اماراتی حکام کے مطابق عید الفطر کی نماز صرف مساجد کے اندر ادا ہوگی، کھلے میدانوں میں عید کی نماز کی اجازت نہیں ہو گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عوام کی حفاظت کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی تمام مساجد میں اس حوالے سے کیے گئے تمام انتظامات مکمل ہیں، عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل کریں۔
دوسری جانب عید الفطر کا چاند دیکھنے کے لیے امارات اور سعودی عرب میں اجلاس آج ہوں گے۔
ایران کی طاقتور سیاسی و سکیورٹی شخصیت علی لاریجانی اسرائیل کے ہونے والے فضائی حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ جبکہ ایران کی اندرونی سیکیورٹی کے اہم کمانڈر اور بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی اسرائیل کے حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا نے بھی ان کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے جبکہ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی ریجانی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی ایک پوسٹ کی گئی ہے جس میں ان کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ، خدا کا بندہ خدا سے جا ملا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق تہران میں ایک خفیہ ٹھکانے پر اسرائیلی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے علی لاریجانی کو نشانہ بنایا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی حکام نے انہیں ایران کا ڈی فیکٹو لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد عملی طور پر قیادت سنبھال چکے تھے، اسرائیل نے ان کی شہادت کو ایرانی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے منصوبے کا اہم حصہ قرار دیا تھا۔
علاوہ ازیں اسرائیل کے ایک اور علیحدہ حملے میں ایران کی بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کو بھی شہید کر دیا گیا، جو اندرونی سکیورٹی کے اہم ترین کمانڈرز میں شمار ہوتے تھے
امارتی حکام کے مطابق اماراتی فضائی دفاع نے بیلسٹک میزائل حملے کو ناکام بنایا ، ابوظبی کے علاقے بنی یاس میں میزائل کے ٹکڑے گرے جس کے نتیجے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق ہو گیا۔
متحدہ عرب امارات میں حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 7 ہوگئی ہے، حالیہ کشیدگی میں تین پاکستانی شہری مارے جاچکے ہیں، ایک پاکستانی دبئی میں جبکہ 2 ابوظبی میں جاں بحق ہوئے۔
افغان طالبان کی جانب سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کا پردہ چاک ہوگیا، جہاں اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف ہوا ہے۔وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے کیے گئے فیکٹ چیک کے مطابق جس امید اسپتال کو افغان طالبان کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہ دراصل کیمپ فینکس (Camp Phoenix) سے کئی کلومیٹر دور واقع ہے۔وزارت اطلاعات کے مطابق اصل ہدف ایک عسکری مقام تھا جہاں دہشتگردوں کے اسلحہ اور بارود کا ذخیرہ موجود تھا، جسے گزشتہ رات درست نشانہ بنایا گیا۔تصاویر سے بھی واضح ہے کہ اصل اسپتال ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے جبکہ نشانہ بنائی گئی جگہ کنٹینرز پر مشتمل عسکری/دہشت گرد انفرا اسٹرکچر تھا۔ یہ فرق خود ہی حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر یہ واقعی منشیات کے عادی افراد کے علاج کا مرکز تھا تو پھر اسے ایک ایسے فوجی کیمپ میں کیوں قائم کیا گیا جہاں مہلک اسلحہ اور بارود ذخیرہ کیا جاتا ہو؟ یہ تضاد خود اس دعوے کی حقیقت پر سوال اٹھاتا ہے۔وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی جانب سے ڈیلیٹ ویڈیو پر سوال اٹھا دیےوزارتِ اطلاعات و نشریات نے ایک اور اہم فیکٹ چیک جاری کرتے ہوئے افغان سرکاری سوشل میڈیا ہینڈل سے ایک پوسٹ اور ویڈیو ڈیلیٹ کیے جانے پر گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔مذکورہ آفیشل اکاؤنٹ کی جانب سے سب سے پہلے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ کسی منشیات بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم بعد ازاں اس متنازع پوسٹ کو اچانک ہی ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے
وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے عیدالفطر کے پیش نظر اپنے طور پر اور برادر اسلامی ممالک کی درخواست پر افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن غضب اللحق میں 5 روز تک عارضی طور پر وقفہ کردیا ہے۔وفاقی وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ عیدالفطر کے پیش نظرحکومت پاکسان نے اپنے طور پر اقدام کرتے ہوئے اور برادر اسلامی ممالک سعودی عرب، قطر اور ترکی کی درخواست پر افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کو مدد فراہم کرنے والے ڈھانچے کے خلاف جاری آپریشن غضب اللحق میں عارضی طور پر وففے کے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپریشن غضب للحق میں وقفہ 18 اور 19 مارچ 2026 کی درمیانی شب سے 23 اور 24 مارچ 2026 کی درمیانی شب تک لاگو ہوگا۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان یہ وقفہ نیک نیتی اور اسلامی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کر رہا ہے تاہم سرحد پار سے کسی بھی حملے، ڈرون حملے یا دہشت گردی کے واقعے پر’آپریشن غضب للحق’ فوری دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں اور ایران کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے بعد سے وہاں پھنسے پاکستانی شہریوں کی سڑک کے راستے واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ 28 فروری سے لے کر گذشتہ روز تک ایران سے پانچ ہزار 615 پاکستانی شہری ضلع چاغی اور گوادر کے راستے واپس پہنچ چکے ہیں۔
سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ پاکستانی شہریوں کے علاوہ دو ہزار 117 ایرانی ڈرائیورز اور 431 دیگر ممالک کے شہری بھی ایران سے پاکستان میں داخل ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ واپس آنے والوں کو گوادر اور چاغی کے انتظامیہ نے ہر ممکن سہولت فراہم کی۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ بلوچستان حکومت دونوں سرحدی گزرگاہوں پر مسافروں کو ہر ممکن معاونت کی فراہمی کے لیے متحرک ہے۔










