اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست نمٹا دی۔
عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ مرکزی اپیلیں سننے کے باعث سزا معطلی کی درخواستیں غیر موثر ہوگئی ہیں۔
عدالت نے مرکزی اپیلیں سننے کے لیے کیس 7 مئی کو مقرر کردیا، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ سماعت کرے گا۔ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی سزا معطلی درخواستیں پہلے سننے کی استدعا مسترد کردی گئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا کنا تھا کہ مرکزی اپیلیں مقرر ہو گئیں تو سزا معطلی درخواستیں غیرموثر ہوگئیں، بشری بی بی کی سزا معطلی کی درخواست بھی غیر موثر ہوگئی۔
یاد رہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
عدالت نے اسی مقدمے میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بھی سات برس قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم دیا تھا۔

مظفر آباد سے گزشتہ ماہ ریسکیو کیا جانے والا (کامن لیپڈ) تیندوا صحت یابی کی بعد دوبارہ اسکے قدرتی ماحول میں چھوڑ دیا گیا۔
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق 5 اپریل کو نوجوان تیندوا زخمی حالت میں تحصیل نصیرآباد میں آبادی کے قریب سے ریسکیو کیا گیا تھا۔ محکمہ وائلڈ لائف کی ٹیم نے ریسکیو کیا جانے والا تیندوا علاج کی غرض سے وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ اسلام آباد بھجوا دیا تھا۔
وائلڈ لائف منجمنٹ بورڈ کی ٹیم اور وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام تیندوے کو اس کے آبائی مسکن میں چھوڑا۔
سیکرٹری حکومت برائے جنگل و جنگل حیات چوہدری فرید نے بتایا کہ تیندوا ’’وائلڈ لائف ہیومن کنفلکٹ‘‘ کا شکار ہو کر زخمی ہوا تھا۔ وائلڈ لائف منجمنٹ بورڈ اور ان کی ٹیم کی شکر گزار ہیں۔
ڈائریکٹر وائلڈ لائف، عبدالشکور کٹاریا نے بتایا کہ مظفرآباد آزاد کشمیر میں زخمی یا بیمار جنگلی جانوروں کا علاج کرنے کی سہولت موجود ہو تو بہت سے جنگلی جانوروں کی بچایا جا سکتا ہے۔
معالج ڈاکٹر ثنا وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ اسلام آباد کا کہنا تھا کہ تیندوا گردن اور سر پر زخم کی ساتھ وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ اسلام آباد لایا گیا تھا، ایک ہفتے تک تیندوا کوما کی حالت میں رہا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کے علاقے وویک وہارمیں ایک رہائشی عمارت کے دوسری منزل میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے تیسری اور چوتھی منزلوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی متعلقہ ادارے فوری ریسکیو کرنے پہنچ گئے، آگ بجھانے کے عمل میں 14 فائر ٹینڈرز نے حصہ لیا اور درجنوں لوگوں کو ریسکیو کیا گیا، 2 گھنٹوں کی محنت کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا۔
انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ حادثے میں زخمی ہونے والوں کو فوری علاج کیلئے اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ حادثے میں 9 افراد ہلاک ہوئے جن کی شناخت کرلی گئی ہے۔
مقامی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ رہائشی عمارت میں آگ لگنے کی وجہ معلوم نہ ہوسکی البتہ رہائشیوں کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ آگ مبینہ طور پر اے سی پھٹنے کی وجہ سے لگی تاہم معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ایران کا ایک بڑا آئل ٹینکر مبینہ طور پر امریکی بحری نگرانی اور ٹریکنگ سسٹمز کو چکمہ دیتے ہوئے بحفاظت مشرق بعید کے سمندری علاقوں تک پہنچ گیا ہے جس پر عالمی بحری حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
میرین مانیٹرنگ رپورٹس کے مطابق نیشنل ایرانی ٹینکر کمپنی کا ویری لارج کروڈ کیریئر (VLCC) “HUGE” (IMO: 9357183) ایک ہفتہ قبل سری لنکا کے قریب آخری بار دیکھا گیا تھا جس کے بعد اس کی نقل و حرکت خفیہ ہو گئی تھی۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ ٹینکر اس وقت انڈونیشیا کے لومبوک آبنائے سے گزرتے ہوئے ریاؤ جزائر کی جانب بڑھ رہا ہے۔
جہاز پر تقریباً 19 لاکھ بیرل خام تیل موجود ہے جس کی مالیت 22 کروڑ ڈالر کے قریب بتائی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹینکر کی جانب سے ٹریکنگ سسٹمز سے بچنے کے لیے ممکنہ طور پر مخصوص تکنیکی طریقے اختیار کیے گئے جس کے باعث اس کی درست لوکیشن کچھ عرصے تک معلوم نہ ہو سکی۔

