پاکستان میں پیٹرول کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور آنے والے مہینوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔حالیہ برسوں میں الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال بڑھا ہے مگر اب بھی وہ خام ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں کی جگہ لینے کے لیے تیار نہیں۔مگر اچھی بات یہ ہے کہ چند عام چیزوں کو عادت بنا کر آپ پیٹرول پر کیے جانے والے ماہانہ اخراجات میں کمی لا سکتے ہیں۔پیٹرول مائلیج کو بہتر بنانے سے فضا میں زہریلی گیسوں کے اخراج کو کم کرنا بھی ممکن ہے۔اگر ایک گھنٹے کا سفر ایک گھنٹہ 10 منٹ میں طے ہو تو پیٹرول جلنے کی شرح میں 15 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے، تو ہر جگہ جانے کے لیے منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے۔گاڑی کا انجن چلانے سے قبل ایسے راستوں کا انتخاب کریں جہاں ٹریفک کم ہو اور منزل تک جلد پہنچنے میں مدد مل سکے، اس حوالے سے گوگل میپس سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔اگر آپ پیٹرول کی نمایاں بچت کرنا چاہتے ہیں تو جان لیں کہ ٹائر پریشر اس حوالے سے ائیر کنڈیشنر سے زیادہ اہم ثابت ہوتا ہے۔ٹائر میں ہوا کم ہونے سے پیٹرول کا خرچہ بڑھتا ہے۔اگر گاڑی کی رفتار بہت زیادہ ہو تو پیٹرول مائلیج بہت تیزی سے کم ہوتی ہے۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ گاڑی کی رفتار 60 میل فی گھنٹہ سے زیادہ ہونے پر پیٹرول مائلیج میں 3 میل تک کمی آتی ہے۔اگر آپ گاڑی کو کھڑکیاں کھلی رکھ کر چلاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں ہوا کی زیادہ مزاحمت کا سامنا ہوتا ہے اور ایندھن بھی زیادہ جلتا ہے۔اس کے مقابلے میں ائیرکنڈیشنر کے استعمال سے ایندھن کی زیادہ بچت ہوتی ہے۔گاڑی میں محض اضافی 22 کلوگرام وزن سے پیٹرول مائلیج میں ایک فیصد کمی آتی ہے۔اگر آپ روزانہ گاڑی استعمال کرتے ہیں تو اس میں اضافی سامان ذخیرہ کرنے سے گریز کریں۔اچانک رفتار بڑھانے اور بریکس لگانے سے پیٹرول کے مائلیج میں 15 سے 40 فیصد تک کمی آتی ہے۔رفتار کو بار بار کم زیادہ کرنے سے ایندھن زیادہ خرچ ہوتا ہے تو یکساں رفتار سے گاڑی چلانے کو ترجیح دیں۔آپ بریک لگانے کی بجائے پیڈل سے پیر ہٹا کر گاڑی کی رفتار سست کرکے بھی پیٹرول کی بچت کر سکتے ہیں۔ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ گرد سے ہائی وے پر گاڑی کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، خراب کارکردگی کا مطلب زیادہ پیٹرول جلنا ہے، تو اپنی گاڑی کی صفائی کا خیال رکھیں۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 17 فیصد گاڑیوں کے پیٹرول ٹینک کے ڈھکن خراب ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں ہر سال کروڑوں گیلن پیٹرول ہوا میں بخارات بن کر اڑ جاتا ہے جبکہ مائلیج میں بھی کمی آتی ہے۔اگر تو آپ ایک منٹ سے زیادہ وقت تک گاڑی کو کسی جگہ روک رہے ہیں تو بہتر ہے کہ انجن کو بند کردیں۔ماہرین کے مطابق رکی ہوئی گاڑی کا انجن اگر 10 منٹ تک چلتا رہے تو ایک گلاس پیٹرول ضائع ہو جاتا ہے۔جس حد تک ممکن ہو آخری گیئر میں گاڑی چلائیں کیونکہ لوئر گیئرز میں رفتار بڑھانے سے ایندھن زیادہ خرچ ہوتا ہے۔ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ جارحانہ انداز سے ڈرائیونگ کرنے کے نتیجے میں ہائی وے پر پیٹرول مائلیج 33 فیصد جبکہ شہر کے اندر 5 فیصد گھٹ جاتا ہے

اسلام آباد ہائیکورٹ میں بشریٰ بی بی سے ملاقات اور ذاتی معالج تک رسائی سے متعلق درخواست پر اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
بشریٰ بی بی کی بیٹی مبشرہ کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر دیے گئے، جس کے بعد عدالت نے پٹیشن کو نمبر لگا کر پیر کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔
سماعت کے دوران وکلا سلمان اکرم راجہ، علی بخاری، نعیم پنجوتھہ اور خالد یوسف عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ اس موقع پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ اس نوعیت کے معاملات میں پہلے متعلقہ اتھارٹی سے رجوع کرنا ضروری ہوتا ہے اور اگر ابھی تک جیل حکام سے رجوع نہیں کیا گیا تو آج یا کل میں کر لیا جائے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ پیر کو کیس پر نمبر لگنے کے بعد اسے سنا جائے گا۔ انہوں نے سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ کیا پہلے بھی ملاقات نہیں ہو رہی تھی؟، جس پر وکیل نے بتایا کہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کبھی کرا دی جاتی ہے اور کبھی روک لی جاتی ہے۔ اب فیملی ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔
وکیل سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار بشریٰ بی بی کی بیٹی ہیں اور ان کی ملاقات بند نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی کی طبیعت ٹھیک نہیں اور ان کی سرجری بھی ہو چکی ہے، اس لیے کیس میں ایمرجنسی نوعیت کے پیش نظر فوری سماعت کی استدعا کی گئی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ آج آخری ورکنگ ڈے ہونے کی وجہ سے اعتراضات دور کر دیے گئے ہیں ۔ کیس کو پیر کے پہلے ورکنگ ڈے پر سنا جائے گا، جس کے بعد کیس کی مزید سماعت پیر تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

سوشل میڈیا پر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی دھمکی دینے کے الزام میں امریکا کے سابق ڈائریکٹر ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمس کومی کو فیڈرل کورٹ میں پیش کردیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئے کے سابق ڈائریکٹر نے خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کردیا۔
جس کے بعد انھیں ریاست ورجینیا کے مشرقی ضلع کی وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا۔
استغاثہ نے بتایا کہ جیمس کومی نے گزشتہ سال سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی تھی جس میں سمندر کنارے سیپوں سے “86 47” لکھا ہوا تھا۔
تفتیشی حکام کا کہنا تھا کہ عام بول چال میں “86” کا مطلب کسی چیز کو ختم کرنا یا ہٹا دینا ہوتا ہے جبکہ “47” موجودہ صدر ٹرمپ کی طرف اشارہ تھا کیوں کہ 47 ویں صدر ہیں۔
اسی بنیاد پر جیمس کومی پر صدر ٹرمپ کو قتل کرنے یا منظرنامے سے ہٹانے کی دھمکی دینے اور بین الریاستی سطح پر دھمکی دینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
تاہم مختصر سماعت کے بعد جج نے انھیں بغیر کسی شرط کے جانے کی اجازت دے دی۔عدالت کی یہ کارروائی چند منٹوں پر مشتمل تھی۔
جیمس کومی کی باقاعدہ فردِ جرم اور اگلی پیشی کی تاریخ تاحال مقرر نہیں کی گئی جبکہ کیس کو آگے چل کر شمالی کیرولائنا کی وفاقی عدالت میں منتقل کیا جائے گا۔
جیمس کومی کے وکلا نے دلیل دی کہ وہ محکمۂ انصاف پر جانبدار اور انتقامی کارروائی کا الزام لگاتے ہوئے مقدمہ چیلنج کریں گے۔
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب جیمس کومی کو قانونی کارروائی کا سامنا ہو اس سے قبل بھی ٹرمپ انتظامیہ کے سابق دور میں ان پر کانگریس سے غلط بیانی کا کیس بنایا گیا تھا جو بعد میں عدالت نے خارج کر دیا تھا۔

امریکا میں ایک غیر معمولی اور متنازع اقدام سامنے آیا ہے جس کے تحت ایک محدود ایڈیشن پاسپورٹ جاری کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس پر موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر اور ان کے سنہری دستخط شامل ہوں گے۔ یہ اعلان امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کے موقع پر کیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق واشنگٹن میں ایک تقریب کے دوران اس نئے پاسپورٹ کا نمونہ پیش کیا گیا، جس میں ٹرمپ کی تصویر آزادی کے اعلامیے کے پس منظر کے ساتھ دکھائی گئی۔
ایک اور ڈیزائن میں بانیانِ امریکا کی تاریخی پینٹنگ شامل کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ خصوصی پاسپورٹ محدود مدت کے لیے صرف دارالحکومت میں دستیاب ہوگا اور اس کے حصول کے لیے کوئی اضافی فیس نہیں لی جائے گی۔
اس اعلان نے سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔ حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے اس اقدام کو صدر کی ذاتی تشہیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی وسائل کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ دنیا کی جمہوریتوں میں شاذ و نادر ہی کسی موجودہ سربراہِ حکومت کی تصویر پاسپورٹ پر شامل کی جاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک اپنے پاسپورٹس میں قدرتی مناظر، تاریخی ورثہ یا قومی علامات کو نمایاں کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض سخت گیر ممالک بھی اپنے رہنماؤں کی تصاویر کے بجائے قومی شناخت کی دیگر علامتوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ موجودہ امریکی پاسپورٹ میں بھی چاند پر انسان کے قدم رکھنے کا منظر اور مجسمۂ آزادی جیسی علامات شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے عہدہ سنبھالنے کے بعد مختلف سرکاری اداروں اور عمارتوں پر اپنے نام اور تصویر کو نمایاں کرنے کے اقدامات کیے ہیں، جن میں اہم قومی اداروں کے ناموں میں تبدیلی اور سرکاری عمارتوں پر بینرز کی تنصیب شامل ہے۔
اس سے قبل محکمہ خزانہ کی جانب سے یہ اعلان بھی کیا گیا تھا کہ مستقبل میں ڈالر کے نوٹوں پر ٹرمپ کے دستخط شامل کیے جائیں گے، جو ایک نئی روایت ہوگئ

امریکی انٹیلی جنس ادارے اس بات کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری دو ماہ پرانی جنگ میں یکطرفہ فتح کا اعلان کرتے ہیں تو تہران کا ردعمل کیا ہو سکتا ہے؟ اس معاملے سے باخبر ذرائع کے مطابق یہ تجزیہ اعلیٰ حکام کی ہدایت پر کیا جا رہا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس امکان پر بھی غور کر رہی ہے کہ اگر جنگ میں اچانک کمی لائی گئی تو اس کے سیاسی اثرات کیا ہوں گے خاص طور پر ایسے وقت میں جب یہ تنازع وائٹ ہاؤس کے لیے اندرونی دباؤ کا باعث بنتا جا رہا ہے اور آئندہ وسط مدتی انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
انٹیلی جنس تجزیوں کے مطابق اگر امریکا اچانک فتح کا اعلان کر کے خطے میں اپنی فوجی موجودگی کم کر دیتا ہے تو ایران اسے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔
تاہم اگر اعلان فتح کے باوجود امریکی افواج بدستور تعینات رہیں تو تہران اسے ممکنہ مذاکراتی حربہ سمجھ سکتا ہے لیکن اس سے فوری طور پر جنگ کے خاتمے کی توقع کم ہوگی۔
سی آئی اے کی جانب سے اس حوالے سے براہ راست تبصرے سے گریز کیا گیا ہے جبکہ آفس آف ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس نے بھی معاملے پر خاموشی اختیار کی ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان انا کیلی نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ رابطے میں ہے تاہم کسی جلد بازی میں معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کسی ایسے معاہدے پر ہی رضامند ہوں گے جو امریکی قومی سلامتی کے مفاد میں ہو اور وہ واضح کر چکے ہیں کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2026 کے دوران توانائی کی قیمتیں 24 فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ خطے میں تناؤ مئی تک کم بھی ہو جائے، تب بھی قیمتوں میں اضافہ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
تاہم اگر کشیدگی میں مزید شدت آئی اور سپلائی متاثر ہوئی تو توانائی مزید مہنگی ہو سکتی ہے۔
عالمی بینک کے مطابق تیل و گیس کی تنصیبات پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں رکاوٹوں نے سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے جس کے اثرات عالمی منڈیوں میں نمایاں ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2026 میں برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 86 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ 2025 میں یہ اوسطاً 69 ڈالر فی بیرل رہی تھی۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر توانائی تنصیبات کو مزید نقصان پہنچا یا تجارتی راستے مکمل طور پر بحال نہ ہو سکے تو قیمتیں اس سے بھی زیادہ بڑھ سکتی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت بتدریج بہتر ہو سکتی ہے اور اکتوبر تک جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچنے کی توقع ہے تاہم اس کا انحصار خطے میں امن و استحکام پر ہوگا۔

جی ہاں واقعی جس مہینے میں 2 مکمل چاند دیکھنے میں آتے ہیں، تو دوسرے چاند کو بلیو مون کہا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ بلیو مون سے مراد یہ نہیں کہ چاند کا رنگ نیلگوں مائل ہو جائے گا بلکہ انگریزی مہینے میں دوسری بار دکھائی دینے والے چودھویں کے چاند کو بلیو مون کہا جاتا ہے۔
پہلے یکم مئی کو مکمل چاند آسمان پر طلوع ہوگا جبکہ دوسرا مہینے کے آخری دن یعنی 31 مئی کو نظر آئے گا۔
اس مہینے کا بلیو مون اس لیے بھی خاص ہے کیونکہ اس کے بعد ایسا نظارہ دیکھنے کے لیے 2028 تک انتظار کرنا ہوگا۔
بلیو مون کی اصطلاح استعمال کرنے کی وجہ بھی کافی دلچسپ ہے۔
19 ویں صدی میں ایک آتش فشاں پھٹنے سے آسمان کی رنگت میں عجیب تبدیلی آئی جس کے باعث مکمل چاند نیلگوں رنگ کا نظر آنے لگا، جسے بلیو مون کہا گیا۔
بلیو مون کی 2 اقسام ہیں، ایک سیزنل بلیو مون اور دوسری منتھلی بلیو مون۔
سیزنل بلیو مون ایک سیزن میں 4 مکمل چاندوں کے تیسرے چاند کو کہا جاتا ہے اور اسی طرح کا بلیومون آخری بار 19 اگست 2024 کو افق پر نظر آیا تھا۔
دوسرا منتھلی بلیو مون ہے جس کی وضاحت پہلے ہی کی جاچکی ہے، جو اس سے قبل آخری بار اگست 2023 میں دیکھنے میں آیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مئی کے دونوں چاند مائیکرو مون ہوں گے یعنی وہ معمول کے مکمل چاند کے مقابلے میں چھوٹے اور کم روشن نظر آئیں گے۔
ایسا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت چاند زمین سے سب سے زیادہ فاصلے پر موجود ہے۔
ہر سال چاند زمین سے سب سے زیادہ فاصلے پر موجود ہوتا ہے جس کے لیے اپوجی کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا دوسرا دور تعطل کا شکار ہے اور بدستور غیریقینی صورت حال برقرار ہے جس کے دوران وائٹ ہاؤس سے جاری بیان نے پیشرفت کی جانب اشارہ دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدارتی دفتر کی اسسٹنٹ پریس سیکریٹری اولیویا ویلز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری حساس سفارتی معاملات کو میڈیا پر نہیں لایا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکا کسی بھی معاہدے میں اپنی شرائط کو مقدم رکھے گا اور ایسا کوئی معاہدہ نہیں کرے گا جس سے امریکی عوام کے مفادات متاثر ہوں۔
امریکی صدارتی دفتر کی اسسٹنٹ پریس سیکریٹری کے بیان میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا ہے کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکا اور اسرائیل نے بارہا ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ یورینیم افزودگی کا عمل مکمل طور پر ترک کردے۔ ایران اس عمل کے ذریعے جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری ایران اپنے پرانے مؤقف پر قائم ہے کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مذاکرات اور سفارتی کوششوں میں جوہری مسئلہ زیر بحث نہیں آئے گا۔

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آنکھوں کے علاج کے لیے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا، جہاں انہیں 28 اپریل کو چوتھا انٹرا وٹریئل انجکشن لگایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق طریقہ کار سے قبل ماہر امراضِ چشم نے انہیں طبی طور پر مستحکم قرار دیا جبکہ آپٹیکل کوہرینس ٹوموگرافی میں بہتری کے آثار بھی ظاہر ہوئے۔
پمز کے مطابق تمام طبی احتیاطی تدابیر کے تحت مائیکروسکوپی گائیڈنس میں انجکشن لگایا گیا اور یہ عمل ڈے کیئر سرجری کے طور پر کامیابی سے مکمل ہوا۔
علاج کے دوران بانی پی ٹی آئی کی حالت مستحکم رہی اور قبل، دوران اور بعد میں ان کے وائیٹلز نارمل رہے۔

واشنگٹن سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار نے برطانوی خبر ایجنسی کو بتایا کہ ان تجاویز میں ایرانی جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق کوئی واضح اور ٹھوس مؤقف شامل نہیں جس کے باعث امریکی قیادت میں تشویش پائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچائی ہیں جن میں ابتدائی طور پر جنگ بندی اور بعد ازاں مستقل سیز فائر کی یقین دہانی شامل ہے۔ ساتھ ہی تہران نے آبنائے ہُرمز کھولنے کو امریکی پابندیوں کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق اگر یہ شرائط پوری ہو جائیں تو پھر جوہری پروگرام پر بات چیت ممکن ہو سکتی ہے تاہم اس کے لیے امریکہ کو پُرامن مقاصد کے تحت یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے واضح انداز میں کہا ہے کہ جب تک ایران ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق اپنے عزائم ترک نہیں کرتا اس وقت تک مذاکرات بے معنی ہیں۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ ایران چاہے تو براہ راست رابطہ کر سکتا ہے کیونکہ ہماری فون لائنز محفوظ ہیں۔