World

: ٹرمپ کی ایران کو آخری وارننگ، معاہدہ نہ کیا تو نتائج بھگتنا ہوں گے : خلیجی ممالک کی درخواست پر فوجی کارروائی مؤخر، سفارت کاری کو آخری موقع دینے کا اعلان : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔ ٹرمپ کے مطابق خلیجی ممالک کی درخواست پر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی مؤخر کی گئی تاکہ سفارت کاری کو ایک اور موقع دیا جا سکے۔ وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ کئی ممالک نے ایران کو آخری موقع دینے کی درخواست کی، تاہم اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھیں گے، جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور جوہری پروگرام سے متعلق معاملات کو ممکنہ معاہدے کا حصہ قرار دیا۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ مذاکرات امریکا کے بجائے عمان کے ذریعے ہو رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔ ٹرمپ کے مطابق خلیجی ممالک کی درخواست پر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی مؤخر کی گئی تاکہ سفارت کاری کو ایک اور موقع دیا جا سکے۔

وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ کئی ممالک نے ایران کو آخری موقع دینے کی درخواست کی، تاہم اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھیں گے، جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور جوہری پروگرام سے متعلق معاملات کو ممکنہ معاہدے کا حصہ قرار دیا۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ مذاکرات امریکا کے بجائے عمان کے ذریعے ہو رہے ہیں۔

Newer
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 7 فیصد کمی، خام تیل کی قیمت 4.33 ڈالر کم ہو کر 80.34 ڈالر فی بیرل ہوگئیں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد برینٹ اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمتیں 13 جولائی کے بعد اپنی کم ترین سطح پر بند ہوئیں۔مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق کاروبار کے اختتام پر برینٹ خام تیل کی قیمت 6.35 ڈالر کمی کے بعد 83.77 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 4.33 ڈالر کم ہو کر 80.34 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں یہ نمایاں کمی ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکی محکمہ توانائی کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکا کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں خام تیل کے ذخائر 1983 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اسٹریٹجک ذخائر سے 172 ملین بیرل خام تیل جاری کرنے کی منظوری ہے، جس کے بعد ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ صرف ذخائر ہی نہیں بلکہ جغرافیائی سیاسی حالات، سپلائی اور طلب، اوپیک پلس کی پالیسیوں اور عالمی معیشت کی رفتار سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق آئندہ چند روز میں سرمایہ کار امریکا کے تیل کے ذخائر، اوپیک پلس کے فیصلوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھیں گے، کیونکہ یہی عوامل عالمی تیل کی قیمتوں کا رخ متعین کریں گے
Back to list

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *