وفاقی حکومت نے معاہدے کے برعکس سولر سسٹم سے بجلی بنانے والے صارفین کے لیے بلنگ کے طریقہ کار میں ترمیم کر دی ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں اضافی بجلی کو ’صفر‘ یونٹ ڈکلیئر کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کے ساتھ ہی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے صارفین کے کنکشن پر ’ایکسپورٹ ایم ڈی آئی چیک‘ نافذالعمل کر دیا گیا ہے۔
نئے طریقہ کار کے تحت اس چیک کے نفاذ کے بعد اضافی پینلز سے بننے والی بجلی پر دیا جانے والا ریلیف مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
حکومتی فیصلے کے مطابق اضافی بجلی سسٹم پر شامل تو ہو جائے گی، تاہم نیٹ میٹرنگ پالیسی کے تحت اس پر کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا جائے گا۔
حکومت کی جانب سے ایکسپورٹ ایم ڈی آئی ریڈنگ کی بنیاد پر اضافی جنریشن پر ریلیف بند کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی منظور شدہ جنریشن لائسنس سے زیادہ پینلز لگانے کی صورت میں ایکسپورٹ یونٹس پر بھی ریلیف ختم کر دیا گیا ہے۔
ارومچی میں پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان ایک اہم (سہ فریقی) اجلاس منعقد ہوا جس میں علاقائی امن و استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے دوران چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد سازی اور تعلقات کی بہتری کے لیے ثالثی کا کردار ادا کیا۔چینی حکام نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور تعاون بڑھانے پر زور دیتے ہوئے اس بات کی اہمیت اجاگر کی کہ خطے میں ہم آہنگی اور مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے مثبت اقدامات ناگزیر ہیں۔اجلاس میں سیکیورٹی، سرحدی معاملات اور اقتصادی روابط سمیت اہم امور زیر غور آئے جبکہ شرکا نے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیا۔سہ فریقی ملاقات خطے میں استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
ملکی سطح پر تیل و گیس کے شعبے سے اچھی خبر سامنے آئی ہے جب کہ وزیرستان بلاک میں اسپن وام-1 کنویں سے گیس اور کنڈینسیٹ کی پیداوار شروع ہوگئی۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اسپن وام-1 منصوبے کا افتتاح کر دیا، ماڑی انرجیز نے کہا کہ اسپن وام-1 دریافت سے پاکستان کی توانائی سکیورٹی مضبوط ہوگی،اسپن وام-1 سے ابتدائی پیداوار 40 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس حاصل ہوگی۔
وزیرستان بلاک سے مجموعی گیس فراہمی تقریباً 100 ایم ایم ایس سی ایف ڈی تک پہنچ گئی، وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں قابلِ تحسین ہیں۔
ماڑی انرجیز نے کہا کہ شیوا-1 اور اسپن وام-1 کو قومی گیس گرڈ سے منسلک کر دیا گیا، مقامی ہائیڈروکاربن وسائل کی ترقی سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا۔
منصوبہ ماڑی انرجیز، او جی ڈی سی ایل اور اورینٹ پیٹرولیم پر مشتمل جوائنٹ وینچر ہے، ماڑی انرجیز کے مطابق وزیرستان میں مزید تلاش و پیداوار کے منصوبوں کی توقع ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران جنگ سے نکلنے کے بیان کے بعد آج پاکستان سمیت دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس میں کاروبار کے دوران تیزی دیکھی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس 7461.58 پوائنٹس اضافے سے 156,204.89 پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔انڈیکس میں 4944 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، ہنڈریڈ انڈیکس نے پانچ حدیں حاصل کرلیں۔ انڈیکس 1 لاکھ 53 ہزار 687 پر دیکھا گیا۔ گذشتہ روز مارکیٹ 148,743 پر بند ہوئی۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری سرگرمیاں ایک گھنٹے کے لیے معطل کردی گئیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے باعث گزشتہ روز نیویارک کی ڈاؤ جونز میں بھی مثبت تیزی دیکھی گئی تھی اور ڈاؤ جونز 2 اعشاریہ 49 فیصد اضافے پر بند ہوا تھا۔اس کے علاوہ ایشیائی مارکیٹ میں بھی کاروبار کے دوران بہت تیزی دیکھنے میں آئی، جاپان کے نکئی میں 9 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا، ہینگ سینگ، نفٹی ففٹی اور یورپی مارکیٹس میں بھی مثبت رجحان دیکھا گیا۔
عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں آج بڑا اضافہ ہوگیا جبکہ چاندی کے نرخ بھی بڑھ گئے۔
تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں 153 ڈالر کے اضافے سے فی اونس سونا 4713 ڈالر اور فی اونس چاندی کی قیمت 75 ڈالر ہوگئی۔
عالمی مارکیٹ میں اضافے سے سونا 15 ہزار 300 روپے مہنگا ہونے کے سبب فی تولہ سونا 4لاکھ 94 ہزار 62 روپے پر پہنچ گیا جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 13 ہزار 117 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 23 ہزار 578 روپے ہوگئی۔
فی تولہ چاندی 200 روپے کے اضافے سے 7 ہزار984 روپے پر پہنچ گئی جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 171 روپے بڑھ کر 6ہزار 844 روپے ہوگئی۔
حکومت نے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے کے لیے گندم کے بعد شوگر سیکٹر کو بھی ڈی ریگولیٹ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ڈی ریگولائزیشن پلان تیار کرکے منظوری کے لیے وزیراعظم کو پیش کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق شوگر ملز کے لائسنس، امپورٹ اور ایکسپورٹ سمیت ہر شعبہ ڈی ریگولیٹ ہوگا، شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے پر پنجاب، کے پی، بلوچستان نے آمادگی ظاہر کردی ہے سندھ کی سفارشات موصول ہونا باقی ہیں۔وزارت صنعت و پیداوار کے پیش کردہ پلان میں کسانوں کے تحفظ اور کارٹلائزیشن کی روک تھام کیلئے ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کی تجویز شامل ہے، کسانوں کو گنا کاشت کرنے کی مکمل آزادی ہوگی، کسی زون یا اقسام کی پابندی نہیں ہوگی،کسان کسی بھی شوگر مل کو گنا فروخت کرنے یا گڑ بنانے میں آزاد ہوگا۔گنے کی قیمت کا تعین مارکیٹ کرے گی، آٹھ ماہ بند رہنے والی شوگر ملز باہر سے خام مال منگوا کر چینی بنا سکیں گی۔ حکومت چینی کی برآمد پر کوئی سبسڈی نہیں دے گی ملک میں نئی شوگر مل لگانے پر پابندی بھی ختم کر دی جائے گی۔کسانوں کو نقصان کے لیے ممنوعہ گنے کی اقسام کی فہرست بوائی سے قبل جاری کرنے کی تجویز ہے، شوگر ملز کو باہر سے خام مال منگوا کر چینی تیار کر کے برآمد کرنے کی اجازت ہوگی۔
پشاور کے علاقہ یو نیورسٹی ٹاؤن میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے یورولوجسٹ ڈاکٹر آصف زخمی ہوگئے،مجروح کو گھر کے قریب فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا،ڈاکٹر آصف اپنی گاڑی میں جارہے تھے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی ،وہ سابق سی سی پی پشاور ملک سعد شہید کے چچا زاد بھائی ہیں،واضح رہے خیبر پختونخوا میں حالیہ دنوں میں ڈاکٹروں پر فائرنگ کے تین واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جس ڈاکٹروں میں بے چینی پائی جارہی ہے
خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خدشہ، پی ڈی ایم اے نے متعلقہ 5 حساس اضلاع کی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق چترال اپر، چترال لوئر، دیر اپر، سوات اور کوہستان اپر میں موسمی صورتحال کے پیش نظر گلیشیئرز پگھلنے کا امکان ہے۔ شدید بارشوں کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے واقعات کا خدشہ ہے۔
ترجمان کے مطابق پی ڈی ایم اے کی جانب سے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات اور پیشگی تیاریوں کی ہدایات جاری کر دی گئی جبکہ ضلعی انتظامیہ کو حساس گلیشیائی مقامات کی مسلسل نگرانی اور فوری وارننگ سسٹم فعال رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
اسی طرح، متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو خطرے سے دوچار علاقوں میں انخلاء سے متعلق مشقیں کروانے کی ہدایت بھی کی گئی ہےجبکہ محفوظ مقامات پر انخلاء مراکز کو مکمل طور پر فعال اور سہولیات سے لیس رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو فوری طور پر الرٹ رہنے اور مقامی آبادی کو ممکنہ خطرات سے پیشگی آگاہ کرنے کی ہدایت جاری کی ہے جبکہ ریسکیو اور ایمرجنسی سروسز کے عملے کو ہر وقت تیار رہنے کی ہدایت بھی کر دی گئی ہے۔
گرمیوں میں ٹھنڈا میٹھا تربوز دیکھتے ہی دل خوش ہو جاتا ہے، مگر اکثر لوگوں کو اس پر چٹکی بھر نمک چھڑکتے بھی دیکھا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی عادت لگتی ہے، لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے ایک دلچسپ سائنسی راز پوشیدہ ہے جو ذائقے کو بھی بہتر بناتا ہے اور صحت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق نمک صرف کھانے کو نمکین بنانے کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ اس کی معمولی مقدار زبان پر موجود میٹھاس کے خلیات کو زیادہ متحرک کر دیتی ہے۔ جب نمک کے کلورائیڈ آئنز تربوز کی قدرتی شکر کے ساتھ ملتے ہیں تو مٹھاس مزید ابھر کر سامنے آتی ہے، یوں بغیر کسی اضافی چینی کے تربوز کا ذائقہ زیادہ بھرپور محسوس ہوتا ہے۔تربوز چونکہ پانی سے بھرپور پھل ہے، اس لیے یہ جسم کو ٹھنڈک اور ہائیڈریشن فراہم کرتا ہے، مگر گرمی میں پسینے کے ذریعے جسم سے نمکیات بھی خارج ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں تربوز پر ہلکا سا نمک چھڑکنا نہ صرف ذائقے کو بڑھاتا ہے بلکہ جسم میں سوڈیم کی کمی کو بھی کسی حد تک پورا کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے توانائی برقرار رہتی ہے۔کبھی کبھار تربوز پوری طرح میٹھا نہیں ہوتا یا اس کا ذائقہ پھیکا محسوس ہوتا ہے، ایسے میں نمک ایک قدرتی ’’فلیور بیلنسر‘‘ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ پھل کے ذائقے کو متوازن کر کے اسے مزید خوشگوار بنا دیتا ہے، گویا ہر نوالہ پہلے سے زیادہ لذیذ ہو جاتا ہے۔مزید یہ کہ نمک کی معمولی مقدار ہاضمے کے عمل کو بھی بہتر بنا سکتی ہے، کیونکہ یہ معدے میں رطوبتوں کو متحرک کرتی ہے۔ اگرچہ تربوز ویسے بھی جلد ہضم ہو جاتا ہے، لیکن نمک اس عمل کو مزید آسان بنا دیتا ہے۔تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نمک کا استعمال ہمیشہ اعتدال میں ہونا چاہیے۔ زیادہ نمک نہ صرف تربوز کے اصل ذائقے کو دبا سکتا ہے بلکہ بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایک چٹکی نمک، یا چاہیں تو تھوڑا سا کالا نمک اور لیموں کا رس، اس سادہ سے پھل کو ایک منفرد اور مزیدار تجربے میں بدل سکتا ہے۔یوں دیکھا جائے تو تربوز پر نمک چھڑکنا محض ایک روایت نہیں بلکہ ذائقے، صحت اور سائنسی اصولوں کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔
خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے 13 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 30 مارچ 2026ء کو خیبرپختونخوا میں 2 مختلف کارروائیوں کے دوران بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 13 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
ترجمان کے مطابق خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے خیبر ضلع کے علاقے باڑہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا اور اس دوران فورسز نے مؤثر انداز میں خوارج کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا، جس میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 10 خوارج کو ہلاک کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ضلع بنوں میں کیا گیا، جہاں فائرنگ کے تبادلے میں مزید 3 خوارج دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں کسی بھی ممکنہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے خوارج دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری سے جاری آپریشن عزمِ استحکام کے تحت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری رکھیں گے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں 13 خارجیوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ فورسز نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے بنوں اور باڑہ میں دہشتگردوں کو جہنم رسید کیا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہیں۔ حکومت پاکستان ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہے۔










