جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے نمائندے بہت جلد پاکستان میں ملاقات کرنے جا رہے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنا اور ممکنہ مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے۔جرمن ریڈیو کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان اب تک بالواسطہ رابطے جاری رہے ہیں، تاہم اب براہ راست ملاقات کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور یہ اہم ملاقات پاکستان میں متوقع ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف بھی تصدیق کر چکے ہیں کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان مثبت پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے،دوسری جانب پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر اطلاعات عطا تارڑ بھی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے راہ ہموار کر رہا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ ملاقات کامیاب ہوتی ہے تو یہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں بیلسٹک میزائل کے ملبے کے گرنے سے ایک پاکستانی شہری سمیت مزید دو افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق اماراتی فضائی دفاعی نظام نے آنے والے بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا، تاہم اس کا ملبہ ابوظبی کے علاقے سویجان میں جا گرا جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔ حادثے میں متعدد گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
امارات میں پاکستانی سفارتخانے نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں ایک پاکستانی شہری شامل ہے۔ سفارتخانے کی جانب سے متاثرہ خاندان سے اظہارِ تعزیت کیا گیا ہے اور یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ میت کو جلد پاکستان منتقل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق اس واقعے میں کم از کم تین افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔
حالیہ کشیدگی کے دوران امارات میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر 8 غیر ملکی شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ فضائی دفاعی نظام میزائل حملوں کو بڑی حد تک ناکام بنا رہا ہے، تاہم ملبہ گرنے جیسے واقعات شہری علاقوں کے لیے خطرہ بن رہے ہیں، جس سے خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ پاکستان کے ذریعے ایران کے ساتھ مثبت اور مضبوط پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے، جو ممکنہ امن مذاکرات کے لیے اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
اپنے بیان میں اسٹیو وٹکوف نے بتایا کہ امریکا نے پاکستان کی خارجہ پالیسی ٹیم کے ساتھ مل کر 15 نکات پر مشتمل ایک ایکشن پلان تیار کیا جو ممکنہ امن معاہدے کے فریم ورک کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کو پاکستان نے بطور ثالث آگے بڑھایا اور ایران تک پہنچایا
انہوں نے کہا کہ اس 15 نکاتی ایکشن لسٹ کے ذریعے ایران کی جانب سے بھی مثبت ردعمل سامنے آیا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں کسی حد تک مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔ وٹکوف کے مطابق پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان کا ثالثی کردار اس کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت اور عالمی سطح پر اعتماد کی علامت ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب رہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

ترک صدر رجب طیب اردگان نے ایران میں جاری جنگی صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں بہنے والے آنسو دنیا کے کسی بھی حصے میں بہنے والے مسلمانوں کے آنسوؤں سے مختلف نہیں ہیں۔
صدر اردوان نے مزید کہا کہ اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملوں نے پورے خطے کو شدید بحران میں مبتلا کر دیا ہے، اور یہ جنگ صرف ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ پر مرتب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترکی اپنے برادر ممالک کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑے گا اور ہر ممکن حمایت جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ جنگ کا آغاز کسی ایک فریق کی جانب سے ہوا ہو، لیکن اس کی قیمت سب سے زیادہ عام شہری اور پوری انسانیت ادا کر رہی ہے۔
تہران: ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے چند لمحے قبل لی گئی تصویر ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری کر دی گئی ہے، جس میں انہیں قرآن پاک پڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تصویر سی سی ٹی وی کیمرے سے لی گئی تھی اور آیت اللہ خامنہ ای کے آخری لمحات کی عکاسی کرتی ہے۔ ایران میں ان کی شہادت نے سیاسی اور عوامی سطح پر گہرے صدمے کی لہر دوڑا دی ہے۔
واضح رہے کہ آیت اللہ خامنہ ای 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے تھے۔ ان کی وفات کے بعد ایران میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور عوامی سطح پر سوگ منایا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان کی شہادت سے خطے میں سیاسی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے اس تصویر کو عوام تک پہنچا کر ان کے آخری لمحات میں عبادت اور روحانی مصروفیات کو اجاگر کیا ہے، جس سے ان کی وفاداری اور مذہبی خدمات کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے اور غیر متوقع مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں سفارتی محاذ پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کو 10 دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے ماہرین خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک بڑی کوشش قرار دے رہے ہیں
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ ایران کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان نہایت اہم اور مثبت نوعیت کے مذاکرات جاری ہیں، جن کے نتیجے میں کسی بڑے تصادم سے بچنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ پیش رفت سے قبل ایران نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی جزوی بحالی کی اجازت دی۔ اس اقدام کو امریکا کے لیے ایک مثبت اشارہ اور “اعتماد سازی” کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہی پیش رفت امریکی فیصلے کی بنیاد بنی، جس کے نتیجے میں حملوں میں عارضی مہلت دی گئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ ایسے میں ایران کی جانب سے نرمی اور امریکا کی طرف سے مہلت دینا ایک ممکنہ سفارتی پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔
تاہم، اس تمام صورتحال کے باوجود خطے میں غیر یقینی برقرار ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو یہ کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔ دوسری جانب عالمی برادری اس پیش رفت کو بغور دیکھ رہی ہے اور دونوں ممالک پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی مختلف تنازعات کا شکار ہے، اور کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔ اب سب کی نظریں آنے والے دنوں پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ 10 دن کی مہلت کسی مستقل حل کی طرف لے جاتی ہے یا محض ایک عارضی وقفہ ثابت ہوتی ہے۔

ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کردہ 15 نکاتی جنگ بندی منصوبے پر باضابطہ جواب دے دیا ہے اور اب واشنگٹن کے ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی حکام نے اس منصوبے کو یک طرفہ اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے، جسے زیادہ تر امریکی اور اسرائیلی مفادات کے مطابق ترتیب دیا گیا۔ ایرانی عہدیداروں کے مطابق یہ تجاویز پاکستان کے ذریعے تہران تک پہنچائی گئیں، اور ایران نے تفصیلی جائزے کے بعد اپنا مؤقف بھی پاکستان کے ذریعے امریکا تک منتقل کیا۔
ایران نے واضح کیا کہ مجوزہ تجاویز میں بنیادی تقاضوں کی کمی ہے اور موجودہ صورتحال میں باضابطہ مذاکرات کے لیے کوئی واضح فریم ورک موجود نہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے سے خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کے خدشات ہیں، اور امریکا کے ردعمل پر مستقبل کے مذاکرات کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔

ایران کے دارالحکومت تہران میں سیکیورٹی صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب شدید بمباری کی اطلاعات سامنے آئیں۔ تاہم خوش آئند امر یہ ہے کہ تمام پاکستانی سفارتی عملہ محفوظ رہا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق بمباری کا سلسلہ رات تقریباً 8 بجے شروع ہوا، جس کے دوران سفارتخانے کے اطراف میں وقفے وقفے سے زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ان دھماکوں کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارتخانے کے قریب ایرانی فوج کا ایک اہم مرکز ’ارتش‘ موجود ہے، جسے ممکنہ طور پر حملے کا ہدف بنایا گیا۔ دفاعی مبصرین کے مطابق اگر یہ دعویٰ درست ہے تو حملے کا مقصد کسی مخصوص فوجی تنصیب کو نشانہ بنانا ہو سکتا ہے، نہ کہ سفارتی مشنز کو۔
مزید اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں ایک حساس علاقے میں مقیم ہیں، جو پاسدارانِ انقلاب کے زیر انتظام بتایا جاتا ہے۔ اس علاقے میں بھی بمباری کی گئی، تاہم سفیر کی رہائشگاہ محفوظ رہی اور انہیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔
حکام کے مطابق صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور سفارتی عملے کی سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی حکام کی جانب سے ایرانی حکام سے بھی رابطہ کیا گیا ہے تاکہ واقعے کی نوعیت اور ممکنہ خطرات کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کی جا سکیں۔
عالمی سطح پر اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ سفارتی تنصیبات کے قریب اس نوعیت کی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تصور کی جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی اسی طرح برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ دیگر ممالک کے سفارتی تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
فی الحال صورتحال قابو میں بتائی جا رہی ہے، تاہم سیکیورٹی ادارے الرٹ ہیں اور مزید پیش رفت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

پاک افغان طورخم سرحد افغان مہاجرین کی واپسی کے لئے کھول دی گئی ، بارڈر بندش کے بعد لنڈی کوتل میںپھنسے35 ،افراد کوکلیرنس کرنے کے بعد طورخم کے راستے افغانستان روانہ کردیا گیا ہے اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ،مہاجرین کے قافلے کو پولیس سکیورٹی میں افغان سرحدطورخم تک پہنچایا گیا

حج 2026 کے سلسلے میں عازمین کے لیے پاک حج ایپ پر میڈیکل فارم بھرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔وزارتِ مذہبی امور نے پاک حج ایپ پر میڈیکل سوالنامہ جاری کر دیا۔ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق طبی سوال نامہ جمعہ تک مکمل کرنا ہوگا، امراض کے بارے میں ’’ہاں‘‘ یا ’’ناں‘‘ میں جواب دینا ہوگا۔ سوالنامہ عازمینِ حج کو مربوط طبی سہولیات کی مدد میں معاون ہوگا۔
سوالنامہ میں بلڈ پریشر، امراض قلب اور شوگر کے بارے میں دریافت کیا گیا ہے۔ دمہ، گنٹھیا اور تھائی رائیڈ کے بارے میں بھی فارم بھر کر بتانا ہوگا۔پاک حج موبائل اِیپ پر حج ویزا پرنٹ کرنے کا لنک بھی شامل کر دیا گیا۔ترجمان کے مطابق موبائل اِیپ پر حج پروازوں کا شیڈول بھی جاری کر دیا گیا۔ پاک حج ایپ پر مرحلہ وار نئی معلومات شامل کی جا رہی ہیں۔ عازمین حج اعلانات کے لیے پاک حج موبائل ایپ دیکھتے رہیں۔