آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ آسٹریلیا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے مقصد کی حمایت کرتا ہے، لیکن اب یہ واضح نہیں کہ مزید کیا اقدامات درکار ہیں یا اس عمل کا حتمی نتیجہ کیا ہونا چاہیے۔
ان کے یہ بیانات نیشنل پریس کلب میں خطاب کے دوران آئے، یہ وہی وقت تھا کے جب امریکی صدر ٹرمپ قوم سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیراعظم سے ٹرمپ کی جانب سے تنازع کے خاتمے کے لیے دیے گئے وقت کے تعین کے بارے میں بھی سوال کیا گیا، جس پر انھوں نے کہا کہ ’آسٹریلیا سے اس کے آغاز سے پہلے کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں نے بہت واضح طور پر کہا ہے کہ ہم تناؤ میں کمی دیکھنا چاہتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ اس بات پر زیادہ وضاحت ہو کہ یہ معاملہ کیسے ختم ہوگا۔‘
ہ بیانات البانیز کے تقریباً 24 گھنٹے قبل کی گئی مختصر تقریر کے بعد سامنے آئے ہیں کہ جس میں انھوں نے آسٹریلوی عوام کو خبردار کیا تھا کہ ’آنے والے مہینے آسان نہیں ہوں گے۔‘
انھوں نے کہا تھا کہ ’آسٹریلیا اس جنگ کا فعال فریق نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود تمام آسٹریلوی اس کے باعث زیادہ قیمتیں ادا کر رہے ہیں۔‘

یونان کے شہر کریٹ کے بعد ریت کا سُرخ طوفان اب مشرقی بحیرۂ روم اور شمالی افریقہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کریٹ پہلے ہی اس سُرخ طوفان کی زد میں آ چکا ہے اوراب یہ طوفان بڑھتے ہوئے مصرف اور لیبیا کی طرف بڑھ رہا ہے۔اس طوفان کو عام طور پر صحارن ڈسٹ اسٹارم کہا جاتا ہے۔ یہ صحارا کے ریگستان سے اٹھنے والی سرخ مٹی ہوتی ہے جو تیز ہواؤں کے ساتھ ہزاروں کلومیٹر تک سفر کرتی ہے۔اس کے ممکنہ اثرات میں فضائی آلودگی میں شدید اضافہ، سانس کے مسائل خاص طور پر دمہ کے مریضوں کیلئے اور نظر کی کمی شامل ہے۔اس طوفان کی غیرمعمولی بات یہ ہوتی ہے کہ اس میں آسمان کا رنگ سرخی مائل نارنجی ہو جاتا ہے۔واضح رہے کہ ایسے طوفان وقتاً فوقتاً آتے رہتے ہیں لیکن بعض اوقات ان کی شدت زیادہ ہو جاتی ہے جس سے وہ یورپ تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔

ایران کی جانب سے اسرائیل کے مختلف شہروں پر میزائل حملوں کی تازہ لہر کے نتیجے میں تل ابیب سمیت متعدد شہروں میں دھماکوں اور نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایک میزائل نے بنی براک کو نشانہ بنایا، جبکہ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ شمالی علاقے گالیلی میں بھی دو راکٹ گرے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تل ابیب، رامت گان اور بنی براک میں میزائلوں کے ملبے گرنے سے متعدد مقامات پر نقصان ہوا، جبکہ صرف تل ابیب میں 11 مختلف جگہوں پر میزائلوں کے ٹکڑے گرے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق بنی براک کے مشرقی علاقے میں کم از کم 3 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
حملوں کے بعد متعلقہ علاقوں میں ایمرجنسی سروسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا۔
وزیرپیٹرولیم اور وزیر خزانہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کر کے عالمی بحران اور حکومتی اقدامات کے حوالے سے آگاہ کیا۔
وزیرپیٹرولیم نے بتایا کہ آج وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سارے وزرائے اعلیٰ، فوجی قیادت اور دیگر قائدین شریک تھے جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ عالمی منڈیوں کی صورت حال کے پیش نظر سبسڈی صرف مخصوص طبقے کو دی جائے گی۔
پیٹرول 458 اور ڈیزل 520 روپے فی لیٹر کرنےکا اعلان، موٹرسائیکل والوں کو ہر ماہ 2 ہزار کی سبسڈی ملے گی
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 137 روپے 23 پیسے، ڈیزل فی لیٹر 184 روپے 49 پیسے مہنگا

انڈونیشیا کے قریب مولوکا سمندر میں 7.8 شدت کا طاقتور زلزلہ آنے کے بعد سونامی کا الرٹ جاری کر دیا گیا، جس سے پورے خطے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
امریکی جیولاجیکل محکمے کے مطابق زلزلہ شمالی مولوکا سمندر میں ٹرنیٹ کے قریب آیا، جس کی گہرائی تقریباً 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔
امریکی سونامی وارننگ سسٹم نے خبردار کیا ہے کہ زلزلے کے مرکز سے 1000 کلومیٹر کے دائرے میں واقع ساحلی علاقوں جن میں فلپائن اور ملیشیا بھی شامل ہیں، میں خطرناک سونامی لہریں پیدا ہو سکتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق زلزلے کا مرکز ٹرنیٹ شہر سے تقریباً 120 کلومیٹر دور واقع تھا، جہاں دو لاکھ سے زائد افراد آباد ہیں۔ حکام نے ممکنہ خطرے کے پیش نظر ساحلی آبادی کو الرٹ رہنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ عوام پر منتقل کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں درآمدی لاگت کے مقابلے میں 100 روپے اور ڈیزل میں 200 روپے فی لیٹر سے زائد کا فرق موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے تاہم آئندہ چند روز میں نئی قیمتوں کا اعلان کردیا جائے گا۔

میٹرک امتحانات میں شفافیت کے دعوے دھرے رہ گئے ، پشاور میں اردومضمون کا پرچہ امتحان شروع ہونے سے قبل ہی آوٹ ہوگیا اردو مضمون کے ایم سی کیوز امتحان شروع ہونے سے پہلے منظرعام پر آگئے، گزشتہ روز اسلامیات کا پرچہ بھی آو ٹ ہوگیا تھا، تعلیمی بورڈ امتحانی نظم برقرار رکھنے میں ناکام ںطر آرہا ہے پرچوں کے مسلسل آوٹ ہونے کی وجہ سے ذہین طلبہ اور والدین مایوسی کا شکار ہوگئے ہیں۔

خیبر پختون خوا میں ہونے والی بارشوں کے باعث گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے اب تک 25 افراد جاں بحق جبکہ 77 افراد زخمی ہوگئے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے 25 مارچ سے اب تک ہونے والی بارشوں کے باعث صوبہ کے مختلف اضلاع میں جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق افراد میں 18 بچے، 2 مرد اور 5 خواتین جبکہ زخمیوں میں 33 مرد، 9 خواتین اور 35 بچے شامل ہیں۔ بارشوں کے باعث اب تک کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 88 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 71 گھروں کو جزوی جبکہ 17 گھر مکمل طور پر منہدم ہوئے۔
یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع بنوں، ایبٹ آباد، کوہاٹ ، پشاور، نوشہرہ، باجوڑ، لکی مروت ،کرم، ہنھگو، شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ، دیر اپر ،باجوڑ، بٹگرام اور شمالی وزیرستان اور ٹانک میں پیش آئے۔
پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پی ڈی ایم اے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد امدادی سامان فراہم کرنے کی ہدایت کر دی جبکہ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بنوں کی انتظامیہ کو جاں بحق افراد کے لواحقین کو امداد جلد از جلد فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
ہی ڈی ایم اے کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ صوبہ کے مختلف اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جبکہ یہ بارشوں کا نیا سلسلہ یکم اپریل سے 4 اپریل تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
عوام سےاپیل کی جاتی ہے کے بلا وجہ سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

آسٹریلوی لیگ اسپنر ایڈم زمپا نے انڈین پریمیئر لیگ کے بجائے پاکستان سپر لیگ میں کھیلنے کی وجہ بتاتے ہوئے اہم انکشافات کیے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق زمپا نے واضح کیا کہ انہوں نےانڈین پریمئر لیگ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ خود کیا اور پاکستان شپر لیگ میں شامل ہوکر کراچی کنگز کی نمائندگی کرنے لگے۔بھارتی میڈیا کے مطابق زمپا کا کہنا تھا کہ ان کی مہارت کے لحاظ سے آئی پی ایل میں انہیں مناسب معاوضہ نہیں مل رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ جیسے اسپنر کو وہ مالی معاوضہ نہیں دیا جاتا جو دیگر مہارت رکھنے والے کھلاڑیوں کو ملتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آئی پی ایل کا دورانیہ بھی کافی طویل ہوتا ہے جس کے مقابلے میں اسے کھیلنا ان کے لیے مناسب فیصلہ نہیں تھا۔پی ایس ایل 11: اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے درمیان میچ بارش کے باعث منسوخ انہوں نے کہا کہ اول تو میرا کرکٹ سے کچھ ٹائم کے لیے وقفہ لینے کا ارادہ تھا، تاہم پی ایس ایل میں کھیلنے کا موقع ملا اور اسے قبول کرلیا۔واضح رہے کہ زمپا اس وقت پی ایس ایل میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور اپنی ٹیم کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام بنانے کے لیے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 8 دہشت گرد ہلاک کردیے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یکم اپریل 2026ء کو شمالی وزیرستان کے علاقے میں پاک افغان سرحد کے ساتھ بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت دیکھی گئی۔
سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے خارجیوں کے اس گروہ کو نشانہ بنایا۔ درست اور مہارت سے کی گئی اس کارروائی کے نتیجے میں بھارتی حمایت یافتہ فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 8 خارجی دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
کارروائی کے دوران ہلاک دہشتگردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
اس جھڑپ سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ افغان طالبان حکومت اپنی سرحدی ذمہ داریوں کو مؤثر طریقے سے نبھانے میں ناکام رہی ہے۔ افغان طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں مزید خارجی دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے جبکہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظور کردہ مہم عزم استحکام کے تحت دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے شمالی وزیرِ ستان میں پاک افغان سرحدی علاقے میں فتنۃ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پذیرائی کی ہے۔
انہوں نے کامیاب کارروائی میں 8 خارجیوں کو جہنم رسید کرنے پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مجھ سمیت پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے غیر متزلزل عزم میں افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