وائٹ ہاؤس کی حالیہ پریس بریفنگ کے دوران ایسا اشارہ دیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عرب ممالک سے امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے کہ سکتے ہیں۔
ٹرمپ کی ترجمان کیرولین لیویٹ سے پیر کے روز پریس بریفنگ کے دوران یہ سوال کیا گیا کہ ’کیا عرب ممالک کو جنگ کے اخراجات ادا کرنے چاہئیں جیسا کہ سنہ 1990 کی خلیجی جنگ کے دوران امریکہ کے اتحادیوں نے واشنگٹن کی مداخلت کے لیے مالی معاونت کی تھی۔‘
لیویٹ نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ یہ ایک ایسی بات ہے جس کے لیے صدر انھیں کہنے میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اس معاملے میں ان سے آگے نہیں بڑھوں گی، لیکن یقیناً یہ ایک ایسی بات ہے کہ جس کے بارے میں مُجھے علم ہے کہ اُن (امریکی صدر) کے ذہن میں ہے اور مجھے لگتا ہے کہ آپ اس بارے میں ان کی طرف سے مزید سنیں گے۔‘

ساتھ ہی امریکی وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کا اصرار ہے کہ امن مذاکرات جاری ہیں، اگرچہ ایرانی حکام اس سے انکار کرتے ہیں۔
کیرولین لیویٹ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ اب تک ایران میں 11000 سے زیادہ فوجی اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے۔
لیویٹ نے مزید یہ بھی کہا کہ ’صدر ٹرمپ نے ایران میں فوج بھیجنے کے امکان کو رد نہیں کیا، تاہم سفارت کاری اب بھی اُن کی پہلی ترجیح ہے۔‘

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران United Arab Emirates اور Bahrain نے ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کے دعوے کیے ہیں، جس سے خطے میں سیکیورٹی صورتحال مزید حساس ہوگئی ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک نے ایران کی جانب سے داغے گئے 11 میزائل اور 27 ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک یو اے ای کی دفاعی افواج مجموعی طور پر 1941 ڈرونز اور 440 میزائلوں کو ناکارہ بنا چکی ہیں۔
سرکاری بیان میں مزید بتایا گیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں اب تک 178 افراد زخمی جبکہ آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم فوری دفاعی کارروائیوں کے باعث بڑے پیمانے پر نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
دوسری جانب بحرین کی دفاعی فورس نے بھی اسی نوعیت کے دعوے کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں آٹھ میزائل اور سات ڈرونز کو تباہ کیا۔ بحرینی حکام کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک وہ مجموعی طور پر 182 میزائل اور 398 ڈرونز کو روکنے میں کامیاب رہے ہیں۔
علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت اس بڑے تنازع کا حصہ ہے جو Iran اور Israel کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث شدت اختیار کر چکا ہے، جبکہ United States کی خطے میں موجودگی بھی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران ان ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے جہاں امریکی افواج یا ان کے اڈے موجود ہیں، جس کے نتیجے میں خلیجی ریاستیں براہِ راست اس تنازع کے اثرات کا سامنا کر رہی ہیں

