اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں 6.3 زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق اسلام آباد، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے باعث عوام خوفزدہ ہوگئے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر شدت 6.3 ریکارڈ کی گئی جبکہ زیر زمین گہرائی 190 کلومیٹر اور مرکز کوہ ہندوکش افغانستان میں تھا۔
زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد، چترال، پشاور، سوات، شانگلہ، چترال اور لاہور سمیت مختلف مقامات پر محسوس ہوئے۔
آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے تمام افسران کو اپنے علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لینے کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ کسی علاقے میں کوئی واقعہ پیش آیا ہو تو فوری مدد کی جائے۔ تمام افسران اپنے علاقوں کی رپورٹ فوری بھجوائیں۔
اُدھر پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے بتایا کہ پنجاب میں زلزلے کے باعث کوئی جانی یا مالی نقصان رپورٹ نہیں ہوا، لاہور، میانوالی، جھنگ، فیصل آباد، راولپنڈی، پوٹھوہار ریجن سرگودھا اور دیگر اضلاع میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ پی ٹی ایم اے کا صوبائی کنٹرول روم اور پنجاب کے ضلعی ایمرجنسی سینٹر فعال ہیں، نقصانات کی اطلاع ہیلپ لائن 1129 پر دی جاسکتی ہے۔

حکومت نے پیٹرول پر لیوی میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا جس کے بعد پیٹرول پر لیوی بڑھ کر 160.61 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، اس سے پہلے پیٹرولیم لیوی 106 روپے فی لیٹر تھی۔ہائی اوکٹین پر لیوی 305 روپے 37 پیسے فی لیٹر اور مٹی کے تیل پر لیوی 20 روپے 36 پیسے فی لیٹر کردی گئی، لائٹ ڈیزل پر 15 روپے 84 پیسے اور فرنس آئل پر لیوی 77 روپے فی میٹرک ٹن کردی گئی۔ رواں مالی سال پیٹرولیم لیوی کا ہدف ایک ہزار 468 ارب روپے مقرر ہے، لیوی کی شرح بلند ہونے سے نان ٹیکس ریونیو میں مزید اضافہ متوقع ہے۔واضح رہے کہ حکومت نے گزشتہ روز پیٹرول 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت اضافے کے بعد 520 روپے 35 پیسے ہوگئی۔مٹی کے تیل اور جیٹ فیول کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے، اوگرا کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق مٹی کا تیل بھی 34 روپے 8 پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا ہے۔ اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 467روپے 48 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔جیٹ فیول کی قیمت میں مزید 40 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا جس کے بعد نئی قیمت 517 روپے 17 پیسے فی لیٹر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے

دنیا کا سفر سائیکل پر کرنے والے ایک جرمن شہری کو اسلام آباد پہنچتے ہی چوری کی واردات کا سامنا کرنا پڑا۔ذرائع کے مطابق جرمنی سے تعلق رکھنے والے سیاح فلپ سیم نے رات گزارنے کے لیے اسلام آباد ایکسپریس وے پر تھانہ کھنہ کے علاقے میں کیمپ لگایا۔ وہ اپنے عالمی سائیکل سفر کے دوران پاکستان پہنچے تھے۔رپورٹس کے مطابق جب وہ اگلی صبح بیدار ہوئے تو ان کی سائیکل اور قیمتی کیمرہ چوری ہو چکے تھے، جس پر انہیں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔واقعے کے بعد جرمن سفارتخانے کی درخواست پر اسلام آباد پولیس نے فوری کارروائی شروع کی اور تلاش کے بعد سائیکل برآمد کر لی گئی۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور چوری میں ملوث ملزمان کی تلاش کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔یہ واقعہ دارالحکومت میں سیکیورٹی اور سیاحوں کے تحفظ سے متعلق سوالات کو بھی جنم دے رہا ہے، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سیاحوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت نے پنگا لیا تو پاک فوج پہلے سے زیادہ ذلت آمیز پھینٹی لگائے گی۔سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت اور بھارتی وزیر راج ناتھ سنگھ کے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان سے 5 سے 6 گنا بڑا ملک ہے اور اس کے وسائل بھی بے شمار ہیں، تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج بھی کروڑوں بھارتی فٹ پاتھ پر بھوکے سونے پر مجبور ہیں۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ راج ناتھ سنگھ بیان دے کر دنیا کو باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ بھی relevant ہیں، جبکہ پاکستان اس وقت الحمدللہ پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور بھارت کو کوئی منہ لگانے کو تیار نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ راج ناتھ جی وقت ہے، اپنی اوقات دیکھ کر بیان دیا کریں۔ خواجہ آصف نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پنگا لیا گیا تو اللہ کے فضل سے پاکستان کی افواج پہلے سے زیادہ ذلت آمیز پھینٹی لگائیں گی

لاہور سمیت صوبہ بھر میں بھینسوں کے گوبر پر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،فی بھینس 30روپے روزانہ گوبر ٹیکس وصولی کی جائے گی، ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت گوبر سے بائیو گیس تیار کی جائے گی۔روزنامہ دنیا کے مطابق لاہور سمیت صوبہ بھر کی 168 گوالہ کالونیز سے ٹیکس وصولی کی جائے گی ،گوالہ کالونیز میں موجود بھینسوں کے فضلے کی صفائی اور کولیکشن پر فیس وصولی کی جائے گی ،گوالہ کالونیز میں50لاکھ بھینسیں موجود ہیں ،ابتدائی طور پر لاہور کی دو گوالہ کالونیوں پر ٹیکس وصولی کا فارمولہ طے کیا گیا ہے ، ہربنس پورہ اور گجر پورہ گوالہ کالونیوں پر فی بھینس گوبر فیس وصولی کی جائے گی، گوالوں نے گوبر ٹیکس دینے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے ،وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے تصدیق کرتے ہوئے کہاہے کہ گوالہ کالونیوں سے گوبر کولیکشن کی مد میں فیس وصولی کی جائے گی۔

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کو کروائی گئی یقین دہانی پر عملدرآمد کرتے ہوئے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں پاکستان میں پیٹرول 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے۔وزیرپیٹرولیم اور وزیر خزانہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کر کے عالمی بحران اور حکومتی اقدامات کے حوالے سے آگاہ کیا۔وزیرپیٹرولیم نے بتایا کہ آج وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سارے وزرائے اعلیٰ، فوجی قیادت اور دیگر قائدین شریک تھے جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ عالمی منڈیوں کی صورت حال کے پیش نظر سبسڈی صرف مخصوص طبقے کو دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اگلے ایک ہفتے کیلیے پیٹرول کی قیمت اضافے کے بعد 458 روپے 40 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت اضافے کے بعد 520 روپے 35 پیسے مقرر کی ہے۔وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگا۔وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ خلیج جنگ کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بھونچال آیا ہوا ہے، اس وقت قوم کو اتحاد اور نظم و ضبط کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اس صورتحال سے نکلنے کیلیے مشکل اور ذمہ دارانہ فیصلے کرنے جارہی ہے، مہنگائی کے طوفان کو برپا کرنے میں حکومت کا کردار نہیں البتہ دو سال میں کابینہ نے معاشی استحکام اور جامع پائیداری کیلیے جو اقدامات کیے وہ سفر عالمی صورت حال کی وجہ سے رُک گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں خارجہ محاذ پر اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل کی کاوشوں کے ساتھ اس آگ کو بجھانے کی بھرپور کوشش کرنی ہے تاکہ پرانے راستے کی طرف جاسکیں۔علی پرویز ملک نے بتایا کہ پاکستان دبئی اور عمان سے 90 فیصد تیل حاصل کرتا ہے وہاں کی منڈیوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا جبکہ ڈیزل تاریخ کی بلند ترین سطح 250 ڈالر فی بیرل سے زائد قیمت پر پہنچ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے کفایت شعاری، کابینہ تنخواہوں کی کٹوتی، دیگر اقدامات سمیت ترقیاتی فنڈز کو روکا تاکہ عوام کو ریلیف ملے اور عام آدمی مہنگائی سے بچ سکے، یکم مارچ سے آج تک حکومت 129 ارب روپے عوام پر خرچ کرچکی ہے۔