امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون نے 3 ہزار فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق 82 ویں ایئربورن کمبیٹ بریگیڈ ایمرجنسی ریسپانس فورس ہے، اس بریگیڈ کو ڈویژن ہیڈکوارٹرز کے ساتھ تعینات کیا جاسکتا ہے۔
قبل ازیں ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا کہ امریکا کی ایران کے خلاف جنگ بلا رکاوٹ جاری ہے۔
فرانسیسی خبر ایجنسی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اہداف کے حصول کے لیے آپریشن بلا رکاوٹ جاری ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق کویت ائیرپورٹ پر ڈرون حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں ائیرپورٹ کے فیول ٹینک میں آگ لگ گئی۔
خبرایجنسی کے مطابق آگ پر قابوپانےکی کوششیں جاری جبکہ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کےساتھ ساتھ کویت،اردن،بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کونشانہ بنایا ہے۔
پاسداران انقلاب گارڈز کے مطابق اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا جس میٖں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان کی اطلاعات ہیں۔
ایران نے اعلان کیا ہے کہ ’غیر معاندانہ‘ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کی اجازت دی جائے گی، بشرطیکہ وہ ایران کے خلاف کسی جارحانہ کارروائی میں شامل نہ ہوں اور طے شدہ سکیورٹی ضوابط پر عمل کریں۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاز متعلقہ ایرانی حکام کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے ذریعے اس اہم آبی گزرگاہ سے گزر سکتے ہیں۔ تاہم ایران نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان ضوابط کی مکمل تفصیلات کیا ہوں گی۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد اس راستے پر جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جہاں جنگ سے پہلے روزانہ اوسطاً 120 جہاز اس راستے سے گزرتے تھے، اب یہ تعداد کم ہو کر چند جہازوں تک محدود ہو گئی ہے۔ پیر کے روز صرف 5 جہازوں کی نقل و حرکت ریکارڈ کی گئی، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی آئی ہے اور اگر آبنائے ہرمز عملی طور پر بند رہی تو تیل کی قیمت 150 سے 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، اگرچہ تہران اس سے قبل ایسے دعوؤں کی تردید کر چکا ہے۔
دوسری جانب ممکنہ امن معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی مارکیٹ میں کچھ بہتری بھی دیکھی گئی ہے، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں اضافہ ہوا جبکہ برنٹ کروڈ آئل کی قیمت میں بھی وقتی کمی ریکارڈ کی گئی۔
مائیگرین، جسے عام طور پر آدھے سر کا درد یا دردِ شقیقہ کہا جاتا ہے، وقفے وقفے سے شدید سر درد کی شکل میں بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق بروقت تشخیص نہ ہونے سے متاثرہ افراد مناسب علاج سے محروم رہ جاتے ہیں، اس لیے علامات ظاہر ہوتے ہی ڈاکٹر سے رجوع ضروری ہے۔
ماہرین نے گھریلو حل کے طور پر آئس کیوب کا طریقہ بتایا ہے۔ صبح اٹھنے کے بعد دو آئس کیوبز کانوں کے پیچھے چند لمحوں کے لیے رکھنے سے درد میں فوری سکون مل سکتا ہے۔ سر کے پچھلے حصے یعنی گدی پر آئس کیوب رکھنے سے بھی مائیگرین میں فوری آرام ممکن ہے، اور بعض اوقات دوا کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مائیگرین کے پیچھے جینیاتی عوامل، غذائی عادات، شدید تھکاوٹ، ذہنی دباؤ اور موسمی تبدیلیاں بھی کردار ادا کر سکتی ہیں، اور خواتین میں یہ مسئلہ زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ بعض غذاؤں جیسے پنیر، چاکلیٹ اور کیفین والے مشروبات سے درد بڑھ سکتا ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ دی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات رواں ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔اسرائیلی میڈیا کے دعوے کے مطابق بات چیت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندے آمنے سامنے بیٹھ سکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ ملاقات خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہو سکتی ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران کی نمائندگی محمد باقر قالیباف سمیت دیگر اعلیٰ حکام کر سکتے ہیں، جبکہ امریکی وفد میں اسٹیو وٹکوف، جیراڈ کشنر اور نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت متوقع بتائی جا رہی ہے۔ایک امریکی صحافی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ ترکی، پاکستان اور مصر پسِ پردہ سفارتی رابطوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں تاکہ کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ذرائع کے مطابق مصر اور پاکستان کے اعلیٰ حکام نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں جبکہ بات چیت کا محور جنگ کے خاتمے اور دیگر متنازع امور کا حل بتایا جا رہا ہے۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اشارہ دے چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امکان ہے کہ جلد کوئی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔










