ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان لبنان میں اسرائیلی حملوں سے بھاری جانی نقصان اور انفراسٹرکچر کی تباہی کی شدید مذمت کرتا ہے۔ پاکستان لبنانی حکومت اور عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑا ہے۔نے ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہی نہیں بلکہ خطے میں جاری امن کوششوں کو نقصان بھی پہنچا رہے ہیں۔ پاکستان نے لبنانی آزادی و علاقائی خود مختاری اور امن و استحکام کی مکمل حمایت کا اعادہ بھی کیا ہےس کے علاوہ پاکستان اور سعودی عرب نے لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاک سعودی وزرائے خارجہ نے دیرپا امن و استحکام کیلئے جنگ بندی کا مکمل احترام و نفاذ ناگزیر قرار دیا ہےنائب وزیراعظم ووزیرخارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سےٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ونوں رہنماؤں نے لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دیرپا امن و استحکام کو یقینی بنانےکیلئے جنگ بندی کے مکمل احترام اور نفاذ کی فوری ضرورت ہے۔ اسحاق ڈار نے پائیدار امن کے کیلئے پاکستان کی کوششوں کی سعودی عرب کی مسلسل حمایت کو سراہا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر ’حتمی معاہدے‘ کی پوری طرح تعمیل نہیں ہوئی تو ’شوٹنگ‘ دوبارہ شروع ہو جائے گی۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ جب تک ایک حقیقی اور حتمی معاہدہ نہیں ہو جاتا تب تک پہلے سے تباہ شدہ دشمن کے خاتمے کے لیے ضروری تمام امریکی بحری اور ہوائی جہاز، اور فوجی عملہ اضافی گولہ بارود، ہتھیار، اور اس کے لیے درکار ہر چیز کے ساتھ ایران کے آس پاس موجود رہیں گے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر کسی بھی وجہ سے معاہدہ نہیں ہوتا ہے، جس کے امکانات بہت کم ہیں، تو ایسی صورت میں دوبارہ ’شوٹنگ شروع ہو جائے گی‘ جو پہلے سے کہیں بڑے پیمانے پر ہو گی۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ اس بات پر بہت پہلے اتفاق ہو چکا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں ہو گی اور آبنائے ہرمز محفوظ آمدورفت کے لیے کھولا جائے گا

ایران کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر شدید اور بڑے پیمانے پر فضائی حملے جاری رکھے ہیں، جن کے نتیجے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں خطرناک اضافہ ہو گیا ہے۔
لبنان کی سول ڈیفنس اور وزارتِ صحت کے مطابق ملک بھر میں اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 254 افراد جاں بحق جبکہ 1100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کے باعث اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق دارالحکومت بیروت میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا، جہاں 92 افراد جاں بحق اور 742 زخمی ہوئے، جبکہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں 61 افراد جاں بحق اور 200 زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ بعلبک میں 18، ہرمیل میں 9، نبیطہ میں 28، سدون میں 12 اور طیر میں 17 افراد جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔لبنانی وزارت صحت کے مطابق صرف ایک دن کے دوران ہونے والے حملوں میں 112 افراد جاں بحق اور 800 سے زائد زخمی ہوئے، جس کے بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور عوام سے خون کے عطیات دینے کی اپیل کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن مذاکرات کے سلسلے میں غیر ملکی وفود کی آمد کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جس کے تحت متعدد اہم شاہراہوں کو مختلف اوقات میں بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق 9 اور 10 اپریل کو شہر کے مختلف راستوں پر ٹریفک کی روانی متاثر رہے گی تاہم شہریوں کی سہولت کے لیے متبادل راستوں کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق زیرو پوائنٹ سے فیصل ایونیو تا کورال چوک ایکسپریس وے دونوں اطراف سے بند رہے گی جبکہ کرنل شیر خان روڈ سے فیض آباد آنے والوں کو نائنتھ ایونیو سگنل کے ذریعے اسٹیڈیم روڈ استعمال کرنے کا کہا گیا ہے۔ مزید برآں، پشاور سے لاہور جانے والی ہیوی ٹریفک کو ٹیکسلا موٹر وے اور ترنول پھاٹک کے راستے فتح جنگ موٹر وے کی طرف موڑا جائے گا، جبکہ لاہور سے اسلام آباد اور راولپنڈی آنے والی بھاری ٹریفک کو چک بیلی روڈ کے ذریعے چکری موٹر وے کی طرف منتقل کیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق دو دنوں کے لیے اسلام آباد میں ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کا داخلہ مکمل طور پر بند رہے گا، جبکہ ریڈ زون میں عام شہریوں کی آمد و رفت پر بھی مکمل پابندی عائد ہوگی۔ ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور جاری کردہ متبادل راستوں کا استعمال کر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان پاکستان اہم سفارتی کردار ادا کرنے جا رہا ہے جہاں جے ڈی وینس اور ایرانی قیادت پر مشتمل وفود آج اسلام آباد پہنچیں گے
ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج رات کے وقت اسلام آباد پہنچیں گے۔
ان کے ہمراہ اہم امریکی شخصیات اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی ہوں گے جو ایران کے ساتھ متوقع مذاکرات میں حصہ لیں گے۔
بتایا گیا ہے کہ امریکی ٹیم کی معاونت کے لیے 23 رکنی عملہ پہلے ہی وفاقی دارالحکومت پہنچ چکا ہے جس میں سکیورٹی اور سفارتی امور کے ماہرین شامل ہیں۔
دوسری جانب ایران کی نمائندگی کے لیے محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی آج رات اسلام آباد پہنچیں گے جہاں دونوں ممالک کے درمیان اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔
قبل ازیں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بتایا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کے لیے خصوصی وفد پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جو ہفتے کی صبح باضابطہ مذاکرات کا آغاز کرے گا۔
ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی پاکستانی وزیراعظم کو اعتماد میں لیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایران کا اعلیٰ سطحی وفد مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ رہا ہے.

امریکا نے اپنے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر شہریوں کو اگلے ماہ حج کے لیے سعودی عرب کا سفر کرنے پر نظرثانی پر زور دیا ہے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم امریکی سفارت خانے سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سیکیورٹی خدشات کے باعث اگلے ماہ حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب کا سفرہ کرنے کا جائزہ لیں۔
بیان میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی وجہ سے سعودی عرب کا سفر کرنے سے گریز کرنے کے لیے حال ہی میں جاری کی گئی ٹریول ایڈوائزری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خطے میں جاری سیکیورٹی کی صورت حال اور بین الاقوامی سفری خلل کے باعث ہم ہدایت کرتے ہیں کہ رواں برس حج کی ادائیگی کےلیے نظر ثانی کریں۔
امریکی سفارت خانے کی جانب سے کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو امریکی شہریوں کی حفاظت سلامتی سے بڑھ کوئی اور ترجیح نہیں ہے۔
مزید بتایا گیا کہ سعودی عرب کے لیے جاری ٹریول ایڈوائزری کے تحت ہم امریکی شہریوں کو سعودی عرب کے دورے سے احتیاط کریں اور سیکیورٹی صورت حال سفری تعطل کی وجہ سے ہم رواں برس حج کی ادائیگی کے فیصلے کر نظرثانی کریں۔
بیان میں کہا گیا کہ18 اپریل کو مکہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے افراد کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ حج پرمٹ، مکہ سے جاری ریزیڈنسی شناختی کارڈ، یا مکہ کا ورک پرمٹ پیش کریں۔
امریکی سفارت خانے نے کہا ہے کہ دیگر ویزا رکھنے والوں کو 18 اپریل سے پہلے مکہ چھوڑ دینا چاہیے، یہ اقدامات جون کے اوائل سے وسط تک نافذ العمل رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی سفارت خانہ اور قونصل خانے تمام معمول کی قونصلر خدمات معطل کر چکے ہیں اور امریکی شہریوں کے لیے محدود ہنگامی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت آج اچانک بڑے اضافے کے ساتھ مزید بلند ہو گئی۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج بدھ کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 157ڈالر کا بڑا اضافہ ریکارڈ ہوا، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4ہزار 814ڈالر کی سطح پر آگئی ۔
عالمی مارکیٹ کے زیر اثر مقامی صرافہ بازاروں میں بھی 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں یکدم 15ہزار 700روپے کا بڑا اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں نئی قیمت 5لاکھ 4ہزار 162روپے کی سطح پر آگئی۔
اسی طرح ملک میں فی 10 گرام سونے کی قیمت 13ہزار 460روپے بڑھ کر 4لاکھ 32ہزار 237روپے کی سطح پر آگئی۔
سونےکی قیمتوں کے ساتھ ساتھ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 440 روپے کے اضافے سے 8ہزار 184 روپے کی سطح پر آگئی اور اسی طرح فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 377روپے کے اضافے سے 7ہزار 016روپے کی سطح پر آگئی۔

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے میں پاکستان کے کلیدی کردار پر عالمی سطح پر اسے سراہا جا رہا ہے اور سابق اطالوی وزیراعظم پاؤلو جینٹیلونی سمیت متعدد عالمی شخصیات نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت کو نوبل امن انعام دینے کی تجویز پیش کر دی ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے پورے خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈال دیا تھا، اس کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔عالمی رہنماؤں اور مبصرین نے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے کردار کو خصوصی طور پر اجاگر کیا ہے، جن کی مربوط کوششوں سے لاکھوں جانیں بچانے اور خطے کو بڑی تباہی سے نکالنے میں مدد ملی۔اٹلی کے سابق وزیراعظم اور یورپی یونین کے کمشنر پاؤلو جینٹیلونی نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان نے جس طرح عالمی امن کے لیے ثالث کا کردار ادا کیا، اس پر وہ شاید نوبل امن انعام کا مستحق ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان یہ جنگ بندی وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر عمل میں آئی، جس کے بعد دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر آنے پر آمادہ ہوئے۔عالمی برادری کی جانب سے ان سفارتی کوششوں کی ستائش کا سلسلہ جاری ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اس مداخلت نے نہ صرف کشیدگی کم کی بلکہ مستقبل میں مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کی ایک نئی راہ ہموار کی ہے۔دنیا بھر کے رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح کی سفارتی کامیابیوں سے پرتشدد خطوں میں امن کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر لبنان سمیت مختلف خطوں میں فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مطابق یہ جنگ بندی فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے جسے خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ اقدام دانشمندی اور دور اندیشی کا مظہر ہے۔
وزیرِ اعظم نے اعلان کیا کہ ایران اور امریکا کے وفود کو جمعہ، 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد مدعو کیا گیا ہے تاکہ تمام تنازعات کے حتمی حل کے لیے مزید مذاکرات کیے جا سکیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ دونوں فریقین نے غیر معمولی فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن و استحکام کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن کے حصول میں اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے اور آنے والے دنوں میں مزید مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔

دونوں ممالک کے درمیان مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات اسلام آباد میں جمعہ سے شروع ہوں گے

امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد دنیا بھر کے ممالک نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے قیام پر زور دیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ اس جنگ بندی کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری گزرگاہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات اسلام آباد میں جمعہ سے شروع ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے کی مکمل پابندی کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔

انہوں نے شہریوں کے تحفظ اور انسانی نقصان کو کم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