کراچی گلبہار کے علاقے میں نجی بینک کی اے ٹی ایم مشین توڑ کر کیش نکالنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے ملزم گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزم نے گلبہار کی حدود میں واقع نجی بینک کے اے ٹی ایم کو نقصان پہنچاتے ہوئے کیش نکالنے کی کوشش کی، جس دوران مشین کی اسکرین، دیگر حصوں اور کیش ڈراؤرز کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔گلبہار پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بینک اسٹاف کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کر لیا۔پولیس کے مطابق دورانِ تفتیش معلوم ہوا کہ ملزم سابقہ ریکارڈ یافتہ ہے اور اس سے قبل موٹر سائیکل لفٹنگ کے مقدمات میں بھی گرفتار ہو چکا ہے۔مزید انکشاف ہوا کہ ملزم نے اے ٹی ایم مشین کو توڑنے کے لیے پتھر کا استعمال کیا۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کو مقدمہ درج ہونے کے بعد مزید تفتیش کے لیے تفتیشی افسر کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
بدلتے عالمی منظر نامے میں محفوظ و مضبوط پاکستان، سرمایہ کاری اور عالمی تجارت کیلیے پرکشش منزل بننے لگا ہے۔ نیٹ سیکیورٹی اسٹیبلائزر کے ساتھ ساتھ پاکستان دنیا بھر کے لیے اب تجارتی حب بن چکا ہے۔کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ سمیت پاکستانی بندرگاہوں پر سرگرمیوں میں تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔دی پاکستان انڈیکس کے مطابق گزشتہ 24 دنوں میں کراچی پورٹ پر ٹرانس شپمنٹ میں زبردست اضافہ ہوا جو پورے سال کے برابر ہے۔کراچی پورٹ پر سال 2025 میں تقریباً 8 ہزار 300 کنٹینرز جبکہ صرف گزشتہ 24 دنوں میں 8ہزار 313 کنٹینرز کے برابر مال پہنچا۔ خلیجِ عرب میں شپنگ رکاوٹوں کے باعث روٹس کی تبدیلی سے پاکستان میں ٹرانس شپمنٹ سرگرمی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ پاکستان نے بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ قواعد میں ترمیم کر کے سمندری اور فضائی بندرگاہوں میں کارگو ہینڈلنگ کی اجازت دے دی۔ٹریڈ کرونیکلس کے مطابق جنوبی ایشیا پاکستان ٹرمینل نے 5 ہزار 286، ہچیسن پورٹ نے ایک ہزار 827 اور کراچی گیٹ وے ٹرمینل نے ایک ہزار 200 کنٹینرز کی ترسیل و کارروائی مکمل کی۔عالمی ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ جنگ نے پاکستان کو ٹرانس شپمنٹ کا مستقل مرکز بننے کا سنہری موقع دیا۔ قریبی متبادل کی تلاش میں دنیا کا پاکستان کو ٹرانس شپمنٹ کے لیے بہترین مقام سمجھنا اہم کامیابی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مضبوط سیاسی و اقتصادی استحکام اور قیادت کی حکمت عملی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نئی بلندیوں تک لے جا رہی ہے، سی پیک کے وسیع مواقع اور جدید انفرا اسٹرکچر پاکستان کو خطے میں تجارتی و لاجسٹک مرکز کے طور پر مستحکم کر رہے ہیں۔پاکستان محفوظ اور مستحکم ملک کے طور پر بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مقام بن گیا ہے۔
امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ پاکستان کے ذریعے ایران کے ساتھ مثبت اور مضبوط پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے، جو ممکنہ امن مذاکرات کے لیے اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
اپنے بیان میں اسٹیو وٹکوف نے بتایا کہ امریکا نے پاکستان کی خارجہ پالیسی ٹیم کے ساتھ مل کر 15 نکات پر مشتمل ایک ایکشن پلان تیار کیا جو ممکنہ امن معاہدے کے فریم ورک کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کو پاکستان نے بطور ثالث آگے بڑھایا اور ایران تک پہنچایا
انہوں نے کہا کہ اس 15 نکاتی ایکشن لسٹ کے ذریعے ایران کی جانب سے بھی مثبت ردعمل سامنے آیا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں کسی حد تک مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔ وٹکوف کے مطابق پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان کا ثالثی کردار اس کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت اور عالمی سطح پر اعتماد کی علامت ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب رہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کوعالمی بینک سے 10 ارب 70 کروڑ روپےکانیا قرضہ ملنے کا امکان ہے،رقم توانائی کے منصوبے پر خرچ کی جائے گی۔
دستاویز کےمطابق منصوبےمیں ایشیئن انفراسٹریکچر بینک اوراسلامی ترقیاتی بینک بھی معاونت فراہم کریں گے،عالمی بینک نےپاکستان میں بلوں کی کم وصولی،سسٹم نقصانات اور ٹرانسمیشن رکاوٹوں کی نشاندہی بھی کردی۔
عالمی بینک کےمطابق پاکستان کا پاورسیکٹربجلی چوری سمیت بڑےمسائل کا شکارہے،پاورسیکٹر کے منصوبے کی مجموعی مالیت تقریباً 70 کروڑڈالرہے،مٹیاری سےرحیم یارخان تک 500 کےوی کی بڑی ٹرانسمیشن لائن بچھانےکامنصوبہ شامل ہے،مجوزہ منصوبہ 2026 سے 2035 پرمحیط 10 سال کےپروگرام کا حصہ ہے،بجلی کےنظام میں بہتری،بیٹری اسٹوریج اورنئی ٹرانسمیشن لائن منصوبےکا حصہ ہے،این ٹی ڈی سی میں اصلاحات کے لیےتکنیکی معاونت بھی دی جائے گی۔ دستاویز کےمطابق ایشیئن انفراسٹرکچر بینک اوراسلامی ترقیاتی بینک بھی مالی مدد کریں گے،منصوبے کامقصد پاکستان میں بجلی کا نظام مضبوط اور مستحکم بنانا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں بیلسٹک میزائل کے ملبے کے گرنے سے ایک پاکستانی شہری سمیت مزید دو افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق اماراتی فضائی دفاعی نظام نے آنے والے بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا، تاہم اس کا ملبہ ابوظبی کے علاقے سویجان میں جا گرا جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔ حادثے میں متعدد گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
امارات میں پاکستانی سفارتخانے نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں ایک پاکستانی شہری شامل ہے۔ سفارتخانے کی جانب سے متاثرہ خاندان سے اظہارِ تعزیت کیا گیا ہے اور یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ میت کو جلد پاکستان منتقل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق اس واقعے میں کم از کم تین افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔
حالیہ کشیدگی کے دوران امارات میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر 8 غیر ملکی شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ فضائی دفاعی نظام میزائل حملوں کو بڑی حد تک ناکام بنا رہا ہے، تاہم ملبہ گرنے جیسے واقعات شہری علاقوں کے لیے خطرہ بن رہے ہیں، جس سے خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
راولپنڈی میں دلہن کو شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ کرنا مہنگا پڑ گیا جبکہ واقعے میں ملوث دولہا فرار ہے جس کی تلاش جاری ہے۔
راولپنڈی پولیس نے تھانہ مندرہ کی حدود میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ کرنے پر دلہن کو گرفتار کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزمہ کی شناخت ثناء کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس حکام نے اس بارے میں بتایا کہ شادی کی تقریب میں دلہن کی جانب سے ہوائی فائرنگ کا واقعہ گوہڑہ میں پیش آیا، پولیس نے واقعے کے خلاف مقدمہ اے ایس آئی وسیم اختر کی مدعیت میں درج کیا ہے۔ ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ہوائی فائرنگ کرنے کی اطلاع پر پولیس گوہڑہ پہنچی تو موقع پر موجود دولہا اور دلہن فرار ہوگئے، تاہم پولیس نے تعاقب کرتے ہوئے ملزمہ کو گرفتار کیا۔
مقدمے کے متن کے مطابق گرفتار ملزمہ سے 30 بور پستول برآمد کر لیا گیا جبکہ دولہا شہریار فرار ہوگیا جس کی تلاش جاری ہے۔
امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ پاکستان کے ذریعے ایران کے ساتھ مثبت اور مضبوط پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے، جو ممکنہ امن مذاکرات کے لیے اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
اپنے بیان میں اسٹیو وٹکوف نے بتایا کہ امریکا نے پاکستان کی خارجہ پالیسی ٹیم کے ساتھ مل کر 15 نکات پر مشتمل ایک ایکشن پلان تیار کیا جو ممکنہ امن معاہدے کے فریم ورک کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کو پاکستان نے بطور ثالث آگے بڑھایا اور ایران تک پہنچایا
انہوں نے کہا کہ اس 15 نکاتی ایکشن لسٹ کے ذریعے ایران کی جانب سے بھی مثبت ردعمل سامنے آیا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں کسی حد تک مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔ وٹکوف کے مطابق پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان کا ثالثی کردار اس کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت اور عالمی سطح پر اعتماد کی علامت ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب رہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
خیبرپختونخوا کےضلع کوہاٹ میں گیس کابڑاذخیرہ دریافت ہوگیا،کنویں سے یومیہ 2 کروڑ 65 لاکھ اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس حاصل ہوگی۔گیس کاذخیرہ ٹل بلاک میں کھودے گئےکنویں سےدریافت ہوا،اوجی ڈی سی ایل نےپشرفت سےاسٹاک ایکسچینج کو آگاہ کردیا،اوجی ڈی سی ایل نےدریافت کو قابل ذکر کامیابی قرار دیا ہے،کنویں میں پی پی ایل،پی او ایل،ایم اوایل اور جی ایچ پی ایل بھی حصہ دار ہیں۔ دریافت سےٹل بلاک میں دیگرکنوؤں کی کامیابی کےامکانات بھی بڑھ گئے،دریافت سےملک کی انرجی سیکیورٹی میں اضافہ اورطلب و رسد کے فرق میں کمی آئے گی۔
ایران کے دارالحکومت تہران میں سیکیورٹی صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب شدید بمباری کی اطلاعات سامنے آئیں۔ تاہم خوش آئند امر یہ ہے کہ تمام پاکستانی سفارتی عملہ محفوظ رہا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق بمباری کا سلسلہ رات تقریباً 8 بجے شروع ہوا، جس کے دوران سفارتخانے کے اطراف میں وقفے وقفے سے زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ان دھماکوں کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارتخانے کے قریب ایرانی فوج کا ایک اہم مرکز ’ارتش‘ موجود ہے، جسے ممکنہ طور پر حملے کا ہدف بنایا گیا۔ دفاعی مبصرین کے مطابق اگر یہ دعویٰ درست ہے تو حملے کا مقصد کسی مخصوص فوجی تنصیب کو نشانہ بنانا ہو سکتا ہے، نہ کہ سفارتی مشنز کو۔
مزید اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں ایک حساس علاقے میں مقیم ہیں، جو پاسدارانِ انقلاب کے زیر انتظام بتایا جاتا ہے۔ اس علاقے میں بھی بمباری کی گئی، تاہم سفیر کی رہائشگاہ محفوظ رہی اور انہیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔
حکام کے مطابق صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور سفارتی عملے کی سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی حکام کی جانب سے ایرانی حکام سے بھی رابطہ کیا گیا ہے تاکہ واقعے کی نوعیت اور ممکنہ خطرات کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کی جا سکیں۔
عالمی سطح پر اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ سفارتی تنصیبات کے قریب اس نوعیت کی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تصور کی جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی اسی طرح برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ دیگر ممالک کے سفارتی تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
فی الحال صورتحال قابو میں بتائی جا رہی ہے، تاہم سیکیورٹی ادارے الرٹ ہیں اور مزید پیش رفت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔










