ایبولا وائرس کا پھیلاؤ، مردے کو الوداع کہنے پر پابندی عائد
جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صوبہ اِتوری کی حکومت نے روایتی تدفین اور مردوں کے آخری دیدار پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ ۔ یہ سخت فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب مقامی لوگوں اور پولیس کے درمیان ایک لاش کو حاصل کرنے کے معاملے پر شدید جھڑپیں ہوئیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق صوبہ اتوری کے قصبے ’روامپارا‘ میں ایک مقامی فٹ بالر ’ایلی منونگو وانگو‘ کی موت کے بعد، اس کے اہلخانہ نے یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ یہ موت ایبولا کی وجہ سے ہوئی ہے اور انہوں نے انتظامیہ کی طرف سے مروجہ حفاظتی تدفین کو مسترد کرتے ہوئے لاش زبردستی حاصل کرنے کی کوشش کی، جس پر پولیس اور عوام میں تصادم ہو گیا۔
طبی ماہرین کے مطابق، ایبولا کے مریض کی موت کے بعد اس کی لاش میں وائرس انتہائی متحرک اور متعدی ہوتا ہے، جس کی وجہ سے جو شخص بھی لاش کو اٹھانے، غسل دینے یا منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اسے وائرس لگنے کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔




Leave a Reply
Want to join the discussion?Feel free to contribute!