امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے متحدہ عرب امارات کو تقریباً 7 ارب ڈالر مالیت کے جدید ہتھیار فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس معاہدے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت یو اے ای کو تقریباً 5.6 ارب ڈالر کے پیٹریاٹ میزائل سسٹمز اور 1.3 ارب ڈالر کے جدید جنگی ہیلی کاپٹر فراہم کیے جائیں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھ رہی ہے اور خلیجی ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اس سے قبل بھی تین خلیجی ممالک کو مجموعی طور پر 16.5 ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یو اے ای کے صدر محمد بن زاید النہیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، جس میں ایران کے حملوں اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے امارات میں شہریوں اور اہم تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی مذمت بھی کی۔
کویت نیوز ایجنسی (کونا) اور ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ڈرون حملے کے بعد کویت کی ایک آئل ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی ہے۔کویت نیوز ایجنسی (کونا) کے مطابق کویت پیٹرولیم کارپوریشن کا کہنا ہے کہ مینا الاحمدی ریفائنری میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور ’محدود نوعیت کی آگ‘ پر قابو پا لیا گیا ہے، کونا نے رپورٹ کیا۔
سعودی عرب نے ایران کو واضح اور سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی جارحیت کے خلاف اس کا صبر لامحدود نہیں، اور اگر خلیجی ممالک پر حملے فوری بند نہ کیے گئے تو سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
جبکہ مملکت نے کھل کر فوجی کارروائی کا حق بھی محفوظ رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔
سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا کہ امید ہے ایران آج کے پیغام کو سمجھ چکا ہوگا ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مذاکرات کے بجائے دباؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، تاہم یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہوگی بلکہ الٹا نقصان دہ ثابت ہوگی۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ سعودی عرب کسی بھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر ایک طویل پیغام جاری کیا ہے جس میں ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اس اسرائیلی حملے کے بارے میں امریکہ کو ’کچھ معلوم نہیں تھا‘، اور خبردار کیا کہ اگر ایران دوبارہ قطر پر حملہ کرتا ہے تو کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ’غصے میں‘ اسرائیل نے ایک ایسا حملہ کیا جس نے ’مجموعی علاقے کے ایک نسبتاً چھوٹے حصے‘ کو نشانہ بنایا۔
انھوں نے کہا کہ ’ایران ’اس بات سے آگاہ نہیں تھا‘ اور قطر کے راس لفان میں ایل این جی گیس فیسلٹی پر اس کے جوابی حملے ’بلا جواز اور غیر منصفانہ‘ تھے۔‘
انھوں نے ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو انتہائی اہم اور قیمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل دوبارہ اس پر حملہ نہیں کرے گا۔
تاہم ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران قطر پر حملہ کرتا ہے تو امریکہ اس گیس فیلڈ کو ’بڑے پیمانے پر نقصان پہنچائے گا اور اسے تباہ کر دے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ امریکہ کا ایران پر یہ حملہ ایسا ہوگا کہ ایسی طاقت کا استعمال ایران نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ وہ ’تشدد اور تباہی کی اس سطح‘ کی اجازت نہیں دینا چاہتے کیونکہ اس کے ایران پر طویل مدتی اثرات ہوں گے، لیکن اگر قطر کی ایل این جی تنصیبات پر دوبارہ حملہ ہوا تو میں خطرناک حد تک جانے سے نہیں ہچکچاؤں گا۔‘

مکہ مکرمہ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں موسلادھار بارش کے باعث موسم خوشگوار ہوگیا
عمرہ زائرین نے بارش کے باوجود طواف کا سلسلہ جاری رکھا اور عبادات میں مصروف رہے بارانِ رحمت کےدوران مسجد الحرام میں بھی خوب بارش ہوئی،جس سےروح پرورمناظر دیکھنے میں آئے۔عمرہ زائرین نے بارش کے باوجود طواف کا سلسلہ جاری رکھا اور عبادات میں مصروف رہے۔
زائرین نے بارش برسنے پراللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اسے رحمت قراردیا،شہر کے دیگر علاقوں میں بھی بارش کے باعث درجہ حرارت میں کمی آئی اور موسم مزید خوشگوار ہوگیا

