امریکہ کی ریاست نیو جرسی میں ایک شخص کی قسمت اس وقت حیرت انگیز طور پر بدل گئی جب اسے اپنی ایک پرانی پینٹ کی جیب سے 5.9 ملین ڈالر(ایک ارب 640 کروڑ پاکستانی روپے) سے زائد مالیت کا لاٹری ٹکٹ ملا۔
یہ ٹکٹ اس وقت ملا جب اس کی میعاد ختم ہونے میں صرف آٹھ دن باقی رہ گئے تھے۔ اگر یہ چند دن مزید نہ ملتا تو یہ خطیر رقم ہمیشہ کے لیے ضائع ہو جاتی۔
پیپلز میگزین کے مطابق اس خوش قسمت شخص نے یہ لاٹری ٹکٹ مئی 2025 میں ایک پٹرول پمپ سے خریدا تھا جہاں وہ اکثر جاتا رہتا تھا۔ ٹکٹ خریدنے کے بعد وہ اسے کہیں رکھ کر بھول گیا اور تقریباً ایک سال کا عرصہ گزر گیا۔
گزشتہ ماہ لاٹری کے محکمے نے اعلان کیا کہ ایک سال پہلے بیچا گیا جیک پاٹ ٹکٹ ابھی تک کسی نے وصول نہیں کیا اوراس کی آخری تاریخ قریب آ رہی ہے۔ لاٹری قوانین کے تحت جیتنے والے کے پاس انعام وصول کرنے کے لیے ایک سال کا وقت ہوتا ہے۔
یہ اعلان سن کر اس شخص کا دھیان اس طرف گیا کیونکہ وہ لاٹری ٹکٹ اسی پٹرول پمپ سے بیچا گیا تھا جہاں وہ روز جاتا تھا۔
اس نے تجسس میں آ کر پٹرول پمپ کا رخ کیا اور وہاں کے ملازمین سے بات چیت کی۔ ملازمین نے اسے بتایا کہ یہ خاص لاٹری گیم صرف چند پرانے اور مستقل گاہک ہی کھیلتے ہیں۔
لاٹری حکام کے بیان کے مطابق اگرچہ انہیں یقین نہیں تھا کہ اصل فاتح کون ہے، لیکن انہوں نے مشورہ دیا کہ وہ اپنی تمام چیزیں دوبارہ اچھی طرح چیک کرے۔
اس مشورے کے بعد اس شخص نے اپنے گھر کے ہر کونے کی تلاشی لی۔اس نے گھر کی درازیں، الماریاں اور دکانیں چھان ماریں اور آخر میں جب اپنے وارڈرب میں لٹکے پرانے کپڑوں کی جیبیں دیکھنا شروع کیں تو اسے ایک پرانی پینٹ کی جیب سے مڑا تڑا ٹکٹ مل گیا۔
جب اس نے لاٹری کے نمبروں کو اخبار سے ملایا تو اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی کیونکہ وہ واقعی ارب پتی بن چکا تھا, وہ فوراً لاٹری کے دفتر پہنچا اور آخری تاریخ سے محض آٹھ دن پہلے اپنا انعام وصول کرلیا۔
اس واقعے کے بعد لاٹری حکام نے عوام کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو اپنے پرانے ٹکٹ باقاعدگی سے چیک کرتے رہنا چاہیے کیونکہ اکثر لوگ انعام جیتنے کے بعد بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے ٹکٹ کہاں رکھا تھا اور یوں وہ اپنے کروڑوں روپے کے انعامات سے محروم رہ جاتے ہیں۔

ایران پالیسی پر ٹرمپ انتظامیہ کےخلاف امریکی سینیٹ نے ایران کے گرد قائم ناکہ بندی ختم کرنے اور امریکی فوجی دستوں کو واپس بلانے کے حق میں قرارداد منظور کرلی۔
یہ پہلی بار ہے کہ ایران تنازع شروع ہونے کے بعد امریکی سینیٹ نے ایسے اقدام کی منظوری دی ہے جو مستقبل میں ایران پر مزید امریکی حملوں کو کانگریس کی منظوری سے مشروط کرسکتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف کامیاب ہونے والی اس قرارداد کے حق میں 50 ووٹ آئے جبکہ مخالفت میں 47 ووٹ پڑے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق چار ریپبلکن سینیٹرز نے اپنی جماعت سے الگ ہو کر ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔ ان سینیٹرز میں سوسان کولنز، لیسا مرکووسکی، رینڈ پاؤل، اور بل کیسیڈی شامل ہیں۔قرارداد کے تحت ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے باضابطہ منظوری درکار ہوگی۔
اب اس معاملے پر سینیٹ میں باقاعدہ بحث اور حتمی ووٹنگ ہوگی جس میں ریپبلکن قیادت قرارداد کو روکنے کی کوشش کرسکتی ہے۔
ڈیموکریٹ سینیٹر جون فیٹرمین اپنی جماعت کے واحد رکن تھے جنہوں نے قرارداد کی مخالفت کی جبکہ ریپبلکن سینیٹر بل کیسیڈی کی حمایت نے سیاسی حلقوں کو حیران کردیا کیونکہ چند روز قبل ہی وہ اپنی جماعت کے پرائمری انتخاب میں شکست کھوچکے ہیں جہاں صدر ٹرمپ نے ان کے مخالف امیدوار کی حمایت کی تھی۔

آٹھ بچوں کا باپ جو دوسروں کی خاطر ہنس کر گولی کھا گیا: سان ڈیاگو مسجد کے ہیرو گارڈ کی داستانِ شجاعت
