افغانستان کی عبوری حکومت کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود تمام مسائل کو بات چیت اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان ایک ذمہ دار ہمسایہ ملک کے طور پر خطے میں استحکام چاہتا ہے۔افغان وزارت خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ گفتگو اس وقت سامنے آئی جب امیر خان متقی نے متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ عبداللہ بن زیاد النہیان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال، افغانستان اور امریکا کے معاملات، اور پاک۔افغان تعلقات میں حالیہ پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔امیر خان متقی نے اس موقع پر ایک امریکی قیدی کی رہائی میں کامیاب ثالثی پر متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ باقی معاملات بھی سفارتی ذرائع سے حل کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے خطے میں جاری کشیدگی خصوصاً ایران کے خلاف حالیہ جنگی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔پاک افغان تعلقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور اس ضمن میں عملی اقدامات کیے جا چکے ہیں۔اماراتی وزیر خارجہ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں اور اس کے حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہیں گی۔

پنجاب، خیبرپختونخوا ،کشمیر، گلگت بلتستان اورشمالی بلوچستان میں کہیں کہیں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میںموسم خشک اور مطلع جزوی ابر آلود سے ابراآلود رہا۔تفصیلات کے مطابق اس دوران سب سے زیادہ بارش پنجاب میں مری میں 40، لاہور، شادی پورہ 43، تاج پورہ 38، سگیاں 37، جوہر ٹاؤن 34، پانی والا تالاب 31، گلشن راوی 30، سمن آباد 30، نشتر ٹاؤن 28، جیل روڈ 26، ایئر پورٹ 24،چوک ناخودہ 23،ہیڈ آفس واسا 22، لکشمی چوک 22،اپر مال 15، مغل پورہ 15، فرخ آباد 15، اقبال ٹاؤن 14، ڈیفنس روڈ 01) جوہر آباد 26، بھکر 25، چکوال 24، سرگودھا (پی اے ایف 21، سٹی 13)، جھنگ 20،راولپنڈی (کچری 18، کٹاریاں 16، گوالمنڈی 12، شمس آباد 11، پیرویداہی 09، چکلالہ 06)، میانوالی 18، حافظ آباد 16، اٹک، نور پور تھل 14،اسلام آباد (سید پور 16، سٹی 13، ایئرپورٹ، بوکرا 08، گولڑہ 07)،فیصل آباد (گلستان کالونی 31، واسا ہیڈ آفس 30، جی ایم اے واٹر ورکس 28، ڈوگر بستی 25، مدینہ ٹاؤن 23، علامہ اقبال کالونی 22، سٹی 13)، گوجرانوالہ، شورکوٹ 09، گجرات 08،سیالکوٹ (ایئرپورٹ 06، سٹی 05)،منڈی بہاؤالدین، اوکاڑہ 06، منگلا، ٹوبہ ٹیک سنگھ، قصور 05، ساہیوال 04، جہلم، شیخوپورہ 03، بہاولپور (سٹی 03) لیہ اور کوٹ ادو میں 01 ملی میٹر بارش ہوئی۔خیبرپختونخوا کے علاقے چراٹ 34، مالم جبہ، بنوں 32، سیدو شریف 31، کاکول 30، پاراچنار 23، پشاور (سٹی 17، ایئرپورٹ 15)، کالام، کوہاٹ 16، دیر (15 زیریں، 14 بالائی)،مردان، رسالپور 14، ڈیرہ اسماعیل خان (ایئرپورٹ 10، سٹی 09)،پتن 09، چترال، کامرہ 08، میر خانی 07، دروش 05، بالاکوٹ 01،کشمیر: راولاکوٹ 34، گڑھی دوپٹہ 20، کوٹلی 10، مظفرآباد ایئرپورٹ پر 04 اور سٹی میں 03 ملئی میٹر بارش ہوئی۔اسی طرح گلگت بلتستان میں ہنزہ 06، استور 03 اور بلوچستان: کوئٹہ میں 01 ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی۔گذشتہ روز ریکارڈ کئے گئے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت شہید بینظیر آباد میں 40، سکرنڈ 39، رحیم یار خان ، خانپور،لاڑکانہ اورمٹھی میں 38 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ایک اہم ٹویٹ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کر دی، جس کے بعد یہ معاملہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق اسحاق ڈار نے اپنی ٹویٹ میں بتایا تھا کہ ایران نے 20 پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے روزانہ دو پاکستانی جہازوں کو اس اہم بحری راستے سے گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔اس پیش رفت کو موجودہ ایران-امریکا کشیدگی کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔حالیہ جنگی صورتحال کے باعث اس راستے پر سخت نگرانی اور پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی تھی۔