آسٹریلیا میں چوہوں کے فصلوں پر حملوں سے خوراک کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق آسٹریلوی حکومت مغربی علاقوں میں چوہوں سے پریشان ہے جو خوراک کی سپلائی کو متاثر کررہے ہیں، چوہے آسٹریلیا کے اناج اُگانے والے علاقوں کیلئے ایک مستقل مسئلہ بن گئے ہیں جو فصلوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔آسٹریلیا میں فصلوں پر چوہوں کا حملہ، کسانوں کی محنت پر پانی پھیر دیااس حوالے سے آسٹریلوی وزیر توانائی نے کہا کہ حکومت صنعت کے ساتھ مل کر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کررہی ہے، چوہوں نے کسانوں، صنعتوں اور حکومت کے لیے بہت مشکل صورتحال پیدا کردی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا دنیا کا چوتھا سب سے بڑا گندم برآمد کرنے والا ملک ہے۔اس سے قبل آسٹریلیا میں 1993 میں بھی چوہوں نے ہزاروں ایکڑ فصلوں کو تباہ کیا تھا۔

گرم موسم میں جلد کی دیکھ بھال کے لیے عموماً ایسی غلطیاں ہو جاتی ہیں، جو ہماری اسکن کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔سورج کی تیز روشنی، پسینہ اور زیادہ نمی گرمیوں کے موسم میں خاص طور پر جلد کے لیے چیلنجز پیدا کر دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگ اس موسم میں چند غلطیاں کر بیٹھتے ہیں، جس سے جلد خشک، بیزار یا دھبوں والی محسوس ہو سکتی ہے۔سب سے عام غلطی یہ ہے کہ لوگ سن اسکرین صرف ساحل یا باہر جاتے وقت لگاتے ہیں، جبکہ روزمرہ معمول میں بھی سورج کی شعاعیں جلد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ SPF 30 یا اس سے زیادہ سن اسکرین ہر صبح استعمال کریں اور 2 سے 3 گھنٹے بعد دوبارہ لگائیں، خاص طور پر اگر آپ زیادہ پسینے میں ہیں یا پانی کے قریب ہیں۔گرمیوں میں اکثر لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ جلد پہلے سے ہی نمی سے بھرپور ہے، اس لیے موئسچرائزر کی ضرورت نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پسینے اور سورج کی شدت جلد کی قدرتی نمی کو ختم کر سکتی ہے۔ اس کے لیے ہلکا، آئل فری اور جیل بیسڈ موئسچرائزر استعمال کریں تاکہ جلد تازہ اور ہائیڈریٹڈ رہے۔گرمیوں میں پسینے کی وجہ سے اکثر لوگ جلد کو زیادہ صاف کرنے کے لیے سخت کلینزر یا روزانہ اسکرب استعمال کرتے ہیں۔یہ جلد کی قدرتی حفاظتی تہہ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور خشکی یا خارش پیدا کر سکتا ہے۔ روزانہ ہلکے کلینزر اور ہفتے میں ایک یا 2 بار ہلکا اسکرب کافی ہے

