Sports

شاہین آفریدی کو مستقل طور پر ٹیسٹ ٹیم سے ڈراپ کرنے کا فیصلہ

پاکستان کرکٹ بورڈ نے لاہور میں 49 کھلاڑیوں کو کیمپ میں مدعو کیا ہے جس میں 22 کھلاڑی ٹیسٹ اور 27 کھلاڑیوں کو ون ڈے اور ٹی 20 کیمپ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔وائٹ بال ٹیم کا کیمپ 18 ستمبر جبکہ ریڈ بال کھلاڑیوں کا کیمپ 10 جولائی تک چلے گا، ویسٹ انڈیز کے دورے کے لیے ممکنہ طور پر کیمپ 15 جولائی سے شروع ہوگا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے تھنک ٹینک نے ون ڈے ٹیم کے کپتان شاہین آفریدی کو ٹیسٹ ٹیم کے کیمپ میں منتخب نہیں کیا، ان کا نام وائٹ بال کیمپ کے 27 کھلاڑیوں میں شامل ہے اور توقع ہے کہ وہ 15 جون کو کیمپ میں رپورٹ کریں گے۔خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے 26 سال کے شاہین آفریدی نے دسمبر 2017 میں پہلا ٹیسٹ شیخ زید کرکٹ اسٹیڈیم ابوظبی میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلا تھا جب کہ آخری ٹیسٹ انہوں نے مئی 2026 میں بنگلادیش کے خلاف میرپور میں کھیلا، 34 ٹیسٹ میں انہوں نے 1114 اوورز کے دوران 3545 رنز کے عوض 126 وکٹیں اپنے نام کیں۔شاہین نے آخری ٹیسٹ بنگلادیش کے خلاف کھیلا جہاں پاکستان کو میزبان کے ہاتھوں 104 رنز کی شکست کا سامنا کر نا پڑا تھا، اس ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بائیں ہاتھ کے بولر نے 31.1 اوورز میں 3/113 ج بکہ دوسری اننگز میں 16 اوورز کے دوران 2/54 کی پرفارمنس پیش کی تھی، جس کے بعد سلہٹ کے دوسرے ٹیسٹ میں فاسٹ بولر کو ڈراپ کر کے خرم شہزاد کو ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔دورۂ بنگلادیش میں شاہین آفریدی کی بولنگ رفتار پر شدید تنقید کی گئی تھی، لاہور قلندرز کے لیے 140 پلس کی رفتار سے گیند کرنے والے بائیں ہاتھ کے تیز بولر دورۂ بنگلادیش میں بمشکل 134 کلومیڑ کی رفتار سے گیند کروا پائے تھے۔محض 17 سال کی عمر میں کے آر ایل کے لیے راولپنڈی کے خلاف پہلا فرسٹ کلاس میچ کھیلنے والے شاہین آفریدی کے حوالے سے بورڈ کو اس متعلق شدید تحفظات ہیں کہ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ نہیں کھیلتے اور چار دن کی کرکٹ کھیلے بغیر ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی بولنگ میں بہتری کے امکانات کم ہیں۔ اسی بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ ون ڈے ٹیم کے کپتان کو مستقبل میں ٹیسٹ ٹیم کے لیے منتخب نہیں کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *