گرمی کے موسم میں جسم کو ٹھنڈا رکھنے اور اضافی وزن سے نجات پانے کے لیے لوگ مختلف طریقے آزماتے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق ایک سادہ گھریلو نسخہ نہایت مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، اور وہ ہے کچی کیری سے تیار کیا جانے والا شربت۔یہ مشروب نہ صرف جسمانی گرمی کم کرتا ہے بلکہ کئی طبی فوائد بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ کچی کیری کا شربت معدے کے مسائل سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ گرمیوں میں بدہضمی، قبض، متلی اور سینے کی جلن جیسے مسائل عام ہو جاتے ہیں، جن سے بچنے کے لیے کچی کیری نہایت فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔کیری کا شربت بنانے کےلیے کچی کیری کے ٹکڑوں کو پانی میں اُبالا جائے، پھر اس میں زیرہ پاؤڈر، سونف پاؤڈر، پودینے کے پتے اور ہرا دھنیا شامل کیا جائے۔ ذائقے کے لیے اگر چاہیں تو تھوڑی مقدار میں گڑ بھی شامل کیا جا سکتا ہے، تاہم وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے بغیر گڑ استعمال کرنا زیادہ بہتر ہے
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) کے مالک ایلون مسک جلد ہی ایک نئے بینکنگ اور پیمنٹس پلیٹ فارم کو لانچ کرنے جا رہے ہیں جو ان کے ایکس کو ایک ’ایوری تھنگ ایپ‘ میں بدلنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایکس منی نامی اس مالیاتی فیچر کا محدود آغاز آئندہ دنوں میں متوقع ہے، تاہم ریگولیٹری رکاوٹیں اب بھی اس کی راہ میں حائل ہیں۔ایکس پہلے ہی امریکا کی درجنوں ریاستوں میں لائسنس حاصل کر چکا ہے جبکہ کمپنی گزشتہ سال ویزا کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کر چکی ہے تاکہ ڈیجیٹل والیٹ اور پیئر ٹو پیئر پےمنٹ سروس کو سپورٹ کیا جا سکے۔اطلاعات کے مطابق یہ فنانشل سروس پلیٹ فارم ’زبردست فوائد‘ بھی پیش کرے گا، جن میں 6 فی صد منافع والا سیونگ اکاؤنٹ اور کچھ ٹرانزیکشنز پر 3 فیصد کیش بیک شامل ہیں۔ٹیک ارب پتی ایلون مسک نے 2023 میں ٹوئٹر کا نام بدل کر ایکس رکھنے کے کچھ ہی مہینوں بعد ایک ’ایوری تھنگ ایپ‘ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے یہ پلیٹ فارم 2022 مین خریدا تھا
خواتین میں ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے کیسز نے ماہرینِ صحت کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے، تاہم اصل فکر صرف اس بیماری کی تعداد نہیں بلکہ اس کے سنگین اثرات ہیں، جو مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ شدت اختیار کرلیتے ہیں۔نئی طبی رپورٹس کے مطابق اگرچہ دنیا بھر میں مردوں میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد خواتین سے زیادہ ہے، لیکن جب یہی بیماری خواتین کو لاحق ہوتی ہے تو اس کے نتائج کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔تحقیقی اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ خواتین میں ذیابیطس دل کی بیماری، گردوں کے مسائل، ڈپریشن اور ہارمونل بے ترتیبی جیسے پیچیدہ مسائل کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھا دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مردوں میں ذیابیطس ہونے کی صورت میں دل کے دورے کا خطرہ تقریباً 50 فیصد بڑھ جاتا ہے، جبکہ خواتین میں یہی خطرہ 150 فیصد تک جا پہنچتا ہے، جو ایک تشویشناک فرق ہے۔ماہرین اس فرق کی ایک بڑی وجہ خواتین کے جسم میں ہونے والی ہارمونل تبدیلیوں کو قرار دیتے ہیں۔ بلوغت، ماہواری، حمل اور مینوپاز جیسے مراحل کے دوران ہارمونز میں اتار چڑھاؤ خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے کے عمل کو متاثر کرتا ہے، جس کے باعث خواتین میٹابولک مسائل کا زیادہ شکار ہو سکتی ہیں۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج پیر کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 8 ڈالر کا اضافہ ریکارڈ ہوا، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4ہزار 716ڈالر کی سطح پر آگئی ۔
عالمی مارکیٹ کے زیر اثر مقامی صرافہ بازاروں میں بھی آج کاروباری ہفتے کے پہلے ہی دن 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 800 روپے کا اضافہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں نئی قیمت 4لاکھ 93ہزار 962روپے کی سطح پر آگئی۔
اسی طرح ملک میں فی 10 گرام سونے کی قیمت 686روپے بڑھ کر 4لاکھ 23ہزار 492روپے ہوگئی۔
دریں اثنا مقامی مارکیٹوں میں آج فی تولہ چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 8ہزار 49 روپے کی سطح پر مستحکم ہے اور اسی طرح فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی بغیر کسی تبدیلی کے 6ہزار 900روپے کی سطح پر برقرار ہے۔
پاک افغان سرحد پر فتنہ الخوارج کی دراندازی کی کوشش پاک فوج نے ناکام بنا دی۔ جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی پوسٹیں تباہ ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق انگور اڈہ میں افغان طالبان کی اشتعال انگیزی کے جواب میں پاک فوج کی بروقت کارروائی کے باعث فتنہ الخوارج کی دراندازی کی تمام کوششیں ناکام ہوگئی۔
فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں دو خواتین سمیت تین شہری زخمی، زخمیوں کو فوری طور پر وانا ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ اہل علاقہ کی افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعےکی بھرپور مذمت،پاک فوج سےجوابی کارروائی کا مطالبہ کردیا۔
جنوبی وزیرستان کے علاقے،زلول خیل انگور اڈہ میں افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ، پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی، متعدد افغان پوسٹیں تباہ ہوگئی۔ آپریشن غضب للحق کی مؤثر کارروائیوں کے بعد افغان طالبان شکست کی بوکھلاہٹ میں سول آبادی کو نشانہ بنانے لگے۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کسی دباؤ میں آکر امن مذاکرات نہیں کرے گا۔ا
ایران کے نیم سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ تہران دباؤ، دھمکیوں یا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے تحت امن مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا۔
پیزشکیان نے فون کال کے دوران ایران کے موقف کی توثیق کی اور اس بات پر زور دیا کہ ایران جبر کی شرائط پر مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔
ایرانی صدر نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سمیت امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کی بھی سفارش کی۔
واشنگٹن میں فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے ہنگامی پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کی جان لینے کی ایک اور کوشش تھی اور ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران انہیں نشانہ بنانے کی متعدد کوششیں ہوئیں جن میں پنسلوانیا، بٹلر میں جلسے کے دوران اور فلوریڈا پام بیچ میں گالف کھیلتے ہوئے پیش آنے والے واقعات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سالانہ ڈنر تقریب میں فائرنگ کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وائٹ ہاؤس میں جدید طرز کے بال روم اور غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایسی سیکیورٹی درکار ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہو۔
صدر کے مطابق واقعے کے دوران امریکی خفیہ ایجنسی کے ایک اہلکار کو قریب سے گولی ماری گئی تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی بدولت اس کی جان بچ گئی۔ ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے زخمی اہلکار سے بات کی ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حملہ آور ایک سیکیورٹی چیک پوائنٹ کی جانب متعدد ہتھیاروں کے ساتھ بڑھا، جسے سیکرٹ سروس کے بہادر اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قابو کر لیا۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ملزم کی تصویر اور واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر جاری کر دی ہے تاکہ شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔
خطاب کے دوران ان کے ہمراہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے وزیر اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر بھی موجود تھے۔
صدر نے کہا کہ یہ تقریب آزادی اظہار کے فروغ اور اتحاد کے لیے منعقد کی گئی تھی، مگر اس واقعے نے سیکیورٹی خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر میں پیش آنے والے واقعے میں گرفتار مسلح مشتبہ شخص کی شناخت کول ٹوماس ایلن کے نام سے ہوئی ہے جو کیلیفورنیا کا رہائشی 31 سالہ شہری ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ملزم کو تقریب کے دوران حراست میں لیا گیا جس کے بعد سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کرلیا۔
واقعے سے متعلق مشتبہ شخص کی تصویر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی شیئر کی گئی۔
تاحال حکام کی جانب سے واقعے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں تاہم تحقیقات جاری ہیں۔
صدر ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور وہ زندہ ہے۔
شدید گرمی اور لو کے موسم میں جہاں اے سی کا بڑھتا ہوا استعمال بجلی کے بلوں کو آسمان تک پہنچا دیتا ہے، وہیں قدرتی اور روایتی طریقہ ’’خس کے پردے‘‘ ایک بار پھر توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ یہ نہ صرف کم خرچ حل ہے بلکہ گھروں کے ماحول کو قدرتی طور پر ٹھنڈا اور خوشگوار بنانے میں بھی مدد دیتا ہے۔خس ایک خوشبودار گھاس کی جڑوں سے تیار کیے جانے والے یہ پردے اب صرف دیہی یا روایتی گھروں تک محدود نہیں رہے بلکہ جدید طرزِ رہائش میں بھی تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ ان جڑوں کی خاصیت یہ ہے کہ یہ پانی کو جذب کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہیں، جس کے باعث یہ قدرتی ایئر کولنگ سسٹم کے طور پر کام کرتی ہیں۔جب ان پردوں کو گیلا کیا جاتا ہے تو یہ گرم ہوا کو جذب کر کے اسے بخارات میں تبدیل کر دیتے ہیں، جس سے کمرے کا درجہ حرارت نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق خس کے گیلے پردے کمرے کا درجہ حرارت تقریباً 5 سے 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے شدید گرمی میں بھی سکون میسر آتا ہے۔توانائی کے ماہرین کے مطابق ان پردوں کے استعمال سے اے سی پر انحصار کم ہو جاتا ہے اور بجلی کے بلوں میں 30 سے 40 فیصد تک کمی ممکن ہے، جو انہیں معاشی طور پر بھی ایک بہترین انتخاب بناتا ہے۔خس کے پردوں کی ایک اور نمایاں خوبی ان کی قدرتی خوشبو ہے۔ پانی کے رابطے میں آنے کے بعد ان کی جڑوں سے ہلکی، مٹی جیسی خوشبو خارج ہوتی ہے جو ذہنی سکون کا باعث بنتی ہے۔ اسی وجہ سے انہیں قدرتی ’’اروما تھراپی‘‘ کا حصہ بھی سمجھا جاتا ہے، جو ذہنی دباؤ اور بے چینی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے
یورپ کے ترقی یافتہ ملک جرمنی میں ایک منفرد اور قابلِ توجہ واقعہ سامنے آیا جہاں اضافی پیداوار کے باعث ہزاروں ٹن آلو ضائع ہونے کے خطرے سے دوچار ہوگئے، مگر بروقت حکمتِ عملی نے اس مسئلے کو ایک مثبت مثال میں بدل دیا۔خوراک کے ضیاع کو روکنے کے لیے بڑی مقدار میں آلو عوام میں مفت تقسیم کر دیے گئے، جسے نہ صرف سراہا گیا بلکہ ایک کامیاب تجربہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق ایک تاجر نے زرعی کمپنی سے تقریباً چار ہزار ٹن آلو خریدنے کا آرڈر دیا تھا، جو وزن کے لحاظ سے لگ بھگ 800 ہاتھیوں کے برابر بنتے ہیں۔ تاہم اسی دوران ملک میں آلو کی غیر معمولی پیداوار ہوئی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں سپلائی بہت بڑھ گئی اور قیمتیں نمایاں حد تک گر گئیں۔اس صورتحال میں تاجر نے اپنا آرڈر لینے سے انکار کر دیا، جس کے باعث اتنی بڑی مقدار میں آلو ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔عام طور پر اس طرح کی اضافی خوراک کو تلف کر دیا جاتا ہے، جو بعد ازاں سڑ کر میتھین گیس خارج کرتی ہے اور ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ جرمنی کے قوانین کے مطابق ایک بار کچرے میں ڈال دی گئی خوراک کو دوبارہ استعمال کرنا غیر قانونی ہے، چاہے وہ قابلِ استعمال ہی کیوں نہ ہو۔ایسی صورتحال میں ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم اور ایک اخبار نے مشترکہ طور پر اس مسئلے کا عملی حل تلاش کیا۔ برلن کے مختلف علاقوں میں ’پوٹیٹو پک اپ اسٹیشنز‘ قائم کیے گئے، جہاں شہریوں کو مفت آلو حاصل کرنے کی دعوت دی گئی۔ جیسے ہی یہ آلو وہاں پہنچائے گئے، لوگوں کی بڑی تعداد اسٹیشنز کا رخ کرنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے تمام آلو تقسیم ہو گئے۔