پاکستان نے پاکستان-افغانستان سرحدی صورتحال پر برطانوی نمائندے کے بیان کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔دفترِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مذکورہ بیان زمینی حقائق اور خطے کی پیچیدہ سرحدی صورتحال کی مکمل سمجھ کے بغیر دیا گیا ہے، اس لیے یہ حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتا۔ترجمان نے کہا کہ مارچ 2026 میں پاکستان کی جانب سے خیرسگالی کے طور پر عارضی وقفے کے اعلان کے باوجود افغان سرزمین سے سرحد پار جارحیت اور دہشت گردوں کی دراندازی کی کوششیں مسلسل جاری رہیں۔ اس دوران افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور حملوں کے ساتھ ساتھ مبینہ طور پر حمایت یافتہ بھارتی پراکسیز کی کارروائیوں کے نتیجے میں 52 شہری شہید اور 84 زخمی ہوئے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مؤثر اور ہدفی کارروائیاں کیں، جن میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور سہولت کار ڈھانچوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ متعدد دراندازی کی کوششیں ناکام بنائی گئیں۔ ترجمان نے افغان حکام کے شہری ہلاکتوں کے دعوؤں کو بے بنیاد اور شواہد سے عاری قرار دیا۔پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے کی صورتحال کو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور اصولی مؤقف کی روشنی میں دیکھے اور حقائق پر مبنی غیر جانبدار رائے اختیار کرے۔

کراچی میں آج ہفتے کے روز شدید گرمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے شہر میں آج گرم ترین دن ریکارڈ ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
موسم سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز جمعہ کو بھی گرمی کی شدت اپنے عروج پر رہی اور محسوس کیے جانے والا درجہ حرارت 49 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا، جبکہ رات کے اوقات میں بھی ہوا نہ ہونے کے باعث حبس برقرار رہا۔
ماہرین نے بتایا کہ آج شہر میں درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے، جبکہ مضافاتی علاقوں میں پارہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ کو بھی چھو سکتا ہے۔
تاہم ہوا کی رفتار کم اور نمی کا تناسب زیادہ ہونے کے باعث دوپہر کے اوقات میں محسوس کیے جانے والا درجہ حرارت 49 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کی توقع ہے۔
اسی طرح شام کے وقت سمندری ہوائیں بحال ہونے سے موسم میں جزوی بہتری کا امکان ہے، تاہم رات کو ایک بار پھر ہوا کی رفتار کم ہونے کے باعث حبس کی کیفیت برقرار رہ سکتی ہے۔
اس صورتحال میں شہریوں کو شدید گرمی اور نمی کے باعث مشکلات کا سامنا رہنے کا خدشہ ہے۔
ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ اس گرم موسم میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور دھوپ میں زیادہ دیر تک رہنے سے گریز کریں۔ بچوں اور بزرگوں کا خاص خیال رکھنے کی بھی تاکید کی گئی ہے تاکہ شدید گرمی کے اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران سفارت کاری کا راستہ کھلا رکھنے کے لیے تیار ہے، تاہم امریکا کو اپنا دھمکی آمیز لہجہ اور رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔
عباس عراقچی نے خطے کے اہم ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں سعودی عرب، قطر، ترکیے، مصر، عراق اور آذربائیجان شامل ہیں۔ اس دوران انہوں نے ان ممالک کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایران کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات اور سفارت کاری کے عمل کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اپنی پالیسیوں میں نرمی لائے اور دھمکیوں کی سیاست ترک کرے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں پاکستان کو باضابطہ ثالث کی حیثیت حاصل ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق اگر مذاکرات کے انعقاد کا کوئی حتمی فیصلہ کیا گیا تو اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی جانب سے ایسی شرائط پیش کی جا رہی ہیں جن سے وہ اتفاق نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے مذاکرات میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی کانگریس کو ایک خط لکھ کر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مسلح کشیدگی اب ختم ہو چکی ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ خط کانگریس کے اسپیکر مائیک جونسن اور سینیٹ کے صدر چک گراسلی کے نام ارسال کیا، جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی کشیدگی کا مرحلہ اب اختتام کو پہنچ گیا ہے۔
خط میں ٹرمپ نے لکھا کہ ان کی حکومت خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے، تاہم اس کے باوجود جنگ جاری رہنے کا امکان بھی موجود ہے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایران کے ساتھ تنازعہ مکمل طور پر حل نہیں ہوا اور صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا مؤقف اختیار کر کے ٹرمپ انتظامیہ ممکنہ طور پر کانگریس سے باقاعدہ جنگی منظوری لینے کی آئینی ضرورت سے بچنا چاہتی ہے حالانکہ خطے میں امریکی افواج کی موجودگی برقرار ہے۔