اس سے پہلے ہم نے امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس کے حوالے سے بتایا تھا کہ سعودی ایئر بیس پر حملے میں 10 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم اب امریکی میڈیا کے مطابق اس حملوں میں کم از کم 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔
امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کے مطابق کم از کم دو فوجی بہت شدید زخمی ہیں اور یہ حملہ اُس وقت ہوا جب وہ یہ فوجی سعودی ایئر بیس میں ایک عمارت کے اندر موجود تھے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 30 مارچ کو ایک اہم سفارتی اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے جس میں ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کی صدارت نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کریں گے جبکہ اس اہم اجلاس میں علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے ایجنڈے میں خطے کی موجودہ صورتحال اور درپیش مشترکہ چیلنجز سرفہرست ہوں گے جن پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اس اعلیٰ سطح اجلاس سے خطے میں تعاون کے فروغ اور اہم معاملات پر مثبت پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی قوم سے خطاب میں کہا کہ پاکستان دو محاذوں پر اہم کردار ادا کررہا ہے، وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں قیام امن کے لیے اپنا سفارتی اور ثالث کا کردار ادا کررہا ہے، ہماری یہ کاوشیں اللہ کی رضا اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے ہیں۔
اسرائیل پر ایران نے کلسٹر بموں کی برسات کر دی جبکہ ایران نے کویت میں 6 امریکی بحری جہاز تباہ کرنے اور دبئی میں کئی امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت کی الشویخ بندرگاہ پر امریکا کے 6 ٹیکٹیکل بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے 3 سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3 میں آگ بھڑک اٹھی۔
روسی میڈیا کے مطابق ایرانی حملوں کے باعث اسرائیلی دارالحکومت میں خوف و ہراس پھیل گیا اور متعدد علاقوں میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی۔ ایران کی جانب سے تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے، لوگ شیلٹرز میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ پاسداران انقلاب کے مطابق وعدہ صادق 4 آپریشن کے تحت دشمن پر حملے کی 84 ویں لہر میں دبئی کے ساحل اور ایک ہوٹل میں امریکی اہلکاروں کو خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، دونوں حملوں میں کئی امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔ایرانی حکام نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے علاقے الخرج میں واقع پرنس سلطان ایئربیس کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں ری فیولنگ اور ایئر ٹرانسپورٹ فلیٹ کو ہدف بنایا گیا۔
غزہ کے علاقے مغازی پناہ گزین کیمپ میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی فورسز نے 21 ماہ کے جواد ابو نصار کو ان کے والد کے ساتھ اسرائیلی فورسز نے وسطی غزہ میں حراست میں لیا۔ بچے کو تقریباً 10 گھنٹے بعد ریڈ کراس کے ذریعے رہا کیا گیا۔
اسرائیلی فوج نے دوران حراست بچے کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ بچے کے جسم کو سگریٹ سے داغا گیا اور اس کے زخموں میں ناخن پیوست کیے گئے، جس کے باعث وہ شدید تکلیف میں مسلسل روتا رہا۔ اسرائیلی فوج نے بچے پر زیادتی کے الزامات کی تردید کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ان کا والد جو اب بھی لاپتہ ہے، حماس کا رکن تھا اور اس نے بچے کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ تاہم اسرائیلی فوج نے اس دعوے سے متعلق کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔
متحدہ عرب امارات میں شدید بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال ہے،سڑکیں اور نشیبی علاقے پانی میں ڈوبے گئے۔خلیجی میڈیا کےمطابق شارجہ دبئی اورشمالی علاقوں میں سب سے زیادہ بارش ہوئی،بعض علاقوں میں 47ملی میٹرتک بارش ریکارڈکی گئی،دبئی گلف کلب پانی میں ڈوب گیا،طوفانی بارشوں کے دوران متعدد باربرج خلیفہ پربجلی گرگئی۔متحدہ عرب امارات کےبعض علاقوں میں سیلاب کی وارننگ جاری کردی گئی،امدادی ادارے سڑکوں سے پانی نکالنے میں مصروف ہیں۔حکام نےاہم شاہراہوں پرحد رفتارکم کرکے 60 کلومیٹرفی گھنٹہ مقررکیا،محکمہ موسمیات کاکہنا ہےکہ طوفانی بادل العین اور الفجیرہ کی جانب بڑھ رہےہیں،شام تک موسم صاف ہونے کا امکان ہے۔
امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ پاکستان کے ذریعے ایران کے ساتھ مثبت اور مضبوط پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے، جو ممکنہ امن مذاکرات کے لیے اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
اپنے بیان میں اسٹیو وٹکوف نے بتایا کہ امریکا نے پاکستان کی خارجہ پالیسی ٹیم کے ساتھ مل کر 15 نکات پر مشتمل ایک ایکشن پلان تیار کیا جو ممکنہ امن معاہدے کے فریم ورک کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کو پاکستان نے بطور ثالث آگے بڑھایا اور ایران تک پہنچایا
انہوں نے کہا کہ اس 15 نکاتی ایکشن لسٹ کے ذریعے ایران کی جانب سے بھی مثبت ردعمل سامنے آیا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں کسی حد تک مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔ وٹکوف کے مطابق پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان کا ثالثی کردار اس کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت اور عالمی سطح پر اعتماد کی علامت ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب رہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔










