چین کے وزیرخارجہ وانگ یی نےکہا ہےکہ افغانستان اور پاکستان کےدرمیان موجود مسائل صرف مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے ہی حل کیے جاسکتے ہیں،طاقت کے استعمال سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
وانگ یی نےیہ بات افغان وزیرخارجہ امیرخان متقی سےٹیلی فون پرگفتگو کے دوران کہی،یہ رابطہ افغان وزیرخارجہ کی درخواست پرکیا گیا،دونوں رہنماؤں نے ایران کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
وانگ یی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال سے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات مزید بڑھ سکتے ہیں جو نہ صرف دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ہوگا بلکہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
گفتگو کے دوران افغان وزیرخارجہ امیرخان متقی نےافغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے چین کی سفارتی کوششوں کو سراہا،کہاافغان عوام طویل جنگوں سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور اب امن اور ترقی کے مواقع کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،افغانستان خطے میں بدامنی نہیں بلکہ امن کا ذریعہ بننا چاہتا ہے،
وزیراعظم کی ہدایت پر پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کےمطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 321 روپے 17 پیسے پر برقرار رکھی گئی ہے۔اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر کی موجودہ قیمت پر ہی فروخت کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتوں کے رجحان اور ملکی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے آپریشن غضب للحق کے تحت 12 اور 13 مارچ کی شب قندھار ایئر فیلڈ کی آئل سٹوریج سائٹس کو مؤثر حملوں کے ذریعے تباہ کر دیا ہے۔
اس حوالے سے دستیاب ویڈیو میں حملوں سے پہلے اور بعد کے مناظر واضح طور پر دکھائے گئے ہیں، جن سے کارروائی کی شدت اور مؤثر نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ آئل اسٹوریج سائٹس افغان طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں اپنی مذموم کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی تھیں۔
پاک فوج مؤثر اور طاقتور کارروائیوں کے ذریعے افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے دہشت گرد ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہناہے کہ آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی۔ فوج اپنی تمام تر استعداد کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو عملی جامہ پہنا رہی ہے۔
لنڈی کوتل میں پاک۔افغان شاہراہ خیبر شیخوال کے مقام پر خواتین نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سنٹر کی بندش کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بند کر دی جس کے باعث ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہو گئی۔
بعد ازاں لنڈی کوتل تھانے کے ایڈیشنل ایس ایچ او ملک زینت آفریدی نے مقامی مشران کے ہمراہ مظاہرین سے کامیاب مذاکرات کئے۔ مذاکرات کے نتیجے میں احتجاج ختم کر دیا گیا اور پاک۔افغان شاہراہ کو ٹریفک کے لئے دوبارہ کھول دیا گیا۔
پولیس حکام اور مشران نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی کہ پیر کے روز متعلقہ سنٹر میں دوبارہ ڈیوائس نصب کی جائے گی اور خواتین کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا سنٹر باقاعدہ طور پر فعال کر دیا جائے گا۔