ایک ایسے شخص کی کہانی جس نے دوسروں کے بچوں کو گلے لگانے کا موقع دینے کے لیے اپنی جان قربان کر دی
امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان ڈیاگو کی مسجد میں حملہ آوروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے سیکیورٹی گارڈ کے قریبی دوست نے ان کی زندگی اور بہادری کے آخری لمحات کا احوال بتایا، جسے سن کر سب کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
چار سال سے گارڈ کے گہرے دوست سیم حمیدہ نے روتے ہوئے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو بتایا کہ امین عبداللہ کوئی عام سیکیورٹی گارڈ نہیں تھے بلکہ آٹھ بچوں کے شفیق باپ اور اپنے پورے معاشرے کا درد رکھنے والے ایک بہترین انسان تھے۔ انہوں نے مسجد کے اندر موجود معصوم بچوں اور نمازیوں کو بچانے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔
سیم حمیدہ کا کہنا تھا کہ جب بھی آپ امین عبداللہ کے پاس سے گزرتے، وہ ہمیشہ آپ کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتے تھے، ان کے اندر ہمیشہ ایک مثبت توانائی ہوتی تھی کہ سب اچھا ہوگا، وہ اللہ پر پختہ یقین رکھنے والے اور انتہائی مہربان انسان تھے۔
مسجد کی عمارت کے اندر ہی چھوٹے بچوں کا ایک اسکول بھی واقع ہے جہاں نرسری سے لے کر تیسری جماعت تک کے بچے پڑھتے ہیں، اور واقعے کے وقت سیم حمیدہ کا اپنا منجھلا بچہ بھی اسی اسکول کی کلاس میں موجود تھا۔
سیم حمیدہ نے بتایا کہ روزانہ کا یہ معمول تھا کہ جب بھی میں یا میری بیوی بچے کو اسکول چھوڑنے آتے، وہ امین عبداللہ بھاگ کر ہماری گاڑی کے پاس آتے تھے۔ واقعے والی صبح بھی انہوں نے میری بیوی سے کہا تھا کہ امین کو میرا سلام کہنا۔
سیم حمیدہ نے انتہائی غمگین لہجے میں کہا کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ اس کا الوداعی سلام تھا، اس بات نے میرے دل کو چیر کر رکھ دیا ہے۔ جب فائرنگ کی خبر ملی تو اپنے بچے کی ٹیچر کو فون کرنے کے بعد، سیم حمیدہ نے دوسری کال اسی سیکیورٹی گارڈ کو کی تھی کیونکہ انہیں امید تھی کہ وہ سب ٹھیک کر دے گا۔
سیم حمیدہ نے اپنے دوست کی بہادری کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ جانتا تھا وہ بچوں کی خاطر اپنی جان قربان کر رہا ہے، کیونکہ اگر وہ آگے بڑھ کر اپنے سینے پر گولی نہ کھاتا تو حملہ آور بڑی آسانی سے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر بچوں تک پہنچ جاتے۔
انہوں نے نم آنکھوں کے ساتھ کہا کہ بس یہ سوچ کر ہی دل خون کے آنسو روتا ہے کہ دنیا میں ایسا انسان بھی موجود تھا جو دوسروں کے بچوں کی حفاظت کے لیے اپنی جان دینے کو تیار ہو گیا تاکہ دوسرے والدین اپنے بچوں کو گلے لگا سکیں، لیکن اب وہ خود کبھی گھر واپس نہیں جائے گا بلکہ اس کے اپنے آٹھ معصوم بچے اسے مٹی تلے دفنائیں گے، یہ دکھ ناقابلِ برداشت ہے۔

اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت سے متعلق متنازع اور امتیازی قانون نافذ کر دیا ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلسطینی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایوی بلوتھ نے اس قانون کے نفاذ کے لیے ضروری فوجی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ قانون باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔ قانون کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے وہ فلسطینی جنہیں اسرائیلی شہریوں کے قتل کے الزام میں سزا سنائی جائے گی، انہیں لازمی طور پر سزائے موت دی جا سکے گی اور عدالت کے پاس متبادل سزا دینے کے اختیارات محدود ہوں گے۔ صرف غیر معمولی حالات میں ہی عدالت عمر قید کی سزا سنا سکے گی۔
رپورٹس کے مطابق اس قانون کی منظوری رواں سال مارچ کے آخر میں اسرائیلی پارلیمنٹ نے دی تھی، جس کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے فوجی قیادت سے اس کے نفاذ کے لیے باضابطہ حکم نامہ جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔
اس قانون کی سب سے زیادہ متنازع شق یہ ہے کہ یہ صرف فلسطینیوں پر لاگو ہوگا جبکہ اسرائیلی شہری یا اسرائیل میں رہائش پذیر افراد اس کے دائرہ کار میں نہیں آئیں گے۔ فلسطینیوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں جبکہ اسرائیلی شہریوں کے مقدمات سویلین عدالتوں میں سنے جاتے ہیں۔
فلسطینی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو نسلی امتیاز اور دوہرا قانونی نظام قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون مقبوضہ علاقوں میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

ایرانی حکومت کے تبلیغی پروگراموں کے تسلسل اور سڑکوں پر موجود حکومتی حامیوں کے جم غفیر کے ساتھ ساتھ اب تہران سے 110 جوڑوں کی شادی کی تقریب امام حسین سکوائر میں منعقد کیے جانے کی خبر موصول ہوئی ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق دو روز قبل ایران کے سرکاری میڈیا نے کہا تھا کہ اجتماعی شادیوں کی تقریبات کی اس مہم کے لیے لاکھوں افراد نے رجسٹریشن کرائی ہے۔
’جنفدہ مہم‘ کے زیر اہتمام یہ اجتماعی شادیاں ایک ایسے حالات میں شروع کی گئی ہیں جب تھی جب ہ ایران کو سیاسی اور اقتصادی بحرانوں، بڑے پیمانے پر ملک گیرمظاہروں اور حالیہ برسوں میں دو حالیہ جنگوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکومت نے اپنے حامی رضاکاروں کے لیے ہتھیاروں کے تربیتی کورسز کا آغاز کیا ہے۔
دوسری جانب جنگ اور مستقبل کے بارے میں فکرمند کچھ شہریوں نے ان حکومتی اقدامات کو پروپیگنڈا اور پریشان کن قرار دیا۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان ڈیاگو کی سب سے بڑی مسجد میں فائرنگ کا ہولناک واقعہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں سیکیورٹی گارڈ سمیت تین نمازی جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ کارروائی کے بعد دونوں مبینہ حملہ آوروں نے بھی خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی ہے۔
سان ڈیاگو کے پولیس چیف اسکاٹ واہل نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پولیس واقعے کی نفرت پر مبنی جرم کے طور پر فعال تفتیش کر رہی ہے اور جب تک حقیقت سامنے نہیں آتی، اسے اسی زاویے سے دیکھا جائے گا۔
پولیس کے مطابق جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو مسجد کے باہر تین بالغ افراد مردہ حالت میں پائے گئے۔
جاں بحق ہونے والوں میں ایک سیکیورٹی گارڈ بھی شامل ہے۔
پولیس چیف اسکاٹ واہل نے گارڈ کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی گارڈ نے وہاں موجود لوگوں کی جانیں بچانے اور اس حملے کے نقصان کو مزید بڑھنے سے روکنے میں ایک انتہائی اہم کردار ادا کیا، ”وہ ایک ہیرو تھا“۔
حملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لگ بھگ 50 سے 100 اہلکار چار منٹ کے اندر مسجد کے اندر پہنچ گئے اور سرچ آپریشن شروع کیا۔
اس دوران اہلکاروں کو عمارت کے مختلف کمروں میں داخل ہونے کے لیے دروازے بھی توڑنے پڑے۔
مسجد میں فائرنگ کے ساتھ ہی پولیس کو چند گلیوں کے فاصلے پر ایک اور فائرنگ کی کال موصول ہوئی جہاں ایک مالی پر گولی چلائی گئی تھی، تاہم خوش قسمتی سے وہ محفوظ رہا۔
اس کے کچھ ہی دیر بعد پولیس کو مسجد کے قریب ہیرٹن اسٹریٹ پر ایک گاڑی میں دو نوجوانوں کی لاشیں ملیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ اس حملے کے ذمہ دار تھے۔
پولیس چیف کا کہنا تھا کہ گاڑی میں مردہ پائے جانے والے حملہ آوروں کی عمریں 17 اور 18 سال تھیں اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دونوں ملزمان نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔
پولیس چیف نے مزید واضح کیا کہ تفتیش کے ابتدائی مرحلے کے مطابق پولیس کے کسی اہلکار نے گولی نہیں چلائی۔
امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف بی آئی‘ کے سان ڈیاگو فیلڈ آفس کے اہلکار مارک ریمیلی نے تحقیقات کے حوالے سے بتایا کہ مقامی پولیس اور ایف بی آئی کے خصوصی ایجنٹس، شواہد اکٹھا کرنے والے ماہرین اور متاثرین کی مدد کرنے والا عملہ مل کر کام کر رہا ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق ایک حملہ آور نے یہ ہتھیار اپنے والدین کے گھر سے چوری کیے تھے، جن میں سے ایک ہتھیار پر نفرت انگیز جملے لکھے ہوئے تھے جبکہ گاڑی سے ایک خودکشی کا نوٹ بھی ملا ہے جس میں نسلی برتری اور فخر کے حوالے سے باتیں لکھی گئی تھیں۔
مسجد کی سیکیورٹی کیمروں کی ویڈیوز کو بھی شواہد کے طور پر جانچا جا رہا ہے۔
اس افسوسناک واقعے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوزم کو تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے سان ڈیاگو فائرنگ کے بارے میں ابتدائی معلومات ملی ہیں، یہ ایک انتہائی خوفناک صورتحال ہے اور میری انتظامیہ اس معاملے کی کڑی نگرانی کرتی رہے گی۔
دوسری جانب سان ڈیاگو اسلامک سینٹر کے ڈائریکٹر اور امام طحہٰ حسان نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی عبادت گاہ کو اس طرح نشانہ بنانا انتہائی شرمناک اور ناقابلِ برداشت اقدام ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے شدید صدمے اور غم کا وقت ہے، ہم نے اپنی زندگی میں یہاں کبھی ایسی تباہی نہیں دیکھی، اس مشکل گھڑی میں میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہماری دعائیں اور یکجہتی متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔

چین کے جنوب مغربی علاقے گوانگشی میں پیر کی علی الصبح آنے والے 5.2 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک جبکہ ایک لاپتا ہوگیا، جب کہ شہر لیوژو میں 7 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق زلزلے کے بعد سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے، جبکہ حکام نے ٹرانسپورٹ کے نظام میں ممکنہ رکاوٹوں سے بھی خبردار کیا ہے۔
چینی سرکاری ٹی وی سی سی ٹی وی اور خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق زلزلے میں 4 افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، تاہم ان میں سے کسی کی حالت تشویشناک نہیں۔
رپورٹس کے مطابق پیر کی صبح زلزلے کے باعث 13 عمارتیں منہدم ہوگئیں، جس کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کردی گئیں۔
ریلوے حکام نے بھی ریلوے لائنوں کے بنیادی ڈھانچے کا معائنہ شروع کردیا ہے، جبکہ ٹرانسپورٹ میں ممکنہ تعطل کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔
چینی ریاستی میڈیا کے مطابق متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی اور بجلی کی لائنیں، پانی اور گیس کی فراہمی، اور ٹریفک کا نظام معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔

بھارت کے شہر مراد آباد میں ایک حیران کن طبی واقعہ سامنے آیا ہے جہاں آمنہ نامی خاتون نے پانچ دن کے وقفے میں چار بچوں کو جنم دیا، جن میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
خاتون کا حمل ابتدا ہی سے ہائی رسک قرار دیا گیا تھا، تاہم حیرت انگیز طور پر تمام بچوں کی پیدائش نارمل ڈلیوری کے ذریعے ہوئی۔ اسپتال کے مطابق پہلے بچے کی ولادت 9 مئی کو ہوئی جبکہ باقی تین بچوں کی پیدائش 14 مئی کو عمل میں آئی۔
ڈاکٹروں کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا غیر معمولی واقعہ ہے کیونکہ عام طور پر جڑواں یا چار بچوں کی پیدائش ایک ہی وقت میں ہوتی ہے، لیکن اس کیس میں پانچ دن کا وقفہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماں اور تمام نومولود بچے طبی نگرانی میں ہیں اور ان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے، تاہم احتیاطاً انہیں وینٹی لیٹر سپورٹ پر رکھا گیا ہے۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ چار بچوں کی پیدائش مکمل طور پر نارمل ڈلیوری کے ذریعے مختلف دنوں میں ہوئی ہو۔
یہ خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جہاں صارفین نے اسے حیرت انگیز اور “قدرت کا معجزہ” قرار دیتے ہوئے مختلف تبصرے کیے۔

یہ سارا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب انٹرنیٹ پر لوگ مذاق میں ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ وہ اپنی زندگی کے مختلف حصوں میں سوشل میڈیا کا استعمال کس طرح کرتے ہیں اور اپنی روزمرہ کی تصاویر یا کہانیاں شیئر کرتے ہیں۔
ایلون مسک بھی اس گفتگو میں شامل ہو گئے اور انہوں نے ایک چھوٹا سا تبصرہ کیا کہ انسٹاگرام لڑکیوں کے لیے ہے۔
جب لوگوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا تو انہوں نے اپنی بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ایک اور پوسٹ کر دی۔
اس دوسری پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ بعض اوقات بڑے مرد مجھے اپنے انسٹاگرام پروفائلز بھیجتے ہیں تو میں سوچتا ہوں کہ کیا آپ لڑکے سے لڑکی بن رہے ہیں؟
ایلون مسک کے اس بیان پر بہت سے لوگ ناراض بھی ہو رہے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ انسٹاگرام پر شیئر ہونے والی چیزیں غیر سنجیدہ ہوتی ہیں اور مردوں کو یہ زیب نہیں دیتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایلون مسک اکثر ایسی باتیں صرف اس لیے کرتے ہیں تاکہ لوگ انٹرنیٹ پر ان کے بارے میں بحث کریں۔
اس سب کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی کمپنی ایکس کو دوسری کمپنیوں سے بہتر دکھانا چاہتے ہیں۔ اس طنز و مزاح کے پیچھے ان کا اصل مقصد اپنے پلیٹ فارم ایکس کی تشہیر کرنا اور حریف کمپنیوں کو نیچا دکھانا معلوم ہوتا ہے۔
انسٹاگرام اور فیس بک کے مالک مارک زکربرگ کے ساتھ ان کی پرانی دشمنی ہے۔ اسی لیے ایلون مسک نے ایک اور پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ صرف ایکس ہی ایک سچا اور کھلاپلیٹ فارم ہے، جبکہ باقی سوشل میڈیا کمپنیاں بند دروازوں کے پیچھے دھوکہ دہی کرتی ہیں۔
انہوں نے صارفین کو ایکس پر شفٹ ہونے کا مشورہ بھی دیا تاکہ ”آڈیو اور ویڈیو کالز زیادہ محفوظ“ ہوں۔
اس سے پہلے وہ واٹس ایپ کے بارے میں بھی کہہ چکے ہیں کہ واٹس ایپ پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اور لوگوں کو کال کرنے کے لیے ایکس کا استعمال کرنا چاہیے۔
ان کے اس نئے بیان نے انٹرنیٹ پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کچھ لوگ مسک کے بیانات کو صرف مذاق یا بحث کے لیے سمجھتے ہیں، جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ یہ ان کے جنس اور سوشل میڈیا کلچر کے بارے میں متنازع نظریات کو ظاہر کرتے ہیں۔

فرانسیسی پولیس ذرائع کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا جب ایفل ٹاور کی پہلی منزل سے ایک بڑا فلسطینی پرچم لہرایا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بغیر اجازت کیا گیا تھا۔
ماحولیاتی کارکنوں کی تنظیم ای آر ایف نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا تھا۔
تنظیم کے نمائندے کے مطابق احتجاج کے ذریعے غزہ میں جاری صورتحال اور فلسطینی علاقوں میں مبینہ ماحولیاتی تباہی کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق یہ احتجاج نکبہ ڈے کے موقع پر کیا گیا جو 1948 میں فلسطینیوں کی بے دخلی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جن میں ایفل ٹاور سے لٹکتا فلسطینی پرچم دیکھا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس بھی ایفل ٹاور پر اسرائیل اور فلسطین دونوں کے جھنڈوں کے ساتھ امن کی علامت کبوتر اور زیتون کی شاخ کی تصاویر پروجیکٹ کی گئی تھیں۔