چین نے پاکستان اور افغانستان کے مابین گزشتہ 10 دنوں سے جاری کشیدگی ختم کرانے کیلیے کوششیں شروع کردی ہیں۔اس کیلئے چین کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان یو شیاؤ یونگ کو کابل بھیج دیا ہے جہاں انھوں نے اتوارکو افغانستان کے وزیرخارجہ امیرخان متقی سے ملاقات کی ہے۔اس ضمن میں افغان وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ملاقات میں ملا امیرخان متقی اور یو شیاؤ یونگ کے درمیان دوطرفہ تعاون اور خطے کی خراب ہوتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چینی مندوب نے افغان حکومت پر زوردیا کہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے ختم کیا جائے،دونوں ملکوں میں کشیدگی کا خاتمہ خطے کے استحکام اور سلامتی کیلیے ضروری ہے۔یو شیاؤ یونگ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک حالات کو بہتر بنانے کیلیے دونوں ملکوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔چین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان کے یہ دورہ ایسے موقع پر ہورہا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی جھڑپیں جاری ہیں،پاکستان افغانستان کے اندرزمینی و فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔اسلام آباد میں پاکستانی حکام کاکہنا ہے کہ افغان حکومت سرحد پار سے دہشتگرد گروپوں کو لگام ڈالنے میں ناکام رہی ہے لہٰذا فوجی کارروائی کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں۔افغانستان کے اندرٹی ٹی پی کی پناہ گاہیں ہیں جہاں سے وہ پاکستان کے اندر آکر کارروائیاں کرتی ہے۔پاکستان بارہا افغان حکومت کو باور کرا چکا ہے کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کرے لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔رپورٹ کے مطابق مشرقی وسطیٰ میں جاری جنگ اور امریکا کی آبنائے ہرمز کھولنے میں ناکامی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی فی بیرل قیمت 100 ڈالر سے بڑھ گئی۔برینٹ خام تیل کی قیمت 23فیصد اضافےسے114.36ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی خام تیل 27فیصد بڑھ کر 115.11 ڈالر فی بیرل کا ہوگیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ طویل ہوئی تو تیل 120 ڈالر فی بیرل تک جا سکتا ہے۔
اسرائیلی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 1900 سے زائد زخمی افراد اسرائیل کے مختلف اسپتالوں میں لائے جا چکے ہیں۔وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 157 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 13 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 112 زخمی اب بھی اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔اسرائیلی ریسکیو سروسز کے مطابق ایران کی جانب سے تل ابیب پر کیے گئے تازہ میزائل حملے میں 6 افراد زخمی ہوئے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وسطی اسرائیل میں ایک درجن سے زائد مقامات پر میزائل یا اس کے ٹکڑے گرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔ حکام کے مطابق مختلف مقامات پر ہونے والے دھماکوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر ایرانی بیلسٹک میزائل میں کلسٹر بم وارہیڈ نصب تھا۔دوسری جانب جنوبی لبنان میں لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے حملے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے۔اسرائیلی فوج کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سارجنٹ فرسٹ کلاس ماہر خطار شامل ہیں جبکہ دوسرے فوجی کا نام بعد میں جاری کیا جائے گا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جنوبی لبنان میں ایک فوجی چوکی کے قریب پیش آیا جو اسرائیلی سرحدی بستی منارا کے سامنے واقع ہے۔ابتدائی فوجی تحقیقات کے مطابق علاقے میں کارروائی کے دوران ایک پیوما بکتر بند گاڑی کو نکالنے کے لیے فوج نے ایک اور پیوما گاڑی اور دو ڈی 9 بکتر بند بلڈوزر بھیجے تھے۔فوج کے مطابق بلڈوزروں میں سے ایک کو ایک گولہ لگا جو ممکنہ طور پر اینٹی ٹینک میزائل یا مارٹر تھا، جس کے بعد گاڑی میں آگ لگ گئی اور دونوں فوجی ہلاک ہو گئے جبکہ ایک افسر معمولی زخمی ہوا
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں، جو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہید ہو گئے تھے۔رپورٹس کے مطابق 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کی مجلس خبرگان نے نئے سپریم لیڈر کے طور پر منتخب کیا۔ یہ 88 ارکان پر مشتمل مذہبی ادارہ ہے جو ایران کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار رکھتا ہے۔علی خامنہ ای 28 فروری کو تہران میں اپنے کمپاؤنڈ پر ہونے والے فضائی حملے میں مارے گئے تھے، اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای کی والدہ، اہلیہ اور ایک بہن بھی شہید ہو گئی تھیں، تاہم مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔مجلس خبرگان نے اپنے بیان میں ایرانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نئی قیادت کی حمایت کریں اور قومی اتحاد کو برقرار رکھیں۔مجتبیٰ خامنہ ای کئی دہائیوں سے ایرانی قیادت کے قریبی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں، انہیں ایران کی طاقتور فوجی تنظیم اسلامی پاسداران انقلاب (IRGC) کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والا رہنما سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے کبھی کسی عوامی انتخاب میں حصہ نہیں لیا اور عام طور پر عوامی تقریروں یا سیاسی بیانات سے بھی گریز کرتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے ایرانیوں نے کبھی ان کی آواز بھی نہیں سنی۔گزشتہ کئی برسوں سے انہیں اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا تھا تاہم بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی تقرری سے ایران میں خاندانی طرز کی قیادت کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے، جو 1979 کے ایرانی انقلاب سے پہلے کی پہلوی بادشاہت سے مشابہت رکھتا ہے۔مجتبیٰ خامنہ ای پر ماضی میں ایرانی حکومت مخالف مظاہروں کو سختی سے دبانے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں، خاص طور پر 2009 کی گرین موومنٹ کے دوران جب متنازع صدارتی انتخابات کے بعد ملک بھر میں احتجاج ہوا تھا۔فی الحال ایران میں شدید جنگی صورتحال کے باعث اطلاعات کا بہاؤ محدود ہے اور حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ پر پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں، جس کے باعث نئی قیادت سے متعلق مزید تفصیلات واضح نہیں ہو سکیں
امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں اقتدار کی بڑی تبدیلی سامنے آگئی ہے۔ریاستی میڈیا کے مطابق ماہرین کی مجلس خبرگان (اسمبلی آف ایکسپرٹس) نے آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا ہے۔88 رکنی مجلس خبرگان نے بھاری اکثریت سے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کیا، وہ امام خمینی اور آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ملک کے تیسرے سپریم لیڈر ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے نے بھی ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے خبر دی ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو باضابطہ طور پر ایران کی اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی قیادت سونپ دی گئی۔مجتبیٰ خامنہ ای ایک درمیانے درجے کے مذہبی عالم ہیں اور انہیں ایران کی طاقتور اسلامی انقلابی گارڈز (IRGC) کے ساتھ قریبی تعلقات کے باعث طویل عرصے سے اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔رپورٹس کے مطابق ایران کی حکومتی اشرافیہ کے بعض حلقے پہلے ہی مجتبیٰ خامنہ ای کو قیادت کے لیے موزوں سمجھتے تھے جبکہ ان کے والد کے دفتر اور اثر و رسوخ رکھنے والے حلقوں کی حمایت بھی انہیں حاصل تھی۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کا انقلابی نظریہ موروثی اقتدار کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا تاہم موجودہ حالات میں مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری ایران کی طاقت کے مراکز خاص طور پر انقلابی گارڈز کی حمایت کے باعث ممکن ہوئی۔
گوگل کی سرپرست کمپنی الفابیٹ کے چیف ایگزیکٹو (سی ای او) سندر پچائی کی آمدنی میں حیران کن حد تک اضافہ ہونے والا ہے۔
امریکی حکومت کے پاس جمع کرائی گئی ریگولیٹری فائلنگ سے انکشاف ہوا ہےکہ آئندہ 3 برسوں میں الفابیٹ کی جانب سے سندر پچائی کو اربوں روپوں کا معاوضہ ادا کیا جائے گا۔
یو ایس سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمپیشن میں جمع کرائی گئی فائلنگ کے مطابق اگلے 3 برسوں میں سندر پچائی کو 69 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز (ایک کھرب 92 ارب پاکستانی روپے سے زائد) کمپنی کی جانب سے ادا کیے جائیں گے۔
اس میں سے زیادہ تر معاوضہ کارکردگی سے منسلک ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ تنخواہ کے اس پیکج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آئندہ 3 برسوں میں الفابیٹ کے نئے منصوبے کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔
امریکی خفیہ اداروں کی ایک مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر فوجی حملوں کے باوجود ایران میں حکومت کی تبدیلی ممکن نہیں۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایک خفیہ انٹیلیجنس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ وسیع فوجی کارروائی بھی ایران کی موجودہ سیاسی اور فوجی قیادت کو ہٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔رپورٹ کے مطابق یہ تجزیہ نیشنل انٹیلجنس کونسل کے سینئر ماہرین نے تیار کیا ہے، جو امریکا کی 18 انٹیلیجنس ایجنسیوں سے حاصل معلومات کی بنیاد پر خفیہ رپورٹس مرتب کرتے ہیں۔اخبار کے مطابق یہ رپورٹ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے آغاز سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے مکمل کی گئی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو قتل بھی کر دیا جائے تو ایرانی مذہبی اور فوجی قیادت پہلے سے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق فوری ردعمل دے گی۔اس کے علاوہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی اپوزیشن کے ملک پر کنٹرول حاصل کرنے کے امکانات بھی بہت کم ہیں اور ملک کے اندر اس وقت کوئی بڑی عوامی بغاوت یا حکومتی تقسیم نظر نہیں آتی۔ماہرین کے مطابق ایران کی مذہبی اور فوجی قیادت کا اب بھی ملک پر مضبوط کنٹرول ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی
ایران کی طاقتور مذہبی کونسل مجلسِ خبرگان کے ایک رکن نے کہا ہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب کے معاملے پر اکثریتی اتفاق رائے ہو چکا ہے۔مجلس خبرگان کے رکن آیت اللہ محمد مہدی میرباقری نے ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر کو بتایا کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے کافی پیش رفت ہو چکی ہے، تاہم اس عمل میں ابھی کچھ رکاوٹیں باقی ہیں جنہیں دور کیا جا رہا ہے۔ایران کے آئین کے مطابق ملک کے سپریم لیڈر کا انتخاب 88 رکنی مجلس خبرگان کرتی ہے۔علی خامنہ ای جو تقریباً 37 سال تک ایران کے سپریم لیڈر رہے، وہ 28 فروری کو تہران میں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہید ہو گئے تھے۔ یہ حملہ اس جنگ کے آغاز میں ہوا جو اب مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک تک پھیل چکی ہے۔اس دوران اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر مجلس خبرگان کے ارکان نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے اجلاس منعقد کرتے ہیں تو انہیں بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق مجلس خبرگان کے ایک اور رکن حجت الاسلام جعفری نے کہا ہے کہ ایرانی عوام جلد ہی اس فیصلے سے مطمئن ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نئے رہنما کے انتخاب میں تاخیر سب کے لیے پریشان کن ہے لیکن موجودہ حالات میں احتیاط ضروری ہے۔مجلس خبرگان کے رکن آیت اللہ محسن حیدری آل کثیر نے بھی کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ارکان کا روایتی اجلاس منعقد کرنا ممکن نہیں، تاہم ایک امیدوار پہلے ہی منتخب کیا جا چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ انتخاب خامنہ ای کی اس نصیحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے کہ ایران کا سپریم لیڈر ایسا ہونا چاہیے جسے دشمن پسند نہ کرے بلکہ اس سے خوفزدہ ہو۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کے ممکنہ سپریم لیڈر کے طور پر قبول نہ کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
چین نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی مخالفت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ جنگ شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی اور طاقت کا استعمال کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی سے متعلق منصوبے کو عالمی سطح پر حمایت حاصل نہیں ہوئی۔ چین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران اور خلیجی ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کیا جانا چاہیے۔چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے میں جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنا ضروری ہے اور بڑی عالمی طاقتوں کو اس معاملے میں تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔واضح رہے کہ اس سے قبل روس نے بھی ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر جنگ بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
ریاض: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران سعودی عرب نے پہلی بار ایران کو براہِ راست جوابی کارروائی کی وارننگ دے دی اور واضح کیا ہے کہ اگر مملکت یا اس کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو ریاض خاموش نہیں بیٹھے گا۔برطانوی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے تہران کو پیغام دیا ہے کہ ریاض اب بھی ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کا سفارتی حل چاہتا ہے، تاہم مملکت کی سلامتی یا آئل تنصیبات پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک نے اب تک ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے امریکا کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی، لیکن اگر خطے میں حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو سعودی عرب امریکی افواج کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر غور کر سکتا ہے۔دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیوں کا ہدف خلیجی ممالک نہیں بلکہ خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی اہداف ہیں۔ تہران نے مطالبہ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بند کیا جائے۔