ماہرین کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے اس ٹویٹ کو شیئر کرنا اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان خطے میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور ایران کے ساتھ رابطوں میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔اس اقدام سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے لیے بھی مثبت امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی عالمی اہمیت سے خائف بھارت دنیا کے امن کا دشمن بن گیا، پاکستان اور خطے کے امن کے خلاف بھارت کی سازش بے نقاب ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امن کی پاکستانی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا خطرناک بھارتی منصوبہ سامنے آگیا، بھارت نے افغانستان کے ساتھ مل کر خفیہ ڈس انفارمیشن نیٹ ورک کے ذریعے ایران کے نام پر پاکستان کے خلاف منظم اور اسٹریٹجک پروپیگنڈا آپریشن لانچ کردیا۔
جعلی ایرانی شناختوں کے ذریعے پاکستان میں نفرت پھیلانے کا بیانیہ گھڑنے کا انکشاف ہوا ہے، ڈس انفارمیشن مہم کا آغاز INN Iran News اور Iran TV جیسے گھوسٹ ایکس اکاؤنٹس سے کیا گیا پاکستان پر امریکہ کے لیے تیل ترسیل کا جھوٹا الزام لگا کر نفرت انگیز پراپیگنڈے کو بنیاد فراہم کی گئی، ایرانی شناخت رکھنے والے درجنوں اکاؤنٹس بھارت اور افغانستان سے آپریٹ کیئے جا رہے ہیں۔ بیانیہ تشکیل دینے والے اکاؤنٹس بھارت جب کہ پراپیگنڈے کے پھیلاؤ والے اکاؤنٹس افغانستان سے آپریٹ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق ثابت ہو گیا مذاکرات کے ہر دشمن کے خلاف پاکستان اور ادارے پوری طرح چوکنا ہیں، پاکستان کے عوام کو بھی اپنی حکومت اور اداروں سے بداعتمادی پیدا کرنے کی ہر سازش سے چوکنا رہنا ہوگا۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے بعد ملک کے لیے اہم مالی معاونت کی راہ ہموار ہوگئی۔
آئی ایم ایف کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے تحت ایک ارب ڈالر جبکہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے تحت 21 کروڑ ڈالر تک رسائی حاصل ہوگی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ دونوں پروگرامز کے تحت مجموعی ادائیگیاں تقریباً 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی، آئی ایم ایف بورڈ کی حتمی منظوری کے بعد پاکستان کو رقم ملے گی۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان مالی خسارہ کم کرنے میں پرعزم ہے، مہنگائی کنٹرول میں ہے جبکہ ٹیکس نظام میں اصلاحات جاری ہیں اور معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ واضح رہے کہ ایک ہفتے کے دوران یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان دوسرا رابطہ ہے۔ وزیر اعظم سے جاری اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماؤں کی گفتگو ایک گھنٹے سے زائد تک جاری رہی جس میں دونوں لیڈران نے خطے میں جاری کشیدگی اور امن کی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔وزیراعظم نے ایران پر اسرائیل کے مسلسل حملوں، بالخصوص گزشتہ روز شہری تنصیبات پر ہونے والے تازہ حملوں کی شدید مذمت کا اعادہ کیا۔انہوں نے ان مشکل حالات میں ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش کو مسترد کرتے ہوئے قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کردیا۔وزیراعظم نے قوم سے کیے گئے خطاب میں کہا کہ آج سے شروع ہونے والے ہفتے میں پیٹرول پر فی لیٹر 95 روپے، ڈیزل پر 203 روپے اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاہم عوامی مشکلات کے پیش نظر ان تجاویز کو مسترد کردیا اور یہ بوجھ وفاقی حکومت نے ایک بار پھر خود اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرنے کے بعد اس کا حجم 56 ارب روپے بنتا ہے اور حکومت یہ اضافی بوجھ خود اٹھائے گی۔’عالمی منڈی کے حساب سے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 544 روپے اور ڈیزل 790 روپے ہوتا‘وزیراعظم نے کہا کہ عالمی منڈی کے حساب سے پاکستان میں پیٹرول 544 روپے فی لیٹر ہونا چاہیے تھا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 30 مارچ کو ایک اہم سفارتی اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے جس میں ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کی صدارت نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کریں گے جبکہ اس اہم اجلاس میں علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے ایجنڈے میں خطے کی موجودہ صورتحال اور درپیش مشترکہ چیلنجز سرفہرست ہوں گے جن پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اس اعلیٰ سطح اجلاس سے خطے میں تعاون کے فروغ اور اہم معاملات پر مثبت پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی قوم سے خطاب میں کہا کہ پاکستان دو محاذوں پر اہم کردار ادا کررہا ہے، وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں قیام امن کے لیے اپنا سفارتی اور ثالث کا کردار ادا کررہا ہے، ہماری یہ کاوشیں اللہ کی رضا اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے ہیں۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے ارتھ آور (Earth Hour) کے موقع پر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک گھنٹے کے لیے روشنی بند کریں تاکہ توانائی کی بچت اور ماحول کے تحفظ کے لیے عملی قدم اٹھایا جا سکے۔
صدر مملکت نے اپنے پیغام میں کہا کہ ماحول کے تحفظ کے لیے اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں اور ایک گھنٹے کی علامتی بندش عملی ماحولیاتی اقدامات کی ترغیب دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے اور اس لیے ہر شہری کا تعاون ضروری ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ حالیہ سیلاب، گرمی کی لہریں اور خشک سالی بڑے چیلنجز ہیں جو ملک کی معیشت اور عوام کی زندگیوں پر اثر ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہروں میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت بجلی کے نظام پر دباؤ ڈال رہا ہے، پانی کی دستیابی میں کمی اور سیلاب سے انفراسٹرکچر متاثر ہو رہا ہے۔
صدر مملکت نے عوام سے اپیل کی کہ وہ توانائی کی بچت کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں اور ماحولیاتی ذمہ داری میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ارتھ آور جیسی علامتی سرگرمیاں عملی اقدامات کی ترغیب دیتی ہیں اور مستقبل میں پائیدار ماحول کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گی۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق، ایسے اقدامات عوام میں شعور پیدا کرنے اور توانائی کے استعمال میں کمی لانے کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ حکومت اور شہریوں کے مشترکہ اقدامات سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 11 ایڈیشن میں کراچی کنگز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 14 رنز سے شکست دے دی۔
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے ایونٹ کے دوسرے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 167 رنز بنا سکی۔
گلیڈی ایٹرز کی جانب سے شامل حسین 52 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ کپتان سعود شکیل 33، رائلی روسو 25، حسن نواز 19، احمد دانیال 4، خواجہ نافع 3 اور ٹام کرن 0 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔
بین مکڈرموٹ 25 اور الزاری جوزف 3 رنز بنا کر نمایاں رہے۔
کراچی کنگز کی جانب سے حسن علی نے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ سلمان آغا، معین علی اور ایڈم زمپا نے 1، 1 وکٹ حاصل کی۔
اس سے قبل گلیڈی ایٹرز کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے کراچی کنگز نے 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 181 رنز اسکور کیے۔
کنگز کی جانب سے معین علی 48 رنز ناٹ آؤٹ بنا کر نمایاں رہے۔ کپتان ڈیوڈ وارنر 35، سعد بیگ 30، سلمان آغا 22، اعظم خان 14، خوشدل شاہ 12، شاہد عزیز 8 اور محمد نعیم 0 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔
حسن علی 7 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
گلیڈی ایٹرز کی جانب سے احمد دانیال نے 3 اور الزاری جوزف نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ عثمان طارق اور ابرار احمد نے 1، 1 وکٹ حاصل کی۔