پیشگوئی کے مطابق پشاور اور ملحقہ علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس سے موسم خوشگوار اور ٹھنڈا ہو گیا ہے۔ شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پاکستان کی حکومت نے پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ ایک اعلامیے کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے جبکہ پیٹرول یعنی موٹر سپیرٹ کی قیمت میں 14.92 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 414.78 روپے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 414.58 ہو چکی ہے۔
مارچ سے اب تک پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتیں میں پانچ مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے۔ جبکہ اس دوران دو مرتبہ قیمتوں میں کمی بھی کی گئی تھی۔ مارچ میں پیٹرول کی قیمت میں ہونے والے پہلے اضافے سے قبل اس کی قیمت 255 روپے فی لیٹر تھی، یعنی دو ماہ میں پیٹرول 60 فیصد سے زیادہ مہنگا ہو چکا ہے۔
خیال رہے کہ جمعے کو آبنائے ہرمز پر امریکی اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپ کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔ عالمی سطح پر برینٹ خام تیل کی قیمت ایک موقع پر تقریباً تین فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 103 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی تاہم بعد میں یہ کم ہو کر لگ بھگ 100 ڈالر پر آ گئی تھی۔
جھڑپ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔ جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق صورتحال اب ’معمول پر واپس آ گئی ہے۔‘
دنیا کا 20 فیصد تیل اور گیس ہرمز کے ذریعے گزرتا ہے۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ گزرگاہ عملی طور پر بند ہے۔ تنازع شروع ہونے سے قبل عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت تقریباً 70 ڈالر فی بیرل تھی۔

آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کے درمیان جھڑپوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں اور توانائی مارکیٹس میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی اور ایرانی فورسز کے درمیان حالیہ کشیدگی نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، جس کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ شروع ہوگیا۔برینٹ کروڈ، جو عالمی معیار کا خام تیل سمجھا جاتا ہے، جمعرات کے روز ٹریڈنگ کے دوران تقریباً 7.5 فیصد تک بڑھ گیا۔ بعد ازاں ایشیائی مارکیٹس کھلنے پر قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی، تاہم برینٹ کروڈ کی قیمت اب بھی 101.12 ڈالر فی بیرل پر برقرار ہے،رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت دن کے دوران 103.70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی تیل سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔دوسری جانب امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی تیزی ریکارڈ کی گئی۔ امریکی خام تیل تقریباً 3 فیصد اضافے کے بعد 97.26 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔توانائی ماہرین کے مطابق موجودہ بحران کے باعث عالمی سطح پر روزانہ تقریباً 14.5 ملین بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس نے مارکیٹ میں شدید غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی معیشت، توانائی سپلائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بڑے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں

پاکستان کی ایران جنگ میں سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر بڑی پذیرائی مل گئی، جہاں امریکی ایوان نمائندگان میں پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت میں قرارداد پیش کر دی گئی۔واشنگٹن میں پیش کی گئی اس قرارداد میں پاکستان کو ایران جنگ کے دوران ایک ’غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد ثالث‘ قرار دیا گیا۔ یہ قرارداد امریکی کانگریس کے رکن ال گرین نے ایوانِ نمائندگان میں پیش کی۔قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران پاکستان نے نہ صرف فریقین کے درمیان سفارتی رابطے قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ جنگ بندی اور تعمیری مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں بھی بھرپور تعاون فراہم کیا۔امریکی قرارداد میں پاکستان کی جانب سے سفارتی وفود کی میزبانی اور مذاکرات کے لیے خصوصی انتظامات کو بھی سراہا گیا۔ متن کے مطابق پاکستان نے امن عمل کو کامیاب بنانے کے لیے اپنے شہروں کی بندش اور دیگر مشکلات برداشت کیں تاکہ جنگ کے خاتمے کی راہ نکالی جا سکے۔قرارداد میں کہا گیا کہ ایران جنگ کے باعث ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔ اقوام متحدہ کے ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق جاری تنازع کے نتیجے میں تقریباً 32 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔امریکی ایوان میں پیش کی گئی قرارداد کے مطابق جنگ کے مالی اخراجات بھی غیر معمولی سطح تک پہنچ چکے ہیں اور اندازوں کے مطابق اس تنازع پر روزانہ تقریباً ایک ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔ اس جنگ نے عالمی توانائی سپلائی اور فیول مارکیٹ کو بھی شدید متاثر کیا۔قرارداد میں زور دیا گیا کہ جنگ کا خاتمہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے، جبکہ پاکستان نے اس مقصد کے لیے انتہائی اہم اور مثبت سفارتی کردار ادا کیا

نوجوانوں میں دل کے دورہ پڑنے کے کیسز میں اضافے کی وجہ سامنے آگئی۔جیسے جیسے زندگی گزارنے کا طریقہ تبدیل ہورہا ہے اسی طرح صحت کے مسائل میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے، ہائی بلڈپریشر، ذیابیطس، فالج اور کینسر سمیت دیگر بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کی بنیادی وجہ صحت مند زندگی سے دوری ہے۔ ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ امراض قلب کا سامنا بڑھاپے یا کم از کم درمیانی عمر میں ہوتا ہے لیکن حالیہ برسوں میں جوان افراد میں دل کے امراض کی شرح میں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔حال ہی میں فن لینڈ کی اولو یونیورسٹی کی جانب سے ایک تحقیق کی گئی جس سے معلوم ہوا کہ مکمل نیند نہ لینا اور وقت پر نہ سونے کی وجہ سے دل کے امراض میں اضافہ ہورہا ہے۔اس تحقیق میں 40 افراد نے حصہ لیا جن کے سونے کے اوقات پر نظر رکھی گئی اور تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ تاخیر سے سونا اور نیند پوری نہ کرنے کی وجہ سے دل کے دورے کا خطرہ دگنا ہو جاتا ہے۔محققین نے 10 سال سے زائد عرصے تک ہزاروں لوگوں کا مشاہدہ کیا اور بتایا کہ 8 گھنٹے سے کم سونے والے لوگوں کو دل کے دورے اور فالج کے خطرے کا دگنا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔نیند کی روٹین کو کیسے ٹھیک کیا جائے؟ماہرین قلب کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کو دل کے دورے کا خطرہ کم کرنے کیلئے چاہیے کہ وہ اپنے سونے اور جاگنے کی روٹین کو درست کرے، باقاعدگی سے اپنی نیند پوری کرے۔اس کے علاوہ سونے سے 60 منٹ پہلے اسکرین ٹائم سے پرہیز کریں، اس عادت کو اپنا کر آپ اپنی نیند کو بہتر کرسکتے ہیں۔سونے سے قبل مرچ مصالحے اور تلے ہوئے کھانوں سے پرہیز کیا جائے اور شام 4 بجے کے بعد سے چائے کافی کے استعمال کو کم کیا جائے۔