سرائیلی حملوں میں شہید جانے والے علی لاریجانی سمیت اہم ایرانی رہنماؤں کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور فضا سوگ اور غم سے بوجھل رہی۔
سرکاری میڈیا کے مطابق سابق سیکیورٹی سربراہ علی لاریجانی، بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی سمیت دیگر افراد کی نمازِ جنازہ انقلاب اسکوائر پر ادا کی گئی، جہاں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔
اسی روز امریکی کارروائی میں نشانہ بننے والے ایرانی بحری جہاز کے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی نمازِ جنازہ بھی ادا کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے سری لنکا کے قریب ایرانی جنگی جہاز کو آبدوز کے ذریعے نشانہ بنایا تھا۔
ادھر ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ فوجی حکام نے خبردار کیا ہے کہ حملوں کا جواب غیر معمولی ہوگا، جبکہ صدر مسعود پزشکیان اور عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ ان ہلاکتوں کا بدلہ ہر صورت لیا جائے گا۔

افغانستان میں آج عیدالفطر مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منائی جا رہی ہے، جہاں ملک بھر میں نماز عید کے بڑے اجتماعات جاری ہیں۔ شہریوں کی بڑی تعداد مساجد اور عیدگاہوں میں شریک ہو کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہی ہے۔
افغان سپریم کورٹ کی جانب سے مختلف صوبوں میں شوال کا چاند نظر آنے کے اعلان کے بعد عیدالفطر آج بروز جمعرات منائی جا رہی ہے۔ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق فرح، ہلمند اور غور سمیت کئی علاقوں میں چاند دیکھے جانے کی تصدیق کی گئی تھی۔
دارالحکومت کابل سمیت مختلف شہروں میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ شہری پرامن ماحول میں عید کی خوشیاں منا سکیں۔ عید کے موقع پر طالبان حکومت نے 4 ہزار 596 قیدیوں کو رہا کرنے اور 4 ہزار 407 قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کا اعلان بھی کیا ہے، جسے عوامی سطح پر خوش آئند اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
افغان حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ عید کی تقریبات کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھا جائے اور سرکاری ہدایات پر عمل کیا جائے۔

عطا تارڑ نےکہا پاکستان کشیدگی میں کمی کیلئے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے، پاکستان نے پہلے بھی تنازعات کےحل کیلئےکامیابی سے ثالثی کاکردار ادا کیا تھا۔ وفاقی وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران پرحملوں کی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان خلیجی ممالک کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے۔
وفاقی وزیر عطا تارڑ نے واضح کیا کہ پاکستان کشیدگی میں کمی کی کوششوں میں حصہ دار بننےکا خواہاں ہے۔
ایران نے بھارت کے سامنے مطالبہ رکھتے ہوئے کہا کہ بھارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنا ہے تو ایران کے تین جہاز واپس بھیجے تاہم بھارت نے ایران کی جانب سے یہ مطالبہ کیے جانے کی تردید کی ہے۔
یاد رہے ایران کے تیل سے بھرے تین جہاز بھارت نے جنگ شروع ہونے سے پہلے اس وقت قبضے میں لیے تھے جب بھارت کی امریکا کے ساتھ تجارتی ڈیل ہو رہی تھی۔
خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایران نے اپنے تین بحری جہازوں کی واپسی کے ساتھ بھارت سے دواؤں اور طبی آلات کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا ہے، اس وقت 22 بھارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں۔

واشنگٹن: ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران اتحادی ممالک کی جانب سے مدد کی درخواستیں مسترد ہونے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایک طاقتور ملک ہونے کے ناطے امریکا اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں۔انہوں نے نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد اس وقت ایک بڑی غلطی کر رہا ہے اور اسے اس صورتحال میں امریکا کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا۔فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے آبنائے ہرمز سے متعلق کسی فوجی کارروائی میں شامل نہ ہونے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میکرون جلد عہدہ چھوڑ دیں گے۔ٹرمپ نے جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک امریکا کے مؤقف سے متفق تھے، لیکن مشکل وقت میں انہوں نے عملی مدد فراہم نہیں کی۔یاد رہے کہ برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا، جاپان، جنوبی کوریا اور چین پہلے ہی آبنائے ہرمز سے متعلق کسی ممکنہ کارروائی میں شرکت سے انکار کر چکے ہیں۔