پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے مزید ایک ارب ڈالر موصول ہو گئے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی دوسری قسط ایک ارب ڈالر پاکستان کو موصول ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل 2 ارب ڈالر کی پہلی قسط 15 اپریل کو موصول ہوئی تھی۔
واضح رہے کہ 15 اپریل کو اسٹیٹ بینک نے بیان میں بتایا تھا کہ سعودی وزارت خزانہ کی جانب سے 2 ارب ڈالر وصول ہونے کے ساتھ ہی مملکت نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کر نے کے لیے مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر کی فنانسنگ کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔
بعد ازاں سعودی عرب نے پاکستان میں رکھے گئے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ بھی رول اوور کردیے تھے، جس کے لیے اسٹیٹ بینک اور سعودی فنڈ برائے ترقی کے درمیان باقاعدہ معاہدہ طے پایا تھا، جس پر امریکا میں دستخط کیے گئے۔
وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک اہم مالی معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی، جس میں امریکا میں پاکستان کے سفیر بھی موجود تھے۔ یہ تقریب عالمی بینک اور عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر منعقد ہوئی تھی۔

مفکرِ پاکستان حضرت علامہ محمد اقبالؒ کی 88 ویں برسی آج ملک بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبالؒ علامہ محمد اقبالؒ 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، انہوں نے اپنی فکر اور شاعری کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک الگ قوم ہونے کا شعور دیا، انکی فکری رہنمائی نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد کو ایک مضبوط نظریاتی بنیاد فراہم کی۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں ہی حاصل کی، مشن ہائی اسکول سے میٹرک اور مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد علامہ اقبالؒ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفے میں ماسٹرزکیا اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلینڈ چلے گئے جہاں قانون کی ڈگری حاصل کی، بعد ازاں آپ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
آپ نے اورینٹیئل کالج میں تدریس کے فرائض بھی انجام دیئے تاہم وکالت کو مستقل پیشے کے طور پر اپنایا، علامہ اقبالؒ وکالت کے ساتھ ساتھ شعر و شاعری بھی کرتے رہے اور سیاسی تحریکوں میں بھی حصہ لیا، 1922 میں حکومت کی طرف سے آپ کو ’سر‘ کا خطاب ملا۔
مفکر پاکستان کا شمار برصغیر پاک و ہند کی تاریخ ساز شخصیات میں ہوتا ہے، علامہ اقبالؒ نے ناصرف تصور پاکستان پیش کیا بلکہ اپنی شاعری سے مسلمانوں، نوجوانوں اور سماج کو آفاقی پیغام پہنچایا۔ علامہ اقبالؒ کے معروف مجموعہ کلام میں بانگ درا، ضرب کلیم، ارمغان حجاز اور بال جبریل شامل ہیں۔ علامہ اقبال 21 اپریل 1938ء کو لاہور میں انتقال کر گئے تھے، جہاں ان کا مزار بادشاہی مسجد کے قریب واقع ہے۔
صدر مملکت نے علامہ اقبال کی برسی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ اقبال نے امت کو خودی اور عمل کا پیغام دیا، اقبال کی فکر مشرق و مغرب کے علمی امتزاج کی عکاس ہے، سماجی و معاشی انصاف اقبال کے پیغام کا بنیادی حصہ ہے، فکر اقبال آج بھی امید اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے اقبال کا پیغام حوصلہ اور جدوجہد ہے، اقبال کے نزدیک تعلیم کردار سازی کا ذریعہ ہے، اقبال کا تصورِ خودی اعتماد اور شعور کی بنیاد ہے، اقبال کی فکر کو عملی زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔

پاکستانی سیاستدان شرمیلا فاروقی کراچی کو پیرس قرار دینے کے بعد چھٹیاں منانے کے لیے ترکی پہنچ گئیں جس پر صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لے لیا۔ شرمیلا فاروقی ایک معروف پاکستانی سیاستدان ہیں جو پاکستان پیپلزپارٹی سے اپنی مضبوط وابستگی کے باعث جانی جاتی ہیں۔وہ ایک معروف سیاسی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جو طویل عرصے سے پارٹی کی قیادت اور نظریے سے منسلک رہا ہے۔شرمیلا فاروقی نے مختلف حیثیتوں میں پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے کراچی کے عوام کی نمائندگی کی ہے۔ ان کی سیاسی توجہ شہری ترقی، خواتین کو بااختیار بنانے اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر رہی ہے۔ان کی شادی کاروباری شخصیت حشام ریاض شیخ سے ہوئی ہے اور وہ ایک بیٹے کی ماں ہیں۔ان دنوں شرمیلا فاروقی ترکی میں چھٹیاں گزار رہی ہیں، اور یہ دورہ اس وقت سامنے آیا جب حال ہی میں کراچی سے متعلق ان کا ایک بیان وائرل ہوا تھا۔جس میں انہوں نے شہر کا موازنہ پیرس سے کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دنیا کے کسی بھی شہر پر کراچی کو ترجیح دیتی ہیں۔درحقیقت، ایک نجی ٹی وی پروگرام میں شرکت کے دوران شرمیلا نے شہرِ قائد کا موازنہ براہِ راست پیرس سے کردیا تھا، جس پر محفل میں موجود افراد بھی مسکرا اٹھے۔ان کے شوہر حشام اور بیٹا بھی ترکی میں ان کے ہمراہ ہیں، انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اس سفر کی خوبصورت تصاویر بھی شیئر کی ہیں۔سوشل میڈیا صارفین انہیں اس بات پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ کراچی کو دنیا کا بہترین شہر قرار دینے کے فوراً بعد وہ بیرونِ ملک چھٹیاں منانے چلی گئیں۔

معروف متنازع مذہبی اسکالر اور ٹی وی شخصیت مفتی عبدالقوی ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے۔مفتی عبدالقوی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں انہیں مبینہ طور پر ایک ریو پارٹی میں دیکھا جا سکتا ہے۔ریو میوزک پارٹی ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں تیز موسیقی، ڈی جے اور رقص کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مفتی عبدالقوی اپنے روایتی لباس میں ایک نائٹ کلب میں موجود ہیں جبکہ اردگرد لوگ موسیقی پر محوِ رقص ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں کہ مفتی عبدالقوی کسی تنازع کا حصہ بنے ہوں۔ اس سے قبل بھی ان کا نام متعدد اسکینڈلز میں سامنے آ چکا ہے جن میں قندیل بلوچ اور ٹک ٹاکر حریم شاہ کے ساتھ تنازعات شامل ہیں۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کچھ صارفین طنزیہ تبصرے کر رہے ہیں جبکہ کچھ نے اس عمل پر تنقید کی ہے۔ایک صارف نے لکھا کہ قندیل بلوچ ان کے بارے میں درست کہتی تھی۔ ایک اور صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مفتی صاحب اپنا جنت کا ویزا کینسل کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا انفلوینسر آفاق خان نے کہا کہ مفتی قوی ایک ایسا مسئلہ بن گئے ہیں جو حل نہیں ہو پارہا، انکو قندیل بلوچ نے بہت پہلے بے نقاب کردیا تھا۔تاحال مفتی عبدالقوی کی جانب سے اس ویڈیو یا پارٹی میں شرکت کے حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس پشاور کے عمران خان کرکٹ سٹیڈیم میں طلب کرلیا گیا ہے ،اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری اعلامیہ کے مطابق ،سپیکر نے 22 اپریل کو سہہ پہر 3 بجے اجلاس طلب کیا ہے،واضح رہے وزیر اعلی سہیل آفریدی نے 19 اپریل مردان جلسے میں اجلاس میدان میں بلانے کا اعلان کیا تھا

خضدار میں شرپسند عناصر سےفائرنگ کے تبادلے میں لیڈی کانسٹیبل ملک ناز سمیت دو اہلکار شہید ہوگئے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہاکہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں پہلی خاتون پولیس کانسٹیبل نے بہادری کی مثال قائم کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر عبدالغنی بھی پہلے ہی وطن پر قربان ہوچکے ہیں، پولیس کانسٹیبل ملک ناز کی قربانی عظیم ہے۔ انہوں نے کہا حکومتِ بلوچستان اس مشکل گھڑی میں ان کے بچوں کے ساتھ کھڑی ہے، خضدار میں فائرنگ کے واقعےمیں ہیڈکانسٹیبل سمیع اللہ بھی شہیدہوئے۔وزیر اعلیٰ نے کہاکہ شہداء کی قربانیاں قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں، انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔

وفاقی حکومت کےابتدائی دوسال کےدوران قرضوں میں 15 ہزار 72 ارب روپےکاتاریخی اضافہ ہوا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویزات کے مطابق موجودہ حکومت کےقرضوں میں یہ اضافہ مارچ 2024 سے لیکرفروری 2026 کےدوران ہوا، قرضوں میں اوسطاًہر روزتقریباً 21 ارب روپےکااضافہ بنتا ہے۔مرکزی بینک کی تفصیلات کے مطابق بنیادپرمارچ 2024سےلیکرفروری2026 کے 2 سال کے دوران وفاقی حکومت کےمقامی قرضوں میں14ہزار4ارب روپےاور بیرونی قرضوں میں ایک ہزار68ارب روپےکااضافہ ہواجس کے بعد وفاقی حکومت کاقرضہ فروری2026تک بڑھ کر79ہزار 882ارب روپےہوا۔نگران حکومت کے آخری مہینے فروری2024 تک وفاقی حکومت کےقرضوں کا حجم 64 ہزار 810 ارب روپے تھا۔

سکیورٹی فورسز نے بنوں میں آپریشن کر کے فتنۃ الخوارج کے انتہائی مطلوب رنگ لیڈر سمیت 2 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بنوں میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا جس دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 2 خوارج ہلاک ہو گئے، ہلاک خوارج سے خودکش جیکٹ، اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے ہلاک خوارج میں خوارجی رنگ لیڈر وحید اللہ عرف مختیار اور ایک خودکش بمبار شامل ہے، خارجی رنگ لیڈر وحید اللہ عرف مختیار دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث رہا، خوارجی رنگ لیڈر وحید اللہ انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل تھا۔شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق خارجی رنگ لیڈر سکیورٹی فورسز اہلکاروں اور بے گناہ شہریوں کی شہادتوں میں ملوث تھا، خارجی لیڈر وحید 21 فروری 2026 کو بنوں میں خودکش حملے کا مرکزی سہولتکار بھی تھا، بنوں حملے کے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل گل فراز شہید ہوئے تھے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے آپریشن کے ذریعے اس گھناؤنے فعل کا بدلہ لے لیکر مرکزی مجرم کو انجام تک پہنچایا گیا، سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی سے ایک بڑے سانحے کو بھی ناکام بنایا، کسی بھی دوسرے بھارتی سرپرستی یافتہ دہشتگرد کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

وفاقی حکومت نے پیر کو ریڈ زون میں واقع دفاتر میں ورک فرام کا اعلان کیا ہے۔
کابینہ ڈویژن سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ریڈ زون میں واقع تمام وزارتوں، ڈویژنز اور دیگر وفاقی حکومت کے دفاتر میں 20 اپریل کو گھر سے کام کیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن میں ہدایت کی گئی ہے کہ تمام افسران اور عملہ اسٹیشن پر موجود رہیں اور ضرورت پڑنے پر فوری دفتر طلبی کے لیے تیار رہیں۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ سرکاری امور جاری رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق 20 اپریل کو ریڈزون کے اندر آنیوالے اسکولز بھی بندہوں گے، اسکولز اور دفاتر کو ورک فراہم ہوم کے انتظامات کی ہدایت کردی گئی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں مری اور کوٹلی ستیاں کی ترقی اور سیاحت کے فروغ سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں کوٹلی ستیاں میں پنجاب کا پہلا اسکائی گلاس برج بنانے کی اصولی منظوری دی گئی جبکہ مری میں لینڈ سلائیڈنگ کے سدباب کے لیے عالمی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے اور متاثرہ علاقوں میں بحالی و امدادی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت جاری کی گئی