آسٹریلیا نے چند ماہ پہلے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی۔
اس کے بعد سے دنیا کے مختلف ممالک میں اس طرح کی تجاویز سامنے آئی تھیں اور اب ایک یورپی ملک میں ایسا کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
آسٹریا کی جانب سے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کی رسائی ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
آسٹرین حکومت کی جانب سے جاری بیان میں ایک نئے بل کا اعلان کیا گیا جسے جون 2026 کے آخر تک متعارف کرایا جائے گا۔
اس قانون کے تحت 14 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ اس قانون کا مقصد آن لائن 14 سال سے کم عمر بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
اس بل میں اسکولوں میں میڈیا کے حوالے سے آگاہی کے مضمون کو متعارف کرانے کی شق بھی شامل کی جائے گی تاکہ بچے آن لائن گمراہ کن تفصیلات کو شناخت کرسکیں۔
آسٹرین حکومت کے مطابق یہ اقدامات اس لیے کیے جا رہے ہیں کیونکہ سوشل میڈیا پر بچوں کو توہین آمیز رویے کا سامنا ہوتا ہے جبکہ دماغی صحت کے مسائل بھی عام ہو رہے ہیں۔
اس بیان میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں اور یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ عمر کی تصدیق کے لیے کیا طریقہ کار اپنایا جائے گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ امریکا ایران میں اپنی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک نئی اور زیادہ معقول حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے جس میں بڑی پیش رفت ہوچکی ہے۔
ٹرمپ نے لکھا کہ غالب امکان ہے کہ ایران امریکا کا معاہدہ ہوجائے گا لیکن اگر کسی بھی وجہ سے جلد معاہدہ نہ ہوسکا اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کاروبار کے لیے نہ کھولا گیا تو ہم ایران میں اپنے ’’قیام‘‘ کا اختتام ان کے تمام بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس، تیل کے کنوؤں اور خارگ جزیرے (اور ممکنہ طور پر تمام ڈی سیلینیشن پلانٹس) کو اڑا کر اور مکمل طور پر تباہ کر کے کریں گے جنہیں ہم نے جان بوجھ کر اب تک نہیں چھیڑا۔امریکی صدر نے مزید لکھا کہ یہ کارروائی ہمارے ان متعدد فوجیوں اور دیگر افراد کے بدلے میں ہوگی جنہیں ایران نے سابقہ حکومت کے 47 سالہ ’’دورِ دہشت‘‘ میں قتل کیا اور ہلاک کیا۔
عرب میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس بجلی گھر کو تباہ کریں گے تاہم خدشہ ہے کہ جو بھی سب سے بڑا بجلی گھر ہے پہلے وہ تباہ کیا جائے گا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ 31 دن میں داخل ہوچکی ہے اور کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایرانی قیادت نے امریکا پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کا سنگین الزام عائد کر دیا ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں میں بھی شدت آ گئی ہے۔
ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا بظاہر مذاکرات کی بات کر رہا ہے لیکن پس پردہ زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی افواج نے ایران میں داخل ہونے کی کوشش کی تو سخت جواب دیا جائے گا۔
ادھر ایران کے دارالحکومت تہران اور اس کے گرد و نواح میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس کی وجہ توانائی کے مراکز پر حملے بتائی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق صورتحال کو بتدریج بحال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں میں درجنوں حملے کیے، جن میں اسلحہ سازی اور تحقیقاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کی وزارت صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ہزاروں افراد جاں بحق ہو چکےہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی بھی شامل ہے۔
وسطی شہر اصفہان میں ایک یونیورسٹی پر بھی دوبارہ حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں عملے کے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اس سے قبل بھی تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اب تک سینکڑوں تعلیمی ادارے متاثر ہو چکے ہیں اور بڑی تعداد میں طلبہ اور اساتذہ جاں بحق یا زخمی ہوئے ہیں، جس پر عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ایران نے اسرائیل پر میزائل حملے تیز کر دیے ہیں، جبکہ لبنان سے حزب اللہ نے بھی شمالی اسرائیل پر راکٹ داغے، جس سے متعدد شہروں میں سائرن بج اٹھے۔
اسرائیل کے جنوبی صنعتی علاقوں میں بھی حملوں کی اطلاعات ہیں، جہاں ایک فیکٹری کو نقصان پہنچا جبکہ بعض علاقوں میں لوگ زخمی ہوئے۔ شمالی شہر حیفہ میں بھی میزائلوں کے ملبے گرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
خلیجی ممالک میں بھی خطرے کی صورتحال برقرار ہے، جہاں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے متعدد ڈرونز اور میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ کویت اور بحرین میں سائرن بجائے گئے۔
اسی دوران پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے اسلام آباد میں اہم اجلاس کیا، جس میں جنگ کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے، جس میں اب یمن کے حوثی گروپ بھی شامل ہو چکے ہیں، اور اس صورتحال سے عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

امریکی نیوز چینل سی این این کی ٹیم پر مبینہ حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے بڑا اقدام کرتے ہوئے پوری فوجی بٹالین کو معطل کر دیا ہے۔
اسرائیلی آرمی چیف ایال زمیر نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مغربی کنارے میں تعینات ایک مکمل فوجی بٹالین کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کی اطلاعات عالمی سطح پر سامنے آئیں۔
رپورٹس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب سی این این کی ٹیم مغربی کنارے میں ایک فلسطینی گاؤں میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مبینہ زمین پر قبضے کی کوریج کر رہی تھی۔ اسی دوران اسرائیلی فوجیوں نے ٹیم کو حراست میں لے لیا۔
صحافیوں کا مؤقف ہے کہ دورانِ حراست ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، ایک فوٹو جرنلسٹ کا گلا دبایا گیا اور اس کا کیمرہ بھی توڑ دیا گیا۔ بعد ازاں تقریباً دو گھنٹے بعد صحافیوں کو رہا کر دیا گیا۔
واقعے کے بعد عالمی صحافتی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ جنگی اور کشیدہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے بٹالین کی معطلی کو ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے جنگ کے جواز کے لیے مذہب کے استعمال کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خدا کے نام پر کی جانے والی جنگیں ناقابل قبول ہیں۔
سینٹ پیٹرز اسکوائر میں پام سنڈے کی دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ جو لوگ جنگ کو مذہب کے نام پر درست قرار دیتے ہیں، وہ درحقیقت انسانیت کے اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’جنگ کرنے والوں کی دعائیں خدا نہیں سنتا‘، اور مذہب کو تشدد یا تباہی کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
پوپ لیو نے اپنے خطاب میں تمام فریقین سے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی، اور کہا کہ مسائل کا حل طاقت کے بجائے مکالمے اور امن میں ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران سے متعلق جاری جنگ میں شامل مختلف فریقین کے بعض رہنما اپنے اقدامات کو مذہبی بنیادوں پر جائز قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جس پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پوپ لیو کا بیان ایک اہم اخلاقی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ مذہب کو جنگ اور تصادم کے لیے استعمال کرنے کے بجائے امن اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران مطالبات ماننے کے قریب ہے۔ مگر امریکی حکام کی جانب سے متعدد بریفنگز بھی سامنے آئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج مبینہ طور پر زمینی کارروائی کے لیے تیار ہے۔
خطے میں اس وقت ہزاروں امریکی میرینز موجود ہیں، جبکہ خصوصی دستے اور پیرا ٹروپرز بھی پہنچ رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ یہ تاثر دے رہی ہے کہ صدر جزیرہ خارگ پر زمینی کارروائی یا یورینیئم ضبط کرنے کے آپریشنز پر غور کر رہے ہیں۔
گذشتہ رات ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران یہ مواد حوالے کرنے کے لیے تیار ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اس کے پاس ’ملک ہی نہیں بچے گا۔‘
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ٹرمپ مذاکرات کی بات کو زمینی حملے کی تیاری چھپانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے بقول ایران سرینڈر قبول نہیں کرے گا اور اس کے جوان امریکی فوجیوں کے ’انتظار میں ہیں۔‘

امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں شدت آ گئی ہے جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان نے تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ ایران کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا ہے حالانکہ واشنگٹن کی جانب سے بظاہر مذاکرات کی بات بھی کی جا رہی ہے۔ اس متضاد صورتحال نے خطے میں بے یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
خلیجی ریاست کویت نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی حملے میں ایک پاور اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی کارکن ہلاک ہو گیا۔ اس کے علاوہ مختلف خلیجی ممالک نے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایران کے شہر تبریز میں ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنایا، جبکہ تہران کے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ اس کے جواب میں ایرانی افواج نے جنوبی اسرائیل کے ایک صنعتی علاقے کو نشانہ بنایا، جہاں آگ لگنے اور کیمیائی اخراج کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ادھر اسرائیل نے یمن سے داغے گئے دو ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ اقوام متحدہ نے جنوبی لبنان میں ایک امن اہلکار کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔
اسی دوران پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ہوا، جس میں تمام ممالک نے جنگ میں کمی لانے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری یہ کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور امن و استحکام کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے

ایران کے شمال مغربی شہر تبریز میں ایک اہم پیٹروکیمیکل پلانٹ پر مبینہ طور پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد علاقے میں شدید تشویش کی فضا قائم ہو گئی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں تبریز پیٹروکیمیکل کمپنی کے ایک یونٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں فوری طور پر ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی۔ واقعے کے بعد ریسکیو اور ایمرجنسی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے سمیت صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے کارروائیاں شروع کر دیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے کے باوجود کسی خطرناک یا زہریلے مادے کے اخراج کی تصدیق نہیں ہوئی، جس سے بڑے پیمانے پر ماحولیاتی نقصان کا خدشہ وقتی طور پر ٹل گیا ہے۔ تاہم علاقے میں حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی ادارے واقعے کی نوعیت اور اس کے محرکات کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ حملے کے ممکنہ اثرات اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل بھی جاری ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر اس پیش رفت پر ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