ایران کے دارالحکومت تہران میں سیکیورٹی صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب شدید بمباری کی اطلاعات سامنے آئیں۔ تاہم خوش آئند امر یہ ہے کہ تمام پاکستانی سفارتی عملہ محفوظ رہا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق بمباری کا سلسلہ رات تقریباً 8 بجے شروع ہوا، جس کے دوران سفارتخانے کے اطراف میں وقفے وقفے سے زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ان دھماکوں کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارتخانے کے قریب ایرانی فوج کا ایک اہم مرکز ’ارتش‘ موجود ہے، جسے ممکنہ طور پر حملے کا ہدف بنایا گیا۔ دفاعی مبصرین کے مطابق اگر یہ دعویٰ درست ہے تو حملے کا مقصد کسی مخصوص فوجی تنصیب کو نشانہ بنانا ہو سکتا ہے، نہ کہ سفارتی مشنز کو۔
مزید اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں ایک حساس علاقے میں مقیم ہیں، جو پاسدارانِ انقلاب کے زیر انتظام بتایا جاتا ہے۔ اس علاقے میں بھی بمباری کی گئی، تاہم سفیر کی رہائشگاہ محفوظ رہی اور انہیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔
حکام کے مطابق صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور سفارتی عملے کی سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی حکام کی جانب سے ایرانی حکام سے بھی رابطہ کیا گیا ہے تاکہ واقعے کی نوعیت اور ممکنہ خطرات کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کی جا سکیں۔
عالمی سطح پر اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ سفارتی تنصیبات کے قریب اس نوعیت کی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تصور کی جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی اسی طرح برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ دیگر ممالک کے سفارتی تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
فی الحال صورتحال قابو میں بتائی جا رہی ہے، تاہم سیکیورٹی ادارے الرٹ ہیں اور مزید پیش رفت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

پشاور میںچائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا، دو ماہ قبل کم عمرلڑکی سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ تھانہ چمکنی میں درج ہواتھا،ایف آئی آرمیں چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ، جنسی زیادتی اور دیگر دفعات شامل کرلی گئی ہیں متاثرہ لڑکی کے پولیس کو دیئے گئے بیان کے مطابق مجھے ماموں زاد اپنے دوست کے ساتھ گاڑی میں بونیرسے پشاور لایا ،راستے میں گاڑی میں مجھے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ملزمان خود بھی آئس پیتے رہے اور مجھے بھی پلائی ،واپسی پرپشاورٹول پلازہ کے قریب ایکسائز پولیس نے گاڑی کو روکا ،پولیس کے مطابق تلاشی کے دوران ملزمان کو گرفتارکرکے گاڑی قبضے میں لے لی گئی ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا ، لڑکی کی میڈیکل رپورٹ کا انتظار ہے،میڈیکل رپورٹ آنے پرمزید کارروائی کی جائے گی ، چائلڈ پروٹیکشن قوانین کے تحت لڑکی کے حقوق کا ہرصورت تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

پاک افغان طورخم سرحد افغان مہاجرین کی واپسی کے لئے کھول دی گئی ، بارڈر بندش کے بعد لنڈی کوتل میںپھنسے35 ،افراد کوکلیرنس کرنے کے بعد طورخم کے راستے افغانستان روانہ کردیا گیا ہے اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ،مہاجرین کے قافلے کو پولیس سکیورٹی میں افغان سرحدطورخم تک پہنچایا گیا

حج 2026 کے سلسلے میں عازمین کے لیے پاک حج ایپ پر میڈیکل فارم بھرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔وزارتِ مذہبی امور نے پاک حج ایپ پر میڈیکل سوالنامہ جاری کر دیا۔ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق طبی سوال نامہ جمعہ تک مکمل کرنا ہوگا، امراض کے بارے میں ’’ہاں‘‘ یا ’’ناں‘‘ میں جواب دینا ہوگا۔ سوالنامہ عازمینِ حج کو مربوط طبی سہولیات کی مدد میں معاون ہوگا۔
سوالنامہ میں بلڈ پریشر، امراض قلب اور شوگر کے بارے میں دریافت کیا گیا ہے۔ دمہ، گنٹھیا اور تھائی رائیڈ کے بارے میں بھی فارم بھر کر بتانا ہوگا۔پاک حج موبائل اِیپ پر حج ویزا پرنٹ کرنے کا لنک بھی شامل کر دیا گیا۔ترجمان کے مطابق موبائل اِیپ پر حج پروازوں کا شیڈول بھی جاری کر دیا گیا۔ پاک حج ایپ پر مرحلہ وار نئی معلومات شامل کی جا رہی ہیں۔ عازمین حج اعلانات کے لیے پاک حج موبائل ایپ دیکھتے رہیں۔

بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے پاکستان مخالف غیر مہذب بیان پر بھارت میں کڑی تنقید ہوئی ہے اور غیر سفارتی زبان اور پالیسی پر سوالات اٹھادیے گئے۔اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کو پاکستان مخالف حالیہ غیر مہذب بیان پر شدید ردعمل کا سامنا ہے، یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان، امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔بھارتی وزیر خارجہ کے بیان پر بھارتی اپوزیشن رہنماؤں نے بی جے پی اور مودی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ترجمان بھارتی کانگریس ڈاکٹر شمّع محمد نے نازیبا بیان کو سفارتی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے منتخب کیا جانا اور بھارت کا باہر رہنا مودی حکومت کی ناکامی ہے۔کانگریسی ممبر سپرِیا شری نیتے نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں ثالثی کی پیشکش یا جنگ رکوانے کے بھارتی دعویٰ کو کیا نام دیا جائے؟ اس پر کانگریسی ممبر پون کھیرا نے کہا کہ مودی کی روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی کوشش کے وقت کیا بھارت ایک بروکر ملک نہیں تھا؟بھارتی تجزیہ نگار اشوک سوائن نے کہا ہے کہ جے شنکر کے نازیبا الفاظ محض سڑک کی زبان ہے، کسی وزیر خارجہ کے شایانِ شان نہیں۔عالمی ماہرین کے مطابق جے شنکر کا حالیہ بیان اپریل 2022ء میں روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی خواہش والے بیان سے یکسر متصادم ہے، جے شنکر کا غیر سفارتی بیان ہزیمت چھپانے کا ایک دفاعی ردعمل ہے، حالیہ خلیجی بحران میں بھارت کو مرکزی کردار نہ ملنا بھارت کی سفارتی ناکامی ہے، بھارتی وزیر خارجہ کے بیان نےنام نہاد امن کے دعوے داربھارت کی سفارتی ساکھ اور سنجیدگی پر سوالات اٹھا دیے

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینیٹر مراد سعید کو نااہل قرار دے کر ڈی نوٹیفائی کر دیا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے نوٹیفکیشن مراد سعید کو انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی سے 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔الیکشن کمیشن کے اعلامیے میں کہا گیا کہ نااہلی آئین کے آرٹیکل 63(1)(h) کے تحت عمل میں لائی گئی، خیبرپختونخوا سے سینیٹ کی جنرل نشست خالی قرار دے دی گئی۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال سے متعلق غیر ضروری قیاس آرائیوں کی تردید کی ہے۔سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات سے متعلق میڈیا میں موجود غیر ضروری قیاس آرائیوں کی تردید کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس اہم عمل میں ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جہاں فریقین کے مابین پیغامات پہنچائے جا رہے ہیں اور اس تناظر میں امریکا نے 15 نکات پیش کیے ہیں جن پر ایران غور کر رہا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اس امن اقدام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے برادر اسلامی ممالک ترکیہ اور مصر سمیت دیگر ریاستیں بھی بھرپور تعاون فراہم کر رہی ہیں تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کو جلد از جلد ختم کیا جا سکے۔اپنے پیغام میں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے اپنے عزم پر سختی سے کاربند ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے لیے پرعزم بھی ہے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ موجودہ پیچیدہ حالات میں مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور جاری تنازعات کو حل کیا جا سکتا ہے۔

پی ایس ایل کے گیارھویں سیزن کے لیے رائیولریز (دیرینہ رقابت) پر ایک نیا اور جوش بڑھاتا ولولہ انگیز پرومو جاری کیا گیا ہے۔
اس پرومو کا آغاز ’’11 ہونے والا ہے۔۔۔۔ اور اعلیٰ ہونے والا ہے‘‘ ’’پی ایس ایل کا ہر موومنٹ ہے وائرل ہونے والا‘‘ کے مصرعہ سے ہوتا ہے اور کرکٹ کے دیوانے اس پر رقصاں نظر آتے ہیں۔
اس پرومو میں ٹیموں اور کھلاڑیوں کا ذکر دلچسپ انداز میں کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ نئی ٹیموں کےاضافے سے رقابتوں میں بھی آئے گی نئی جان۔
مثلاً
’’بابر کی ڈرائیو، عامر کی فائٹ، راولپنڈی ورسز اسلام آباد ہوگا ٹائٹ، مطلب پنڈی بوائز اور برگرز کی فائٹ۔‘‘
’’ہلا دیں گے میدان کراچی اور حیہدرآباد کے لڑکے، جیسے کراچی کی سڑکوں کے جھٹکے۔‘‘

پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی اور ان کی اہلیہ نیمل خاور کو شوبز کی مقبول ترین جوڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے، جن کی سادہ شادی اور باہمی ہم آہنگی کو مداحوں نے ہمیشہ سراہا ہے۔ اب یہ جوڑی ایک نئے اقدام کے باعث خبروں میں آگئی ہے۔
شوبز جوڑی نے مشترکہ طور پر ’’میرج 4 لائف‘‘ کے نام سے ایک نیا پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد لوگوں کو زندگی کے شریکِ حیات کی تلاش میں مدد فراہم کرنا ہے۔ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک جامع اور ہمہ جہت ایپ ہوگی، جہاں رشتہ تلاش کرنے والے افراد کو مناسب رہنمائی اور مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
حمزہ علی عباسی اور نیمل خاور کے مطابق انہیں اس خیال کی تحریک اس وقت ملی جب لوگ اکثر ان سے اچھے رشتوں کے بارے میں رہنمائی طلب کرتے تھے، جس کے بعد انہوں نے اس آئیڈیا کو عملی شکل دینے کا فیصلہ کیا۔
تاہم اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ صارفین نے اسے ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے والدین اور نوجوانوں کو اچھے رشتے تلاش کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ بعض افراد نے اسے محض ایک نیا کاروباری منصوبہ قرار دے کر تنقید بھی کی۔
یوں یہ نیا اقدام جہاں ایک طرف توجہ حاصل کر رہا ہے، وہیں انٹرنیٹ صارفین کے درمیان بحث کا موضوع بھی بن چکا ہے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سول و عسکری قیادت نے معاشی نظم و نسق، توانائی منصوبہ بندی، فوڈ سکیورٹی اور سکیورٹی پالیسیز کو ہم آہنگ رکھنے پر اتفاق کیا، حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے اور معاشی و توانائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت ایوانِ صدر میں اعلیٰ سطح کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیر داخلہ محسن رضا نقوی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر توانائی علی پرویز ملک اور وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ بھی شریک ہوئے۔