وزیرپیٹرولیم نے کہا کہ بہت سے ممالک امیر اور اُن کے پاس ذخائر ہیں مگر وہاں توانائی کی ایمرجنسی نافذ ہے جبکہ پمپس پر پولیس یا مسلح افواج موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عوام کی تکلیف کا احساس ہے مگر عالمی معاہدوں اور معاشی صورت حال کی وجہ سے پیسے بڑھانا ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی زیر صدارت اہم بیٹھک ہوئی جس میں وزرائے اعلیٰ، فوجی قیادت موجود تھی اور اس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل میں عالمی منڈیوں کے ریٹ پر سب کو مزید ریلیف نہیں دیا جاسکتا ورنہ پاکستان پرانے راستے پر چل پڑے گا مگر عوامی مشکلات کو دیکھتے ہوئے اب صرف مخصوص صارفین کو ریلیف دینا ہوگا۔وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت نے موٹرسائیکل والوں کیلیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی مقرر کی ہے اور ہر ماہ 20 لیٹر پیٹرول سبسڈی پر دیا جائے گا جبکہ اس کا اطلاق تین ماہ کیلیے ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ چھوٹے ذمینداروں کیلیے فصل کی کٹائی کے وقت 1500 روپے ایک بار سبسڈی دی جائے گی جبکہ انٹر سٹی مسافر گاڑیوں اور مال بردار گاڑیوں کیلیے 100 روپے فی لیٹر، مال بردار ٹرک کیلیے ماہانہ 70 ہزار روپے، بڑی مال بردار گاڑیوں کیلیے 80 ہزار روپے، مسافر بسوں کیلیے ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی مقرر کی گئی ہے۔وزیرخزانہ نے بتایا کہ حکومت ایک ماہ بعد سبسڈی کے حوالے سے پھر نظر ثانی کرے گی، ریلوے کو بھی سبسڈی دی جائے گی جس کا فائدہ لوئر کلاس کے مسافروں کو ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ مارکیٹیں دن کے اوقات میں کھلیں گی تاکہ بجلی کی کھپت اور ایندھن کو بچایا جائے، مارکیٹ کے اوقات صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کر کے اگلے ہفتے تک طے کرلیے جائیں گے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز توہین آمیز فحش مواد سے متعلق رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کردی۔قومی اسمبلی میں این سی سی آئی اے کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا ٹک ٹاک پر توہین آمیز فحش مواد کی روک تھام کیلئے اقدامات جاری ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال سائبر ہراسگی پر545، نفرت انگیز تقریروں پر 322، جعلی معلومات دینے پر 187،بچوں سے زیادتی پر 58 مقدمات کا اندراج کیا گیا ۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 360 خواتین 110مرد سائبر ہراسمنٹ کا شکار ہوئیں جبکہ نفرت انگیز تقاریر پر 42 خواتین،273مرد متاثر ہوئے، اسی کے ساتھ غلط معلومات کی فراہمی سے 21 خواتی ن180 مرد متاثر ہوئے۔این سی سی آئی اے نے رپورٹ میں بتایا کہ توہین آمیز مواد پر 600 سے زائد یو آر ایلز بلاک کیے گئے جبکہ 435 شکایات درج کی گئی جن میں سے 98 کی انکوائریز اور 42 مقدمات درج ہوئے جبکہ توہین آمیز فحش مواد پر 73 افراد کو گرفتار کیا گیا، عدالتوں میں 3 افراد کو سزائیں دی۔پی ٹی اے نے بتایا کہ ایک سال کے دوران 15 لاکھ غیر قانونی یو آر ایلز کے خلاف کاروائی کی، 65 لاکھ فحش مواد کی ڈومینز کوڈبلیو ایم ایس کے ذریعے بلاک کیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایچ ٹی ٹی پی ایس ویب سائٹس کو مکمل بلاک کرنے کے لیے ڈبلیو ایم ایس سسٹم فعال کردیا گیا ہے

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے پاکستان کا مجموعی قرضہ 81 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے اور ہر شہری تقریباً 3 لاکھ 25 ہزار روپے کا مقروض ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امورکا اجلاس منعقد ہوا۔اقتصادی امور ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کے ذمے مجموعی قرضہ 81 ہزار ارب روپے سے زیادہ ہے جس میں مقامی قرضے کی مالیت 55 ہزار ارب روپے سے زائد ہے جب کہ بیرونی قرضوں کا حجم 26 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔حکام نے بتایا کہ پاکستان کے قرضوں میں اضافے کی بڑی وجہ مالی خسارہ ہے، مالی خسارہ پورا کرنے کے لیے قرضہ لینا پڑتا ہے، روپے کی قدر گرنے سے بھی قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے۔کمیٹی نے معاشی پالیسیوں کا ذمہ دار پارلیمنٹ کو قرار دینے پر تحفظات کا اظہار کیا، چیئرمین کمیٹی کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک پارلیمنٹ سے بل پاس کراکر ملک کی دھجیاں اڑا رہا ہے، اگلے اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے 300 ارب روپے کا قرضہ لیا، قرضہ استعمال نہیں ہوا مگر صوبائی حکومت سود ادا کررہی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران امریکا جنگ میں پاکستان کی جانب سے کامیاب سفارت کاری کے خلاف بھارتی پروپیگنڈے کا سلسلہ جاری ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ جنگ کے خاتمے پر بات چیت کی گئی ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مسلم امت کا اتحاد ضروری ہے۔ 4 وزرائے خارجہ نے ایران امریکہ کے اسلام آباد میں مذاکرات کی سپورٹ کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے فعال سفارتکاری جاری رہی۔ پاکستان ،سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد میں بیٹھک ہوئی۔ 4 فریقی اجلاس کا یہ دوسرا دور تھا۔ اس سے قبل ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ نے اسحاق ڈار کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کی تھیں۔ترجمان کے مطابق ان وزرائے خارجہ نے وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقاتیں کیں۔ اس کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی بات چیت ہوئی۔دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے۔ اسحاق ڈار نے اس بارے میں سوشل میڈیا پر بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے اس اقدام کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔علاوہ ازیں اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ کی دعوت پر دورہ چین کیا۔ پاکستان اور چین نے ایران امریکا جنگ کے خاتمے کے لیے 5 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بات چیت چین میں ہورہی ہے۔ پاکستان نے اپنا وفد چین کے شہر ارومچی بھیجا ہے۔ وفد بھیجنے کا مقصد ہے کہ افغانستان کے اندر سے دہشتگردی بند کی جائے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں۔ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ترجمان کے مطابق پاکستانی وفد ابھی چین میں بات چیت کے لیے موجود ہے، واپس نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کبھی بھی مذاکرات سے نہیں بھاگا۔ ہم افغانستان کے معاملے پر چین کے ساتھ بھی انگیج ہیں۔میڈیا بریفنگ میں طاہر انداربی کا کہنا تھا کہ ایران امریکا جنگ میں پاکستان کی سفارت کاری پر ہندوستان سے فیک نیوز کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی وزرات خارجہ کے ترجمان سے منسوب بیان کو بھی غلط پیش کیا گیا ہے۔ بعد میں ایرانی وزارت خارجہ سے وضاحت جاری ہوئی۔ ان فیک نیوز والوں اور جھوٹ بولنے والوں سے ہوشیار رہیں

وفاقی حکومت نے صوبوں سے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی میں حصہ ڈالنے کا مطالبہ کردیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، اجلاس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلی اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے شرکت کی، وزیراعظم آزاد کشمیر بھی اجلاس میں شریک ہوئے، اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں توانائی کے ممکنہ بحران پر غور کیا گیا جب کہ اجلاس میں حکومت کے کفایت شعاری اقدامات اور توانائی کی بچت سے متعلق مجوزہ اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اہم معاملات زیر غور آئے جب کہ وفاقی حکومت نے صوبوں سے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی میں حصہ ڈالنے کا مطالبہ کیا۔ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا مکمل بوجھ صارفین پر منتقل کرنے پر بھی غور کیا گیا۔قبل ازیں بلاول بھٹو زرداری وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے ہمراہ وزیراعظم ہاؤس پہنچے، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